Home / اداریہ / کتوں کو زندہ پکڑنے کا طریقہ کون بتائے گا؟

کتوں کو زندہ پکڑنے کا طریقہ کون بتائے گا؟

کتوں کو زندہ پکڑنا ہمارے بس کی بات نہیں ۔ کتا پکڑو مہم سندھ حکومت کی مدد کے بغیر کامیاب نہیں ہوسکتی ۔ میئر کراچی نے گذشتہ روز پاکستان چوک کراچی میں رائر فلٹر پلانٹ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کے موقع پر حکومت سندھ سے کتوں کو زندہ پکڑنے کے حوالے سے مدد مانگ لی ہے۔ کتوں کو زندہ پکڑنا واقعی بہت مشکل کام ہے جس صوبے میں 92ہزار سے زائد افراد کو کتے کاٹ کھائیں وہاں ایسے خونخوار کتوں کو زندہ پکڑنے کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ معلوم نہیں کہ کس عقل مند نے یہ تجویز پیش کی ہے کہ کتوں کو مارنے کے بجائے انہیں زندہ پکڑا جائے۔ اس قسم کی تجویز پیش کرنے والے دانش مند صاحب کو کتوں کو زندہ پکڑنے کا طریقہ بھی بتانا چاہیے تھا۔ میئر کراچی کا یہ فرمانا درست ہے کہ کتوں کو زندہ پکڑنا حکومت سندھ کی مدد کے بغیر ممکن ہی نہیں ہے۔ ماضی میں ہرسال کتامار مہم چلائی جاتی تھی اور اِس کے نتائج بھی ظاہر ہوتے تھے لیکن کتا مار مہم گذشتہ دو تین سال سے نہیں چلائی گئی جس کے نتیجے میں کراچی میں کتوں کی بہتات ہے اور یہ کتے جب چاہتے ہیں کسی نہ کسی شہریوں کو بھنبھوڑ کر رکھ دیتے ہیںاور جب کتا کسی کو کاٹ لیتا ہے تو اُسے تڑپنے کے لیے چھوڑ دیا جاتا ہے کیونکہ اسپتالوں میں ویکسین ہی دستیاب نہیں ہے۔ صوبائی حکومت کتوں کو زندہ پکڑنے کا مشورہ دینے کے بجائے اگر سرکاری اسپتالوں میں ویکسین مہیا کرنے کی جانب توجہ دے تو شہریوں کی جان بچائی جاسکتی ہے۔ گذشتہ روز سندھ ہائیکورٹ میں ایک مقدمے کی سماعت کے دوران عدالت کو یہ بتایا گیا کہ گذشتہ ماہ سندھ میں 92ہزار افراد کو کتوں نے کاٹا سرکاری اسپتالوں میں ویکسین میں کتے کے کاٹنے کی ویکسین نہیں ہے۔ سرکاری ادارے 6لاکھ ویکسین بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں مگر وہ اسپتالوں کو ویکسین فراہم نہیں کررہے ہیں۔ درخواست گذار کی فراہم کردہ معلومات سن کر عدالت کا برہم ہونا فطری امر تھا۔ عدالت نے سیکریٹری صحت کو طلب کیا مگر وہ عدالت نہ آئے جس پر عدالت نے انہیں شو کاز نوٹس جاری کردیا۔ اِس موقع پر وفاق کے زیر اہتمام قومی ادارہ برائے صحت نے سندھ کے اسپتالوں میں کتے کے کاٹے کی ویکسین کی فراہمی کی رپورٹ عدالت میں پیش کی جس میں بتایا گیا ہے کہ جنوری 2019سے اب تک 6ہزار ویکسین سندھ کے اسپتالوں کو دی جاچکی ہیں اور موجودہ صورت حال کے پیشِ نظر 2500ویکسین فوری طور پر دی گئی ہیں۔ دلائل سننے کے بعد عدالت نے لاڑکانہ میں کتے کے کاٹنے سے تڑپ تڑپ کر مرنے والے بچے کی موت کا ذمہ دار حکومتِ سندھ کو قرار دیا۔ عدالت کے اِن احکامات کے بعد وزیر اعلیٰ سندھ نے محکمہ صحت کو حکم دیا کہ ہر ضلع میں ویکسین ہونی چاہیے ۔ کتے کے کاٹنے کے زیادہ تر واقعات دیہی علاقوں میں ہوتے ہیں ۔ لہذا وہاں پر ادویات کی قلت نہیں ہونی چاہیے۔ وزیر اعلیٰ کو محکمہ صحت کے افسران نے یہ بتانے کی زحمت گوارہ نہیں کی کہ کراچی کے سرکاری اسپتالوں کی صورتحال دیہی علاقوں کے صحت مراکز سے بھی زیادہ خراب ہے جہاں کسی بھی قسم کی ویکسین دستیاب نہیں ہے۔ شہر میں ملیریا تیزی سے پھیل رہا ہے۔ کانگو اور ڈینگی وائرس سے روزنہ اموات ہورہی ہیں مگر کوئی توجہ دینے والا نہیں ہے۔ دکھاوے کے لیے دو تین روز تک اسپرے کیا گیا مگر اُس کے بعد سے شہریوں کو اُن کے حال پر چھوڑ دیا گیا ۔ شہری اب کتے پکڑیں یا مچھر ماریں ، جائیں تو جائیں کہاں ؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے