Home / تعلیم / اسکول کی اراضی پر تعلیمی افسران کی ملی بھگت سے قبضہ کرلیا گیا

اسکول کی اراضی پر تعلیمی افسران کی ملی بھگت سے قبضہ کرلیا گیا

کراچی (رپورٹ: سید محمود اللہ )رانا گورنمنٹ بوائز پرائمری اسکول غوث نگر بلدیہ ٹاؤن کی اراضی پر تعلیمی افسران کی ملی بھگت سے قبضہ کرلیا گیا۔ ڈائریکٹریٹ پرائمری لاعلم رہا ،نیب اورمحکمہ اینٹی کرپشن کو درخواست ارسال کردی گئی۔

اہل علاقہ اسکول کو فعال کرنے کی کوششیں کررہے ہیں تعلیمی افسران علاقہ میں سرکاری پرائمری اسکول کا وجود ختم کرنے پرتل گئے۔تفصیلات کے مطابق کراچی میں قائم رانا گورنمنٹ بوائز پرائمری اسکول غوث نگر بلدیہ ٹاؤن گذشتہ 4سال قبل غیر فعال کردیاگیا تھا جب اُس میں ڈھائی سو سے زائد طلبہ زیر ِ تعلیم تھے ۔ مذکورہ اسکول میں موجود اساتذہ اور ہیڈ ماسٹر نے اسکول کو غیر فعال کرتے ہوئے اسکول میں موجود سہولیات ناپید کردی گئیں جس کی وجہ سے وہاں کمرے مسمار کر دئیے گئے ۔

محکمہ اسکول ایجوکیشن پرائمری نے عمارت کرایہ پر ہونے کی وجہ سے مرمت کرنے اور اسکول کو دوبارہ تعمیر کرنے سے منع کردیا تھا ۔ڈھائی سال قبل اہل علاقہ نے مخیر حضرات سے مل کر اور اورنگی ٹاؤن میں موجود پاکستان ہارڈوئر کے مالک کی ذاتی دلچسپی سے چندہ پر اسکول کی اراضی پر 4کمرے تعمیر کرکے اُسے فعال کردیا گیا تھا لیکن اسکول عملے نے اسکول کو پھر غیر فعال کردیا ۔اپریل 2018ءمیں ڈی ای او سراج الدین نے اسکول اسکول کی عمارت خالی کرنے کے حکامات دئیے اہل علاقہ کے دباؤ پر ایک ہفتہ بعد ہی اس آرڈر کو منسوخ کردیا گیا۔فروری 2019ءمیں اسکول کی اراضی پر راتوں رات جماعتیں مسمار کر کے غیر قانونی تعمیرات کا سلسلہ شروع کردیا گیا تھا۔ ڈائریکٹریٹ اسکول پرائمری ان تمام کارروائی سے اس دوران لاعلم رہا ۔ڈائریکٹر یٹ کو اس بات کا علم جب ہوا جب اہل علاقہ نے اپنی درخواست ڈائریکٹریٹ میں جمع کرائی ۔

بتایا جاتا ہے کہ اسکول قبضہ کی راہ ہموار کرنے میں مذکورہ اسکول کے انچارج ہیڈ ماسٹر شاہد افضل نے بھرپور ساتھ دیا اور اسکول کے کئی طلبہ کا انرولمنٹ خارج کردیا یا پھراسکول کے معیار تعلیم گرانے کے لیے اساتذہ کو چھٹی کرنے میں ریلیف فراہم کیا۔ جس کے باعث طلبہ کی تعداد 250سے کم ہو کر 140کے قریب رہ گئی۔ محکمہ تعلیم کے ذرائع کے مطابق اُس وقت تعینات ہونے والے تعلقہ ایجوکیشن جو کہ سکیشن آفیسر بھی تھے عاشق علی ابڑو نے مذکورہ اراضی پر قبضہ کروانے میں سہولت کاری کا کردار ادا کیا ۔یہی عاشق علی ابڑو ہے جس کا تبادلہ کر کے محکمہ صحت بھیج دیا گیا تھا جہاں کرپشن کے الزام میں اُنہیں وہاں بھی معطلی کی سزا ملی ہوئی ہے ۔

اہل علاقہ کے مطابق اسکول کے اساتذہ اور عملہ نہیں چاہتا تھا کہ یہاں سرکاری پرائمری اسکول ہو مگر اہل علاقہ کا اصرار ہے کہ یہاں سرکاری پرائمری اسکول ہونا چاہئے۔ اسکول کی اراضی پر قبضہ کی شکایت اُن مخیر حضرات جنہوں نے اسکول کے کمرے تعمیر کر کے دئیے تھے اور پاکستان ہارڈویئر کے مالک نے ڈائریکٹریٹ پرائمری میں کی اور درخواستیں نیب اور اینٹی کرپشن کو ارسال کردیں ۔مذکورہ اسکول کی اراضی غلام فاطمہ نامی خاتون کے نام ہے جس کا کرایہ کورٹ میں جمع ہورہا تھا۔

اس اسکول کی اراضی پر مذکورہ خاتون کے مبینہ بھتیجا نصیر احمد نے بھی دعویٰ کیا کہ مذکورہ اراضی جن خاتون کی ہے میں اُن کا بھتیجا ہوں اور انہوں نے یہ اراضی میرے نام کردی گئی ہے لہذا مذکورہ اراضی میری تحویل میں دی جائے اب نصیر احمد کا بھی انتقال ہوگیا ہے۔ لیکن مذکورہ اراضی جو بے نام ہوچکی ہے جس کا کوئی والی وارث نہیں ہے محکمہ تعلیم اسکول ایجوکیشن بھی اِسے اپنی تحویل میں لینے کے لیے تیار نہیں ہے ۔ اس حوالے سے جب ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر سراج الدین سے رابطہ کرنے کی متعدد بار کوشش کی مگر رابطہ نہ ہوسکا۔ سیکریٹری اسکول ایجوکیشن احسان منگی نے فون ریسیو نہیں کیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے