Home / اداریہ / معاشرے کو کیسے سدھارا جائے؟

معاشرے کو کیسے سدھارا جائے؟

کراچی پولیس چیف جناب غلام نبی میمن نے شہر میں بڑھتی ہوئی اسٹریٹ کرائم کی وارداتوں کا ذمہ دار نشے کے عادی افراد کو قرار دیا ہے۔ ان کا یہ فرمانا ہے کہ 60 فیصد اسٹریٹ کرائمز نشئی افراد کرتے ہیں لیکن اکثر وارداتوں میں وہ لوگ پکڑے جاتے ہیں جو نشہ نہیں کرتے بلکہ معاشی ناہمواریوں کے سبب وہ جرائم کی طرف راغب ہوتے ہیں یا پھر جرائم میں فروغ کا سبب گداگروں کا وہ گروہ ہے جو شہر کے ہر علاقے میں باآسانی نظر آتے ہیں۔ شہر میں کچرا چننے والے کم سن نوجوانوں کا گروہ بھی اسٹریٹ کرائم میں ملوث ہے۔ نشئی افراد تو چھینا جھپٹی کے قابل ہی نہیں ہوتے جبکہ اُن کی ضرورت اپنا نشہ پورا کرنے کے لئے چھوٹی موٹی وارداتیں کرنا ہے اسی لیے وہ چوری چکاری کرکے اپنی اس لت کو پورا کرلیتے ہیں۔ اصل کریمنل وہ لوگ ہیں جو موقع ملتے ہی اسلحہ کے زور پر لوگوں کو لوٹتے ہیں اور مزاحمت پر گولی چلانے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔ لوٹ مار کی کارروائیوں میں اب تو پڑھے لکھے نوجوان بھی ملوث ہورہے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل ڈاکوﺅں کا وائٹ کرولا گروپ دہشت کی علامت بنا ہوا تھا۔ اس گروپ میں تین چار نوجوان ملوث تھے جو پڑھے لکھے تھے اور کسی اعلیٰ افسر کے بیٹے اور بھانجے بھتیجے تھے۔ اسی طرح پچھلے دنوں کراچی کے پوش علاقوں میں ڈاکوﺅں کا ایک ”ٹائی گروپ“ منظر عام پر آیا۔ اگر یہ لوگ نشے کے عادی ہوتے تو وہ بڑی وارداتیں کیوں کرتے۔ شہریوں کی اکثریت کی رائے یہ ہے کہ سب سے زیادہ اسٹریٹ کرائم کچرا چننے والے لڑکے کررہے ہیں جو رات کے پچھلے پہر نکلتے ہیں اور موقع ملتے ہی لوگوں کو لوٹ لیتے ہیں کراچی کی گنجان آبادیوں میں گلیوں میں پارک ہونے والی گاڑیوں سے بیٹریوں کی چوری کی وارداتیں عام ہیں۔ گلی میں کچرے کے بہانے گاڑیوں سے قیمتی سامان چراتے ہیں ۔ شیشے اتار لئے جاتے ہیں اس قسم کی وارداتوں کے اگر اعداد و شمار جمع کئے جائیں تو ایک دن میں پچاس ساٹھ وارداتیں عام سی بات ہے اور ان وارداتوں میں پکڑے جانے والوں کا شمار کیا جائے تو ملزمان کی اکثریت کچرا چننے والوں کی ہوتی ہے۔ جرائم ہر معاشرے میں ہوتے ہیں اداروں کا کام جرائم پر قابو پانا ہے۔ کسی ملک میں یہ نہیں ہوتا کہ وہاں کے ادارے جرم ہونے کے بعد حرکت میں آتے ہوں بلکہ ان کا مطمع نظریہ ہوتا ہے کہ جرم کی وجوہات تلاش کی جائیں اور پوری کوشش کی جائے کہ جرم وقوع پذیر ہونے سے پہلے ہی اس کا سدباب کردیا جائے۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہمارے ارباب اختیار نے معاشرتی تربیت کا کوئی ادارہ نہیں بنایا۔ ہمارے تعلیمی ادارے صرف تعلیم دے کر نوکری تلاش کرنے والے نوجوان تیار کرتے ہیں اور جب ان نوجوانوں کو ملازمت نہیں ملتی تو پھر وہ اپنی ضروریات کی تکمیل کے لئے جرائم کی طرف راغب ہونے لگتے ہیں۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ ہمارا آج کا نوجوان اچھی نوکری کے لئے ڈگری کے حصول کے لئے کوشاں رہتا ہے اور ناکامی کی صورت میں اس کے اندر ملک و قوم سے بغاوت کے جذبات جنم لیتے ہیں اور پھر اس کی زندگی کا مقصد اس شعر کی مانند ہوتا ہے کہ
مانگے سے اگر حق نہ ملے چھین کر لے لو
لوگوں میں اب اس با ت کا رجحان بہت ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے