Home / اداریہ / کے الیکٹرک ہیڈ آفس کے سامنے خود سوزی کی کوشش

کے الیکٹرک ہیڈ آفس کے سامنے خود سوزی کی کوشش

حکمران جماعت تحریک انصاف نے بھی کے الیکٹرک کو ناکام ترین ادارہ قرار دے دیا ہے اور اس ادارے سے کراچی کے شہریوں کی جان چھڑانے کے لیے انتہائی قدم اُٹھانے سے بھی گریز نہیں کیا۔ تحریک انصاف کے منتخب ارکان کا ایک وفد کے الیکٹرک کے ہیڈ آفس پہنچا تھا تاکہ اس ادارے کے ذمہ داروں کو ان کی ناقص کار کردگی کا احساس دلوایا جائے۔ اس وفد میں رکن قومی اسمبلی آفتاب جہانگیر ، عطا اللہ ایڈووکیٹ ، ارکان سندھ اسمبلی خرم شیر زمان ، شہزاد قریشی اور دیگر پارٹی عہدے داران شامل تھے۔ کے الیکٹرک کی انتظامیہ کی خود سری کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اِس موقع پر کوئی اعلیٰ انتظامی عہدے دار موجود نہیں تھا۔وفد کو اس طرز عمل پر خاصی مایوسی ہوئی یہاں تک کہ رکن قومی اسمبلی عطاءاللہ ایڈووکیٹ نے کے الیکٹرک کے ہیڈ کوارٹر کے سامنے بطور احتجاج خود سوزی کی کوشش کی تاہم اُن کے دیگر ساتھیوں نے بمشکل روکا۔ عطا ءاللہ ایڈووکیٹ کا موقف تھا کہ کے الیکٹرک انتظامیہ کی ہٹ دھرمی سے کراچی کے شہری تنگ آچکے ہیں اب ہم عوام کو مزید مشکلات میں نہیں دیکھ سکتے۔ اب پانی سر سے گذرچکا ہے۔ پی ٹی آئی کے منتخب عوامی نمائندوں کا یہ موقف حقیقت پر مبنی ہے ۔ کے الیکٹرک نے کراچی کے شہریوں پر ایک عذاب نازل کیا ہوا ہے۔ کے الیکٹرک نے گیارہ سال قبل جن شرائط پر یہ ادارہ سنبھالا تھا اُن میں سے ایک شرط بھی پوری نہیں کی۔ نجکاری کے پہلے روز ہی سے کے الیکٹرک نے شہریوں کو مختلف بہانوں سے لوٹنے کے نئے نئے طریقے اپنائے ۔ کبھی اووربلنگ کے نام پر صارفین کو لوٹا گیا تو کبھی بجلی کے جدید میٹروں کی تنصیب کے ذریعے عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالا گیا ۔ کے الیکٹرک نے بجلی کی پیدوار بڑھانے کے لیے کوئی سرمایہ کاری نہیں کی۔ مختلف بہانوں سے کراچی میں طویل لوڈ شیڈنگ معمول بن چکا ہے جو ناقابل برداشت ہوچکا ہے۔ حلیہ بارشوں کے بعد سے شہر مختلف اقسام کے وبائی امراض کی زد میں ہے ایسے میں کے الیکٹرک کی انتظامیہ نے شہریوں کو دوہرے عذاب میں مبتلا کررکھا ہے۔ کے الیکٹرک کی کار کردگی سے وفاقی وزارت توانائی بھی تنگ آچکی ہے ۔ ملک کی اعلیٰ عدالتیں اس ادارے کو عوام دشمن قرار دے چکی ہیں۔ بارشوں کے دوران کرنٹ لگنے سے ہونے والی اموات کا ذمہ دار کے الیکٹرک کو نیپرا نے خود قرار دیا ۔ اس ادارے کے خلاف عدالتوں میں ایک درجن سے زیادہ مقدامات زیر سماعت ہیں۔ شہری کرنٹ لگنے کے سبب موت کے منہ میں جاچکے ہیں اُن کے لواحقین کو کے الیکٹرک کی انتظامیہ معاوضہ دینے کو تیار نہیں ہے بلکہ اِن اموات کی ذمہ داری تک قبول کرنے کو تیار نہیں ہے۔ اس ہٹ دھرمی پر لوگ خود سوزی نہ کریں تو کیا کریں ۔ کے الیکٹرک کے ناقص سسٹم کی وجہ سے جن لوگوں کے گھر اُجڑ گئے اُن کے لواحقین اگر عطاءاللہ ایڈووکیٹ کی طرح انتہائی قدم اُٹھاتے ہیں تو اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوگی؟ پی ٹی آئی کے منتخب نمائندوں کو چاہیے کہ وہ وفاق کی سطح پر اس ادارے کے خلاف آواز بلند کریں ۔ وزیر اعظم عمران خود ذاتی طور پر آگاہ کریں کہ کے الیکٹرک والے کراچی کے شہریوں سے وہ سلوک کررہے ہیں جیسے اسرائیلی فوج فلسطینوں سے اور بھارتی فوج کشمیریوں سے کررہی ہے۔ وزیر اعظم کو بتایا جائے کہ کراچی والوں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوتا جارہا جس کا عملی مظاہر خود پی ٹی آئی کے ایم این اے عطاءاللہ ایڈووکیٹ کرنے پر مجبور ہوئے۔ وفاقی حکومت نے اگر کے الیکٹرک کی انتظامیہ کو نکیل نہ ڈالی تو شہر میں امن و امان کا مسئلہ پیدا ہوسکتا ہے اِس لیے فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے