Home / پاکستان / ابھی انڈیا اور بھی اعتراف کریگا، ترجمان پاک فوج

ابھی انڈیا اور بھی اعتراف کریگا، ترجمان پاک فوج

نئی دہلی۔۔۔۔بھارتی فضائیہ کے سربراہ راکیش کمار نے اعتراف کیا ہے کہ 27 فروری کو ان کی بڑی غلطی کے باعث ایم آئی 17 ہیلی کاپٹر حادثے کا شکار ہوگیا تھا جس کے نتیجے میں چھ اہلکار ہلاک ہوئے۔
بھارتی ٹی وی کے مطابق میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے تحقیقات کو مکمل کرلیا گیا ہے جس میں پایا گیا کہ ہمارے اپنے میزائل نے غلطی سے ہیلی کاپٹر کو ہدف بنایا۔ان کا کہنا تھا کہ ہم اعتراف کررہے ہیں کہ یہ ہماری غلطی تھی اور ہم دو افسران کے خلاف کارروائی بھی کریں گے اور یقینی بنائیں گے کہ ایسا حادثہ مستقبل میں نہ ہو۔27 فروری کو بھارتی طیاروں نے پاکستانی حدود کی خلاف ورزی کی تھی جس پر پاک فضائیہ کی جوابی کارروائی میں بھارت کے دو طیارے تباہ ہوگئے تھے۔
دریں اثنا ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے انڈین ایئر چیف کی جانب سے 27 فروری کو اپنا ہیلی کاپٹر خود ہی مار گرانے کے اعترافی بیان کو شروعات قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ابھی انڈیا باقی اعترافات بھی کرے گا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے انڈین ایئر چیف مارشل راکیش کمار سنگھ بہادریہ کی پریس کانفرنس کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے کہا کہ انڈین ایئر فورس نے یہ تسلیم کرلیا ہے کہ ان کا ایم آئی 17 ہیلی کاپٹر خواہر کشی کا شکار ہوا۔خیال رہے کہ جمعہ کو بھارت میں یوم فضائیہ منایا گیا، اس موقع پر بھارتی ایئر چیف نے ایک پریس کانفرنس کے دوران اعتراف کیا کہ 27 فروری کو بھارتی ایئر فورس کا ایم آئی 17 ہیلی کاپٹر دوستانہ میزائل سے مارا گیا تھا۔
بھارتی فضائیہ کے سربراہ نے اسے سنگین غلطی قرار دیتے ہوئے یہ بھی بتایا کہ غفلت کے مرتکب ہونے والے 2 افسران کے خلاف ایکشن لیا جائے گا۔ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ ابھی تو اعترافی بیانات کا سلسلہ شروع ہوا ہے بہت جلد بھارت یہ اعترافات بھی کرے گا۔٭26 فروری کو پاک فضائیہ نے ایل او سی پار کرکے حملہ کرنے کی بھارتی فضائیہ کی کوشش ناکام بنائی٭27 فروری کا دن(پاک فضائیہ کی جانب سے اپنی فضائی حدود میں رہتے ہوئے 6 ایئر اسٹرائیکس کی گئیں اور بھارتی فضائیہ کے 2 لڑاکا طیارے مار گرائے گئے، بھارتی فضائیہ کا ایک پائلٹ گرفتار ہوا اور پاکستان کا کوئی ایف 16 تباہ نہیں ہوا)٭پاک بحریہ نے بھارتی آبدوز کا راستہ روکا، ایل او سی پر بھارتی فوج کو بڑے پیمانے پر نقصان اٹھانا پڑا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے