Home / اداریہ / کراچی دوسرا دارالخلافہ‘ مسائل کا مستقل حل

کراچی دوسرا دارالخلافہ‘ مسائل کا مستقل حل

ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز (آباد) نے کراچی کے روز بروز سنگین ہوتے ہوئے مسائل کے حل کے لئے ایک قابل عمل تجویز پیش کی ۔ آباد کے چیئرمین محمد حسن بخشی ہیں گزشتہ روز ایک تقریب سے خطاب کے دوران انہوں نے تحریک انصاف کو یہ مشورہ دیا کہ اسلام آباد کے ساتھ ساتھ کراچی کو بھی ملک کا دار الخلافہ قرار دے دیا جائے تاکہ وزیراعظم عمران خان اور اُن کی کابینہ کے ارکان کچھ دن کراچی میں بیٹھیں گے تو حکومت کو کراچی کے مسائل سے آگاہی ہوگی اور دنیا بھر میں کراچی کی اہمیت میں بھی اضافہ ہوگا۔ محمد حسن بخشی نے کوئی انہونی بات نہیں کی ہے دنیا میں کئی ایسے ممالک ہیں جن کے دو دارالخلافے موجود ہیں۔ کراچی تو ویسے بھی پاکستان کے لئے انتہائی اہمیت کا حامل شہر ہے۔ قومی معیشت میں اس شہر کو ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہے۔ یہ صنعت و تجارت کا شہر ہے۔ اس شہر میں بندرگاہوں کی موجودگی کی وجہ سے اس کی بین الاقوامی حیثیت مسلمہ ہے۔ کراچی پاکستان کا اولین دار الخلافہ رہا ہے اور اسلام آباد تو محض شہر اقتدار ہے وہاں ملکی بقاءو سلامتی کے بڑے بڑے فیصلے ضرور ہوتے ہیں لیکن اس حقیقت سے کون انکار کرسکتا ہے کہ آج کے دار الخلافہ کا ملکی معیشت میں کوئی بڑا کردار ہے اور نہ وہاں صنعتوں کو فروغ دیا جاسکتا ہے۔ صاحب اقتدار لوگوں کے لئے یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ وہ کارخانوں اور فیکٹریوں کی چمنیوں سے نکلنے والے دھوئیں کو برداشت کرسکیں۔ انہیں کیا پتہ گنجان آباد شہر میں رہنے والوں کے کیا مسائل ہیں۔ بارشیں نہ ہوں تو یہاں کے لوگ بارش کے لئے دعائیں مانگ رہے ہوتے ہیں اور دو چار روز تیز بارشیں ہوں تو یہی کراچی کے لوگ بارش بند ہونے کی دعائیں کررہے ہوتے ہیں۔ آج کسی نے یہ نہیں سنا ہوگا کہ اسلام آباد کے گٹر بند ہوگئے ہیں‘ سیوریج کا غلیظ پانی بار گراں بن رہا ہو لیکن یہ تو کراچی کی قسمت ہے یا بنادی گئی ہے کہ اس شہر کے گٹر سارا سال ابلتے ہیں کراچی کے شہری تعفن اور بدبو کے عادی بنادیئے گئے ہیں۔ وبائی امراض سے لوگوں کی اموات روز کا معمول ہے۔ بجلی کی تقسیم و ترسیل کا نظام ناکارہ ہوچکا ہے۔ یہاں کرنٹ لگنے سے لوگ مرجاتے ہیں اور کوئی پوچھنے والا بھی نہیں ہوتا۔ آج کل عالمی ذرائع ابلاغ میں کراچی کی مکھیوں کا بڑا تذکرہ ہے۔ برطانیہ اور فرانس کے نشریاتی ادارے کراچی کی مکھیوں پر خصوصی پروگرام پیش کررہے ہیں۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کا تو یہ کہنا ہے کہ کراچی میں مکھیوں کا طوفان آیا ہوا ہے۔ غذائی اشیاءمکھیوں کے جھنڈ سے ڈھکی ہوئی ہیں۔ یہ مکھیاں کبھی اسلام آباد کا رخ نہیں کرتیں تمام تر مالی وسائل جس میں کراچی کا حصہ سب سے زیادہ ہے‘ حکمرانوں پر خرچ کردیا جاتا ہے۔ آباد کے چیئرمین کی تجویز کے مطابق اگر ہمارے حکمران اور اعلیٰ بیورو کریسی کے لوگ پاکستان کے دوسرے دارالخلافہ میں آکر بیٹھ جائیں گے تو شاید ان کے طمع نازک کی وجہ سے کراچی والوں کی قسمت بھی سنور جائے۔ بقول محمد حسن بخشی کے کراچی میں 18 ماہ تک بلند عمارتوں کی تعمیر پر پابندی سے کراچی میں 600 ارب روپے کی سرمایہ کاری رُکی رہی۔ یہ پابندی اٹھا تو دی مگر پانی کی قلت کی آڑ میں اب بھی تعمیرات کی اجازت نہیں دی جارہی۔ ان مسائل کا ادراک یقینا اسلام آباد میں بیٹھ کر نہیں کیا جاسکتا۔ اگر کراچی کے مسائل کا مستقل حل نکلنا ہے تو کراچی کو پاکستان کا دار الخلافہ نمبر 2 قرار دےدیا جائے اور حکمران اور اعلیٰ افسران اس شہر میں آکر رونق آفروز ہوں ‘ شاید ان کے طفیل ہی کراچی والوں کی قسمت سنور جائے۔

اباؤٹ ویب ڈیسک

دوبارہ چیک کریں

کراچی میں ڈاکو آزاد‘ شہری یرغمال

کراچی میں اس وقت امن و امان کی بدترین صورتحال ہے ڈاکو‘ چور‘ لٹیرے‘ آزاد …

کراچی میں معاشی بحران کی دستک

حکومتِ سندھ کو کراچی کے مسائل پر فوری توجہ دینا ہوگی کیونکہ ملک کے سب …

اللہ کی بے آواز لاٹھی کو مت بھولو

کے الیکٹرک کی سنگدل انتظامیہ کا خیال ہے کہ بدترین انتظامی صلاحیتوں کی وجہ سے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے