Home / پاکستان / شہر قائد / زمینوں کی لوٹ مار, اہم سیاسی شخصیات کو بچانے کا منصوبہ

زمینوں کی لوٹ مار, اہم سیاسی شخصیات کو بچانے کا منصوبہ

کراچی (رپورٹ: عمران علی شاہ) زمینوں کی لوٹ مار اور کوڑیوں کے مول من پسند اہم شخصیات کو فروخت کرنے میں ملوث افسران اور اہم سیاسی شخصیات کو بچانے کے منصوبے پر عمل شروع ہوگیا،ہاکس بے پر مبینہ جعلسازی کے ذریعے 10ارب مالیت کی تقریبا162 ایکٹر اراضی کی کوڑیوں کے مول الاٹمنٹ کا بھانڈا پھوٹنے کے بعد سندھ حکومت کی نیب کو تحقیقات سے مبینہ طور پر دور رکھنے کیلئے اینٹی کرپشن کو بھرپور انداز سے متحرک کردیا گیا، سابق ڈی جی ایل ڈی اے بدر جمیل مندھرو کو بچانے کے لیے انہیں کے ڈی اے میں تعینات کیا گیا بلکہ انہیں کرپشن سسٹم چلانے پر نوزتے ہوئے 21 گریڈ میں ترقی دے دی گئی جبکہ ایک اورچہیتے افسر ممبر ایل یو دانش سعید سے 20سوالات کے جوابات بھی ہاتھوں ہاتھ وصول کئے گئے،کراچی کی قیمتی اراضی جعلسازی اور عدلیہ کو گمراہ کر کے انتہائی منظم انداز سے ٹھکانے لگائے جانے کا انکشاف،ہاکس بے کی مذکورہ قیمتی اراضی کے ساتھ کورنگی میں بھی ایک اور قیمتی اراضی ٹھکانے لگائے جانے کی تیاریاں جاریں، بدر جمیل میندھرو کی ڈی جی کے ڈی اے کے عہدے پر تعیناتی کو بھی سینئر افسران نے سسٹم کا کارنامہ قرار دیدیا،جس کے تحت سندھ حکومت نے اپنے افسران کو کے ڈی اے کے اہم عہدوں پر تعینات بھی کرنا شروع کر دیا ہے۔اور اس میں ڈی جی کے ڈی اے بدر جمیل مندھرو بھی ملوث ہیں۔ ہاکس بے کی 162ایکٹر منسوخ شدہ اراضی کو 2012ئمیں بحال دکھاکر صرف6کروڑ چالان وصول کر کے ٹھکانے لگایا گیا،ذرائع ابلاغ میں بھانڈا پھوٹنے پر بڑے مگر مچھوں کو بچانے کیلئے چھوٹوں کو قربانی کا بکرا بنادیا گیا۔انتہائی باوثوق ذرائع کے مطابق کراچی کی قیمتی زمینوں کی بے دردی کے ساتھ لوٹ مار میں ملوث کرپٹ ترین افسران کے” سسٹم مافیا ”کو بچانے کے منصوبے پر کام شروع کردیا گیا،ذرائع کا کہنا ہے کہ کراچی کی زمینوں کی لوٹ مار میں ملوث یونس میمن نامی شخص بیرون ملک میں بیٹھ کر شہر قائد کی زمینوں کا سسٹم چلارہا ہے،ذرائع کا کہنا ہے کہ یونس میمن کراچی کی زمینوں کا بے تاج بادشاہ تصور کیا جاتا ہے اور اس کیلئے متعلقہ محکموں اور اداروں میں افسران کی تعیناتیوں سمیت دیگر معاملات بھی یونس میمن کی ہدایت پر کی جارہی ہیں،ذرائع کا کہنا ہے کہ کراچی کی کھربوں روپے مالیت کی اراضی ٹھکانے لگانے کیلئے من پسند افسران کی تعیناتیوں کا سلسلہ شروع کیا گیا جس میں سنگین بدعنوانیوں کے الزامات کے باوجود16مئی2019کو دانش سعید کو ممبر لینڈ یوٹیلائزیشن کے اہم حساس محکمے میں تعینات کیا گیا،اور اس کے ساتھ ہی محکمہ ریونیو میں اسسٹنٹ کمشنر،مختیار کار،تپے دار تک افسران وملازمین کی بھی تعیناتیوں کا سلسلہ شروع کیا گیا،ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں سابق ڈی سی ملیر محمد علی شاہ جنہیں واٹر کمیشن کے حکم پر عہدے سے ہٹایا گیا تھا۔ان کی دوبارہ تعیناتی بھی کی جانی تھی جس کیلئے ماحول سازگار دیکھا جارہا تھا،ذرائع کا کہنا ہے کہ ہاکس بے کی ٹھکانے لگائی جانے والی 162ایکٹر اراضی کی منتقلی سمیت دیگر معاملات پر پردہ ڈالنے کیلئے بدر جمیل میندھرو کو ڈائریکٹر جنرل ایل ڈی اے تعینات کیا گیا،سندھ حکومت کے سینئر افسران کا کہنا ہے کہ کام مکمل ہونے کے بعد مزید دیگر اسائمنٹ دیکر بدرجمیل میندھرو کو ڈائریکٹر جنرل کے ڈی اے کے اہم اور حساس عہدے سے نوازا گیا ہے،ذرائع کا مزیدکہنا ہے کہ بدر جمیل کی تعیناتی کے ساتھ ہی کورنگی میں موجود ایک اور متنازعہ قیمتی اراضی ٹھکانے لگانے کا سلسلہ شروع کردیا گیا ہے،دریں اثنائذرائع کے مطابق ہاکس کی بے کی اراضیٹھکانے لگائے جانے کا بھانڈا پھوٹنے کے بعد سائیں سرکار بھرپور انداز سے سسٹم مافیا کو بچانے میدان میں کود پڑی ہے، ذرائع کا کہنا ہے کہ ہاکس بے کی اراضی کے اسکینڈل سے نیب کو دور رکھنے کیلئے اینٹی کرپشن کو بھرپور انداز سے متحر ک کیا گیا ہے تاکہ کیس اور تحقیقات سندھ حکومت کی نگرانی میں جاری رہ سکے اور اس سلسلے میں 20گریڈ کے ممبر ایل یو جو کہ سندھ حکومت کے چہیتے افسر ہیں ان سے اینٹی کرپشن ٹیم نے کئی گھنٹے تحقیقات جاری رکھیں اور20سوالات کا سوالنامہ بھی پیش کیا اور جوابات بھی ہاتھوں ہاتھ وصول کئے گئے،ذرائع کا کہنا ہے کہ دانش سعید نے تحقیقاتی ٹیم کے سامنے یونس میمن اور محمد علی شاہ سمیت مقامی بلڈر حاجی آدم جوکھیو کے حوالے سے بھی آگاہ کیا ہے کہ ان کو الاٹ کی گئی تمام اراضی کے کھاتے جعلی ہیں جبکہ الاٹ زمین آگے فروخت بھی کردی گئی ہے۔واضح رہے کہ دو روز قبل وزیر اعلی سندھ نے ہاکس بے اراضی کی بندر بانٹ اور غیر قانونی الاٹمنٹ پر ممبر ایل یو اور بعض دیگر افسران کو معطل کر کے تحقیقات کا حکم دیا تھا جس میں دلچسپ امر یہ ہے کہ مذکورہ اراضی کی لوٹ مار اور جعلسازی کے اہم اور مرکزی کرداروں کو چھوڑ کر معطل کئے گئے افسران کی تعداد بڑھانے کیلئے ایم ڈی اے کے ایڈیشنل ڈی جی کو مضحکہ خیز طور پر معطل کردیا گیا۔

اباؤٹ اخبار نو

دوبارہ چیک کریں

2268 شراب کی بوتلیں درآمد کرنے کی کوشش ناکام

کراچی(اسٹاف رپورٹر) ڈائریکٹوریٹ کسٹمز انٹیلی جنس نے سفارتخانوں کے نام پر 2268 شراب کی بوتلیں …

پلاسٹک فیکٹری میں لگنے والی آگ پر رات گئے تک قابو نہ پایا جاسکا

کراچی(اسٹاف رپورٹر)جمعے کی صبح شیر شاہ کی پلاسٹک فیکٹری میں لگنے والی آگ پر رات …

چیرمین بلدیہ کورنگی نیئر رضا کی کھلی بدمعاشی

کراچی (اسٹاف رپورٹر) ضلع کورنگی کو اجاڑ کر رکھ دینے والے چیرمین بلدیہ کورنگی ”نیئر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے