Home / اداریہ / صفائی مہم …. وزیراعلیٰ اور میئر کراچی ساتھ ساتھ

صفائی مہم …. وزیراعلیٰ اور میئر کراچی ساتھ ساتھ

کراچی کے مخصوص حالات میں یہ ایک خوشگوار تبدیلی ہے کہ کراچی میں صفائی مہم کی ذمہ داری وزیراعلیٰ سندھ نے خود سنبھال لی ہے اور اس تبدیلی کا شاندار پہلو یہ ہے کہ صفائی مہم میں میئر کراچی وزیراعلیٰ کے ہمراہ ہیں۔ یہ بھی قابل تعریف ہے کہ وفاقی وزیر علی زیدی نے بھی وزیراعلیٰ کی صفائی مہم میں بھرپور تعاون کا اعلان کر دیا ہے۔
وزیراعلیٰ نے کراچی کو صاف کرنے کا دورانیہ ایک ماہ مقرر کیا ہے اور صفائی مہم میں ضلعی‘ بلدیات اور میئر کراچی کو مشینری سمیت جس چیز کی بھی ضرورت ہو گی‘ وہ حکومت سندھ مہیا کرے گی۔ وزیراعلیٰ نے اس مہم کا نام ”کلین مائی کراچی“ رکھا ہے اور کہا ہے کہ کراچی ہم سب کا ہے اور شہر کو صاف کرنے میں ہم سب کا تعاون حاصل کریں گے۔ ان سطور میں ہم متعدد بار اس بات کا اعادہ کرتے رہے ہیں کہ جب تک کراچی کی گلیوں اور محلوں میں کچرا پھینکنے والوں کے خلاف کارروائی نہیں ہو گی‘ صفائی کی کوئی مہم کامیاب نہیں ہو سکتی۔
یہ بڑی خوش آئند بات ہے کہ وزیراعلیٰ نے شہر کا دورہ کرکے اس اَمر کا اندازہ لگا لیا ہے کہ جگہ جگہ کچرا پھینکنے والے خود اہل علاقہ ہیں۔ اس ضمن میں وزیراعلیٰ نے کچرا پھیکنے والوں کو گرفتار کرنے کے احکامات بھی جاری کر دئیے ہیں۔ وزیراعلیٰ اور متعلقہ حکام کو ہم ایک بار پھر باور کرانا ضروری سمجھتے ہیں کہ زیادہ تر کچرا پھیلانے والے وہ لوگ ہیں جن کا ذریعہ آمدن یہی کچرا ہے۔ کچرا چننے والے افراد کی تعداد شہر میں بہت تیزی سے بڑھ رہی ہے جو اکثر اوقات رات کو نکلتے ہیں اور ڈسٹ بن الٹ کر کچر سڑکوں پر پھیلا دیتے ہیں۔ ان افراد کو روکے بغیر کراچی کو صاف ستھرا شہر بنانا محض ایک خواب ہے۔
کچرا روزانہ اٹھانے اور ٹھکانے لگانے کا سسٹموضع کئے بغیر کراچی کو صاف ستھرا شہر نہیں بنایا جا سکتا۔ اب جبکہ میئر کراچی خود صفائی مہم میں وزیراعلیٰ کے شانہ بشانہ ہیں تو اس سلسلے میں وہ قابل عمل کردار ادا کر سکتے ہیں۔ میئر کراچی کے ماتحت سٹی وارڈنز کی ایک بڑی فورس موجود ہے اگر کچرا پھینکنے والوں کی نگرانی کا فریضہ سی وارڈنز کو سونپ دیا جائے تو یہ شہر ایک ماہ تو کیا دو ہفتوں میں صاف ستھرا نظر آنے لگے گا۔ اس ضمن میں میئر کراچی سے بھی تجاویز لی جا سکتی ہیں۔
اختیارات میں کمی‘ مالی وسائل کا فقدان اور عدم تعاون کے معاملات میں میئر کراچی کی باتوں میں وزن ہے اس لئے وزیراعلیٰ اور وزیر بلدیات میئر کراچی کی جائز شکایات کو نظر انداز نہ کریں۔ کراچی کے مسائل بے شمار ہیں تاہم ایسا کوئی مسئلہ نہیں ہے جس کا حل موجود نہ ہو۔ شہر کے دوروں کے دوران وزیراعلیٰ نے یہ ضرور دیکھا ہو گا کہ شہر ایک بار پھر تجاوزات کی زد میں آ گیا ہے فٹ پاتھوں پر ہوٹل سج گئے ہیں‘ سروس روڈز پر ہوٹلوں کے کچن قائم ہو چکے ہیں‘ ہوٹل مالکان نے سڑکوں پر پارکنگ سسٹم بنا لیا ہے جس کی وجہ سے اکثر علاقوں میں ٹریفک جام روز کا معمول بن گیا ہے۔
سڑک پر کھانے پینے کی اشیاءپھینک دی جاتی ہیں اور رات بھر میں اتنا کچرا جمع ہو جاتا ہے کہ صفائی کرنے والی افرادی قوت کم پڑ جاتی ہے۔ وزیراعلیٰ نے صفائی مہم کو اپنے ہاتھ میں لے کر جو اچھے اقدامات کئےہیں ان کے ثمرات عوام کےلئے اسی وقت فائدہ مند ثابت ہو سکتے ہیں جب سڑکوں‘ فٹ پاتھوں اور سروس روڈز پر روانی ہو گی۔ اچھے اقدامات کی تعریف ہونی چاہئے اسی لئے ہم وزیراعلیٰ اور ان کی ٹیم سے خوشگوار تبدیلی کی امید لگائے بیٹھے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے