Home / کالم مضامین / کراچی کو کے الیکٹرک سے بچاؤ

کراچی کو کے الیکٹرک سے بچاؤ

رپورٹ: شاہد حسن
”چوری اور سینہزوری“ کا عملی مظاہرہ دیکھنا ہو تو کراچی میں بجلی کی پیداوار‘ ترسیل اور تقسیم کے ادارے کے الیکٹرک کی بدترین کارکردگی سے لگایا جاسکتا ہے۔ کے الیکٹرک پر ایسے لوگ مسلط ہیں جو شہریوں کو دھمکیاں دینے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ توانائی کے وفاقی وزیر عمر ایوب نے کے الیکٹرک والوں کو چند روز قبل ہی یہ باور کرایا تھا کہ حکومت نے اس ادارے کو بجلی کی تقسیم کا لائسنس دیا تھا‘ بندے مارنے کا نہیں۔ چیئرمین نیپرا نے بجلی کمپنی کو یہ بات بتا دی ہے کہ کراچی میں کرنٹ لگنے سے شہریوں کی اموات پر ’نیپرا‘ کی تحقیقات سے یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ کرنٹ لگنے سے اموات کی تمام تر ذمہ داری کے الیکٹرک پر عائد ہوتی ہے۔ وفاقی وزیر کی اس واضح وارننگ کے باوجود کے الیکٹرک کی انتظامیہ بضد رہی کہ شہریوں کی اموات کے ذمہ دار وہ لوگ ہیں جو بجلی کے کھمبوں کا ناجائز استعمال کرتے ہیں اور انٹرنیٹ اور ٹی وی کیبلز اور ڈیوائس کھمبوں پر لگادیتے ہیں۔ کراچی میں مون سون کی حالیہ بارشوں میں کرنٹ لگنے سے مرنے والوں کی تعداد 35 سے زائد ہے۔کے الیکٹرک کی انتظامیہ کے خلاف کئی مقدمات بھی درج کئے جاچکے ہیں۔ نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے کے الیکٹرک کی ناقص کارکردگی‘ بجلی کی ترسیل میں ناکامی اور کرنٹ لگنے کے واقعات کی تحقیقات مکمل کرلی ہیں اور کراچی کے 19 شہریوں کی اموات کا ذمہ دار کے الیکٹرک انتظامیہ کو قرار دے دیا گیا ہے اور قابل ذکر بات یہ ہے کہ کے الیکٹرک کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔ نیپرا کی تحقیقات کا قانونی پہلو بھی بالکل واضح ہے کیونکہ نیپرا نے نیپرا ایکٹ 1997ء کی دفعہ A-27 کے تحت تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی تھی۔ کمیٹی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شہریوں کی اموات اور بجلی کی طویل بندش کی ذمہ دار کے الیکٹرک کی انتظامیہ ہے اور اس رپورٹ کی روشنی میں کے الیکٹرک کی انتظامیہ کو اظہار وجوہ کا نوٹس بھی دے دیا گیا۔ ان سب اقدامات کے باوجود کے الیکٹرک انتظامیہ کی ہٹ دھرمی برقرار ہے اور شوکاز نوٹس ملنے کے بعد ایک بار پھر یہ دعویٰ کیا ہے کہ کے الیکٹرک قانون کی پاسداری کرنے والا ذمہ دار ادارہ ہے۔ نیپرا کے اظہار وجوہ کے نوٹس کا جائزہ لینے کے بعد جواب بھی دے دیا جائے گا۔ کے الیکٹرک حفاظتی اقدامات کے تحت ارتھنگ کے ساتھ نیٹ ورک پر سیفٹی بریکر اور دیگر اقدامات بھی کرتا ہے۔ کے الیکٹرک نے ایک بار پھر شہری اداروں کو تمام تر صورت حال کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ بارش اور سیلابی صورت حال میں پانی کی نکاسی کو یقینی بنانے کے لئے تمام اداروں سے ایمرجنسی نافذ کرنے کی اپیل کی تھی۔ پانی کی نکاسی نہ ہونے سے بجلی کی تنصیبات متاثر ہوئیں۔ حفاظتی اقدامات‘ تجاوزات‘ ٹی وی انٹرنیٹ کیبل‘ کنڈوں اور ارتھ وائرز کی چوری کے باعث بجلی کا نظام غیر موثر ہوجاتا ہے۔ کے الیکٹرک کا مزید موقف ہے کہ اموات و حادثات کی بڑی وجہ غیر محفوظ اسٹریٹ لائٹ سوچرز اور جنریٹرز کا غیر محفوظ استعمال بھی ہے۔
حیرت کی بات تو یہ ہے کہ نیپرا کی تحقیقاتی کمیٹی نے اپنی تحقیقات میں کے الیکٹرک کے مذکورہ اقدامات سے اتفاق نہیں کیا اور شہریوں کی اموت اور بجلی کی سپلائی کی طویل بندش کا ذمہ دار کے الیکٹرک کی انتظامیہ کو قرار دے دیا ہے کے الیکٹرک انتظامیہ کا یہ وطیرہ رہا ہے کہ وہ اپنے آپ کو الزامات سے بری الذمہ قرار دینے کے لئے تکنیکی پیچیدگی کا سہارا لیتی ہے اور اپنے من پسند اخبارات میں بڑے بڑے اشتہارات دے کر اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لئے من گھڑت جواز پیش کئے جاتے ہیں۔ گزشتہ روز بھی چند ایک اخبارات میں دیئے گئے اشتہار میں کے الیکٹرک نے کرنٹ لگنے اور دیگر ناگہانی حادثات کا ذمہ دار کراچی کے شہریوں کو ہی قرار دیا ہے۔ مثال کے طورپر مذکورہ اشتہار میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ کیونکہ کراچی کا ایک بڑا حصہ بغیر کسی منصوبہ بندی کے بنایا گیا ہے جس میں بیشتر علاقے تجاوزات پر مشتمل ہیں اور ان علاقوں میں کنڈوں کی بہتات ہے۔ کراچی کا ہر شہری بخوبی جانتا ہے کہ کراچی کی بیشتر کچی آبادیوں میں بجلی کے میٹر نصب ہیں اور اگر کہیں کنڈے کے ذریعے بجلی حاصل کی جارہی ہے تو یہ کنڈے لگانے میں کے الیکٹرک کا عملہ خود معاونت کرتا ہے۔ کے الیکٹرک کی جانب سے اشتہار کے ذریعے وضاحتیں پیش کرنا کیا قانونی ہے؟ نیپرا کے اظہارِ وجوہ کے نوٹس کا جواب دینے کے بجائے لمبا چوڑا اشتہار شائع کرانے کا مقصد نیپرا کا مذاق اڑانا اور قانون کا تمسخر اڑانے کے مترادف نہیں تو اور کیا ہے۔ کراچی میں بارشوں کے بعد بھی کرنٹ لگنے سے اموات کا سلسلہ جاری ہے۔ اخباری اطلاعات کے مطابق مزید 6 شہری موت کے منہ میں جاچکے ہیں۔ نیپرا نے اگر اپنی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق عمل کروانا ہے تو اُسے چاہیے کہ کے الیکٹرک کو فوری طور پر قومی تحویل میں لے لیا جائے۔ کے الیکٹرک کیخلاف اس وقت فوری ایکشن کی ضرورت ہے اور اس ایکشن کا آغاز’ابراج‘ گروپ کے سربراہ عارف نقوی‘ چیف ایگزیکٹو آفیسر مونس علوی اور چیئرمین اکرام سہگل سے ہونا چاہیے۔ ان کے خلاف درج مقدمات کی فوری سماعت کی جائے اور ان سے جاں بحق ہونے والے شہریوں کے لواحقین کو معاوضہ دلوایا جائے اور کے الیکٹرک کو ہمیشہ کے لئے بلیک لسٹ کردیا جائے۔ کراچی کے تمام اسٹیک ہولڈرز کے الیکٹرک سے نجات چاہتے ہیں جبکہ وفاقی وزیر عمر ایوب خود بھی تسلیم کرچکے ہیں کہ کے الیکٹرک ہی وہ ادارہ ہے جسے بجلی کی تقسیم و ترسیل کی ذمہ داری دی گئی تھی مگر اس نے بندے مارنے شروع کردیئے ہیں۔ اگر اب بھی نیپرا کی رپورٹ پر عمل نہ کیا گیا تو پھر یہ ادارہ بندے مارنے کا کام کرتا رہے گا۔ خدارا کراچی کو کے الیکٹرک سے بچائیے۔

اباؤٹ ویب ڈیسک

دوبارہ چیک کریں

میرپور خاص سول اسپتال میں بچے کی انسانیت سوز موت

آج کی بات…. سید شاہد حسن کے قلم سے ایمبولینس نہ ملنے پر بچے کی …

آج کی بات … فروغ نسیم کی وضاحتیں

… سید شاہد حسن کے قلم سے آرٹیکل 149(4) کا کسی نے مطالعہ کیا ہی …

کراچی کا کنٹرول وفاق کے پاس کیسے؟

آج کی بات…. آرٹیکل 149(4)…. سید شاہد حسن کے قلم سے آئین کا آرٹیکل 149 …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے