Home / پاکستان / سول اسپتال کی مرکزی فارمیسی میں ادویات چور مافیا کا راج

سول اسپتال کی مرکزی فارمیسی میں ادویات چور مافیا کا راج

کراچی (اسٹاف رپورٹر)سندھ کے سب سے بڑے ڈاکٹر رتھ فاؤسول اسپتال کی مرکزی فارمیسی میں ادویات چور مافیا کا راج ، درجنوں میڈیکل سپرٹینڈنٹ تبدیل ہوگئے مگر مافیاکو لگام ڈالنے میں نا کام رہے اور ان کی کی سرگرمیاں کھلے عام جاری ہیں ۔ ادویات چور مافیا اتنا طاقت ور ہے کہ میڈیکل سپرٹینڈنٹ کی تقرری و تبدیلی کروانے لگا۔ مافیا کا سر غنہ اختر کالونی میں ایک نجی اسپتال چلاتا ہے ۔ ادویات چور مافیا کو محکمہ صحت سندھ کے کرپٹ افسران ، ایڈیشنل میڈیکل سپرٹینڈنٹ سول اسپتال کراچی اور دیگر اداروں و سیاسی شخصیات کی آشیر واد حاصل ہے ۔ ادویات چوری میں ملوث گروہ کا سرغنہ کا تعلق ما ضی میں لسانی سیاسی جماعت سے رہا ہے جو پیسے کے بل بوتے پر نیک نام افسران کے خلاف سوشل میڈیا اور دیگر ذریعے جعلی خبریں چلواکر ان کو بلیک میل کراتا ہے۔ ذرائع کے مطابق ڈاکٹر رتھ فاؤ سول اسپتال صوبے کا سب سے بڑا سرکاری اسپتال ہے ،جہاں نہ صرف کراچی بلکہ اندرون سندھ سے بھی ہزاروں کی تعداد میں مریض کے علاج کے سلسلے میں آتے ہیں ۔پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور وزیر اعلی سندھ کی جانب سے متعدد بار یہ دعوی کیا جاچکا ہے کہ صوبے میں صحت کی سہولیات ملک کے دیگر صوبوں کے مقابلے میں بہت بہتر ہیں تاہم سندھ کے ان دو بڑوں کے دعووں کی دھجیاں سول اسپتال میں چند سال قبل تعینات ہونے والے ایک گروہ نے اڑا دی ہیں ۔یہ گروہ شعبہ فارمیسی میں کروڑوںکی ادویات کے ہیر پھیر میں ملوث ہے ۔یہ افراد ان ادویات کو سستے داموں میڈیکل اسٹورز اکے مالکان ور دیگر غیر متعلقہ افراد کو فروخت کردیتے ہیں جبکہ دفتری اندراج میں یہی ظاہر کیا جاتا ہے کہ ان ادویات کو مریضوں کے لیے استعمال کیا گیا ہے ۔اس گروہ کے ہیر پھیر میں اعلی افسران بھی برابر کے شریک ہیں جن کو ماہانہ لاکھوں روپے رشوت پہنچائی جاتی ہے ،جس کی وجہ سے انہوں نے اپنی آنکھیں بند کر رکھی ہیں ۔اس گروہ کے سامنے فارمیسی کے تمام سیکشن بے بس نظر آتے ہیں کیونک ان کوپوچھنے والا کوئی نہیں ہے ۔سول اسپتال کے ایک ملازم نے نام ظاہرنہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ چند سال قبل تک بسوں میں سفر کرنے والے ملازمین آج مہنگی ترین گاڑیوں میں گھوم رہے ہیں جبکہ کراچی کے مختلف علاقو ں میں کروڑوں روپے کے گھروں کے بھی مالک ہیں۔ گروہ کے اراکین وارڈوں میں اپنی ڈیوٹی کرنے کی بجائے اسٹور کا مالک بن کر لاکھوں میں کھیل رہے ہیں اور سرکاری ادویات کو کھلے عام مارکیٹوں میں فروخت کیا جارہا ہے ۔سمجھ سے بالاتر ہے کہ چند ہزار تنخواہ لینے والے یہ ملازمین کس طرح شاہانہ زندگی بسر کررہے ہیں ۔انہوںنے وزیراعلی سندھ ،وزیر صحت اور دیگر متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ سول اسپتال میں ادویات کی غیر قانونی خریدو فروخت کا نوٹس لیا جائے اوراس میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائی کی جائے جبکہ نیب اور دیگر متعلقہ ادارے بھی اس گروہ کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائیں ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے