Home / اداریہ / کراچی کے مسائل پر اتفاق و اتحاد

کراچی کے مسائل پر اتفاق و اتحاد

ایک رپورٹ کے مطابق کراچی میں ترقیاتی کاموں کے لئے وفاق کی جانب سے اربوں روپے کی فنڈز جاری کردیئے گئے ہیں تاہم فنڈز کے استعمال پر بھی تنازع کھڑا ہوچکاہے۔ یہ فنڈز ارکان قومی اسمبلی کے لئے جاری کئے گئے ہیں جس سے اراکین قومی اسمبلی اپنے حلقوں میں ترقیاتی اسکیمیں شروع کریں گے۔ اطلاعات یہ ہیں کہ وفاق کی جانب سے پاکستان ورکس ڈیپارٹمنٹ میں رقم منتقل بھی ہوچکی ہے مگر رقوم کو خرچ کرنے کے طریقہ کار متنازعہ بنا ہوا ہے۔ ذرائع کے مطابق ہر رکن قومی اسمبلی کو 15 کروڑ روپے فی کس دیئے گئے ہیں اور یہ کل رقم 3 ارب روپے بنتی ہے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اراکین قومی اسمبلی فنڈز کے استعمال میں رخنہ ڈال رہے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ ترقیاتی کاموں کے لئے ٹھیکہ اُن کی مرضی کے مطابق دیا جائے۔ اس صورت حال کی وجہ سے کراچی میں تاحال ترقیاتی کاموں کا آغاز نہیں ہوسکا ہے۔ قابل افسوس پہلو یہ ہے کہ ابھی تک وفاق کی جانب سے تاحال کوئی مداخلت نہیں کی گئی ہے جس کے نتائج کراچی کے شہری گندے برساتی نالوں‘ ٹوٹی پھوٹی سڑکوں اور ابلتے ہوئے گٹروں کی شکل میں بھگت رہے ہیں۔ اس ضمن میں کراچی سے تعلق رکھنے والے صدر مملکت‘ گورنر سندھ اور وفاقی وزراء کو اپنا کردار ادا کرنا چاہئے کیونکہ ذرائع نے یہ بتایا ہے کہ 3 ارب روپے کے فنڈز جاری ہوئے 3ماہ سے بھی زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے۔ وفاقی وزیر فیصل واؤڈا بھی خلوصِ نیت سے کراچی کے مسائل حل کرنا چاہتے ہیں۔ ایک روز قبل ہی فیصل واؤڈا نے پیپلزپارٹی سے تعلق رکھنے والے صوبائی وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ سے ایک ملاقات کی ہے جس میں اس عزم کا اظہار کیا گیا ہے کہ ”اب ہم مل کر کراچی کے مسائل حل کریں گے اور کراچی کو مل کر صاف ستھرا شہر بنائیں گے۔“ فیصل واؤڈا کی جانب سے یہ ایک اچھی پیش رفت ہے تاہم فیصل واؤڈا کو وفاق کی جانب سے کراچی کے لئے جاری کردہ فنڈز کے استعمال کے طریقہ کار پر اتفاق رائے پیدا کروانا چاہیے۔ اس حوالے سے وفاقی وزیر علی زیدی کا وزیراعظم سے یہ مطالبہ حقیقت پر مبنی ہے کہ کراچی پیکیج کا مانیٹرنگ میکانزم بھی بنائیں۔ وفاقی وزیر نے دعویٰ کیا ہے کہ ہم اب تک کراچی کا ڈیڑھ لاکھ ٹن کچرا ٹھکانے لگاچکے ہیں۔ ہماری کلین کراچی مہم میں فی کلو گرام کچرا اٹھانے پر 01.65 روپے کے اخراجات ہوئے ہیں جبکہ سندھ حکومت کچرا اٹھانے پر 4.10 روپے خرچ کررہی ہے۔ اگر دیکھا جائے تو کراچی میں معاملات کو درست کرنے کے لئے کسی نہ کسی انداز میں سرگرمیاں جاری ہیں اور تمام سیاسی قوتوں میں کراچی کے حوالے سے ہم آہنگی نظر آرہی ہے۔ کراچی کے مسائل حل کرنے کے لئے اب تو وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ بھی خاصے متحرک ہوچکے ہیں اور انہوں نے باضابطہ طور پر اعلان کردیا ہے کہ عاشورہ محرم کے بعد کراچی کو صاف ستھرا شہر بنانے کے لئے خصوصی مہم شروع کردی جائے گی۔ وزیراعلیٰ نے کراچی میں پانی کی تقسیم کو بہتر بنانے کی بھی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ وہ شہر کی بہتری کے لئے بعض اہم نوعیت کے اقدامات کرنے والے ہیں۔ وزیراعلیٰ کو فوری طور پر کراچی کی سڑکوں کی حالتِ زار پر توجہ دینی چاہیے جن پر اب سفر کرنا بھی محال ہوچکا ہے۔ وفاق‘ صوبائی حکومت اور شہری اداروں کے باہمی اتفاق اور سیاسی اختلافات بالائے طاق رکھنے سے یہ امید ہوچلی ہے کہ اب وہ دن دور نہیں جب کراچی ایک بار پھر روشنیوں کا شہر بن جائے گا۔

اباؤٹ ویب ڈیسک

دوبارہ چیک کریں

کراچی میں ڈاکو آزاد‘ شہری یرغمال

کراچی میں اس وقت امن و امان کی بدترین صورتحال ہے ڈاکو‘ چور‘ لٹیرے‘ آزاد …

کراچی میں معاشی بحران کی دستک

حکومتِ سندھ کو کراچی کے مسائل پر فوری توجہ دینا ہوگی کیونکہ ملک کے سب …

اللہ کی بے آواز لاٹھی کو مت بھولو

کے الیکٹرک کی سنگدل انتظامیہ کا خیال ہے کہ بدترین انتظامی صلاحیتوں کی وجہ سے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے