Home / اداریہ / تعلیمی بورڈز میں تاخیر ی حربے

تعلیمی بورڈز میں تاخیر ی حربے

وزیر اعلیٰ سندھ کی میز پر ایک سمری گزشتہ ایک ہفتے سے دستخطوں کی منتظر ہے ۔ اس پروزیراعلیٰ دستخط کریں گے تو اخبارات میں وہ اشتہار چھپ سکے گا جس کے تحت سندھ کے پانچ تعلیمی بورڈز کے چیئر مینوں کا میرٹ پرتقرر ہوسکے گا۔ مذکورہ تعلیمی بورڈز کے چیئرمینوں کی تین سالہ مدت 30ستمبر کو مکمل ہوجائے گی ۔
اشتہار کی اشاعت کی اجازت کے لئے سمری محکمہ بورڈز اور جامعات نے روانہ کی تھی۔ ان تعلیمی بورڈز میں اعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی بھی شامل ہے اس کے چیئرمین انعام احمد کے خلاف محکمہ انٹی کرپشن میں تحقیقات کا عمل جاری ہے اور ان پرجوسنگین الزامات لگتے رہے ہیں وہ درست ثابت ہوچکے ہیں۔
سکریٹری بورڈ بھی انعام احمد کے خلاف تحقیقات کرواچکے ہیں ان پر نتائج میں تبدیلی کے الزامات ثابت بھی ہوچکے ہیں مگر اس تحقیقات کی رپورٹ کو منظر عام پر نہیں آنے دیا گیا اور اب یہ اطلاعات مل رہی ہیں کہ انعام احمد کی مدت ملازمت میں توسیع کی سفارش کی گئی ہے۔
محکمہ بورڈز اور جامعات اشتہار کی اشاعت میں تاخیر کا سہارا لے کر موجودہ چیئرمینوں کی مدت ملازمت میں توسیع کرانے کی کوشش کررہا ہے اور متعلقہ اتھارٹی اور چیف سکریٹری سندھ کویہ تجویز پیش کردی گئی ہے کہ وزیراعلیٰ کی جانب سے اشتہار کی اشاعت کی اجازت ملنے تک موجودہ چیئرمینوں کی مدت ملازمت میں توسیع کی اجازت دے دی جائے۔
وزارت تعلیم کے ذمہ دار ذرائع کا کہنا ہے کہ محکمہ بورڈز اور جامعات نے چند روز قبل اشتہار شائع کرانے کی اجازت مانگی ہے ‘ وزیراعلیٰ کی جانب سے اجازت ملے اور اشتہار کی شرائط کے مطابق میرٹ پر امیدواروں کے چناﺅ میں وقت لگ سکتا ہے اس لیے بورڈز کے موجودہ سربراہوں کی مدت ملازمت میں توسیع کی اشد ضرورت ہے ‘ یہ مکمل طورپرملی بھگت کا نتیجہ ہے تعلیمی بورڈز کے سربراہ ہوں کی تقرری میں جان بوجھ کر تاخیر کی جارہی ہے۔
اس جانب وزیراعلیٰ سندھ کو ذاتی طور پر مداخلت کرنا چاہیے کیونکہ افسران کا ایک مخصوص گروہ وزیراعلیٰ کی تعلیمی ایمرجنسی اور ان کی تعلیم دوستی کے خلاف سرگرم ہے اور تاثر یہ دیا جاتا ہے کہ تعلیمی بورڈز کے سربراہوں کی تقرری میں تاخیر وزیراعلیٰ ہاﺅس کی وجہ سے ہورہی ہے ۔
ہم ان سطور میں گزشتہ طویل عرصہ سے اعلیٰ حکام کی توجہ تعلیمی بورڈز اور بالخصوص کراچی انٹربورڈ میں ہونے والے غیر قانونی اور بدانتظامی کے تحت کیے گئے اقدامات کی جانب توجہ دلاتے رہے ہیں کیونکہ کراچی کے تمام تعلیمی حلقے جانتے ہیں کراچی انٹر بورڈ کے چیئرمین انعام احمد کو صوبے کی کسی موثر شخصیت کی اشیر باد حاصل ہے۔
اگر یہ بات درست نہیں ہے تو وزیراعلیٰ کو تعلیمی بورڈز کے معاملات کو فوری طور پر ازخود دیکھنا ہوگا تاکہ موجودہ تعلیمی سال کے امتحانات کا انعقاد ایماندار اور غیر جانبدار تعلیمی بورڈ کے سربراہوں کی نگرانی میں کرائے جاسکےں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے