Home / تعلیم / دوسرے دن بھی جامعہ کراچی میں تدریسی عمل کا بائیکاٹ

دوسرے دن بھی جامعہ کراچی میں تدریسی عمل کا بائیکاٹ

کراچی ( اسٹاف رپورٹر )فپواسا کی اپیل پر جمعرات کو دوسرے دن بھی جامعہ کراچی میں تدریسی عمل کا بائیکاٹ کیا گیا جبکہ فپواسا نے مطالبات کی عدم منظوری پر یکم اکتوبر سے بھوک ہڑتال کا اعلان کر دیا ۔ فپواسا ( فیڈریشن آف آل پاکستان اکیڈمک اسٹاف ایسو سی ایشن ) سندھ کے صدرڈاکٹر نیک محمد شیخ نے کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ فپواساسندھ چیپٹر نے 12ستمبر کو جامعہ کراچی میں اجلاس کی قرار داد کے مطابق 17، 25اور 26ستمبر کو تدریسی عمل کا بائیکاٹ کیا گیا لیکن اس کے باوجود حکومت کے کانو ں پر جوں تک نہیںرینگی اب تک کسی حکومتی ارکان نے ہم سے رابطہ نہیں کیا۔ فپواسا کے عہدیداران کا مزید کہنا تھا کہ حالیہ بجٹ میں 7.5 فیصد اضافے کے بجائے 10 فیصد کٹوتی کی گئی۔بجٹ کٹوتی کے باعث تنخواہوں کے دینے کے بھی پیسے نہیں ہے ۔ اس مالی بحران سے طالب علم سب سے زیادہ متاثر ہونگے کیونکہ جامعات کو بحران سے نکلنے کے لئے فیسوں میں اضافہ کرنا پڑے گا۔طالب علموں پر فیسوں کا بوجھ پڑے یہ اساتذہ نہیں چاہتے جبکہ ٹیکس کی مد میں اساتذہ پر 200 فیصد اضافہ ہوا ہے، اساتذہ سندھ کی جامعات کے لیے اسپیشل گرانٹ جاری کی جائے۔ فپواسا نے مطالبہ کیا کہ وفاقی ایچ ای سی چیئرمین کو ہٹایا جائے۔ وفاقی اور سندھ حکومت کو متنبہ کر دیا کہ اگر مطالبات نہیں مانے گئے تو یکم اکتوبر سے بھوک ہڑتال ہوگی۔پریس کانفرنس کے دوران پروفیسر ڈاکٹر عارفانہ ملاح کا کہنا تھا کہ اعلیٰ تعلیم کے لئے صوبائی حکومت کے پاس کوئی ٹاسک فورس نہیں، ایک منصوبہ بندی کے تحت سرکاریجامعات کو تباہ کیا جا رہا ہے۔جامعات بینک کرپٹ ہونے کا خدشہ ہے۔جامعات کو مالی خسارے سے نکالنے کے لیے بیل آو¿ٹ پیکج دیا جائے۔صدر انجمن اساتذہ جامعہ کراچی پروفیسر ڈاکٹر انیلا امبر ملک کا کہنا تھا کہ جامعات کی گرانٹ دونوں مد میں کم کی گئی ہے۔ریکرنگ اور ڈیولپمنٹ گرانٹ دونوں کم کی گئی ہے۔ 2 دن تدریسی عمل معطل رہنے کے باوجود کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔ ہر سال بجٹ کے بعد جامعات اور اساتذہ گرانٹ کے لیے حکومت کی منتیں کر رہے ہوتے ہیں۔ کوئی ایسا مکینزم بنایا جائے تاکہ آئندہ منت سماجت نہ کرنی پڑے۔پروفیسر ڈاکٹر ایس ایم طحہ کا کہنا تھا کہ حکومت نے تعلیم کو ترجیحات پر نہیں رکھا۔کلاسز کا بائیکاٹ کرتے وقت جتنی تکلیف اساتذہ کو ہوتی ہے اتنی کسی کو نہیں ہو سکتی ہے۔فپواسا سندھ کاکہنا تھا کہ وائس چانسلرز،افسران و ملازمین کی بھرتیاں سیاسی بنیادوں پر کی جاتی ہے ۔ جامعات کو سیاسی بھرتیوں کی وجہ سے ہی مالی بحران کا شکار کرنا پڑ رہا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے