Home / کالم مضامین / اسٹریٹ کرائم کو چھوٹا جرم نہ سمجھئے

اسٹریٹ کرائم کو چھوٹا جرم نہ سمجھئے

بڑے مجرموں کی پہلی درسگاہ اسٹریٹ کرائمز ہی ہیں
اسٹریٹ کریمنلز سے تو آئی جی کا خاندان بھی محفوظ نہیں ہے
آج کی بات……..سید شاہد حسن کے قلم سے
آئی جی سندھ پولیس ڈاکٹر کلیم امام ایک قابل افسر ہیں۔ کھری بات کرنے اور اپنے موقف پر ڈٹ جانے کی وجہ سے وہ اپنے محکمہ میں ہر دلعزیز افسر کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ ایسے دبنگ افسر کو گزشتہ روز کمیونٹی پولیسنگ برائے ریسپانسیو گورننس کے سلسلے میں منعقدہ ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے بہت بے بس محسوس کیا گیا۔ آئی جی سندھ بتا رہے تھے کراچی شہر میں میرا خاندان بھی لٹ چکا ہے۔ میری ساس سے زیورات اتروائے گئے‘ بھائی اور بھتیجے کو لوٹا گیا۔ ہم نے بڑے جرائم کو کنٹرول کرلیا لیکن اسٹریٹ کرائم اب بھی بڑا مسئلہ ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ جب محکمہ پولیس کے سربراہ کا خاندان غیر محفوظ ہو تو عام شہری خود کو کیسے محفوظ سمجھ سکتا ہے۔ اسٹریٹ کرائم کو چھوٹا موٹا جرم سمجھنا اسٹریٹ کریمنلز کی حوصلہ افزائی کے مترادف ہے کیونکہ بڑے جرائم بھی اسٹریٹ کریمنلز ہی کو جنم دیتے ہیں۔ ہمدرد یونیورسٹی کی طالبہ مصباح کا قتل اس بات کا ثبوت ہے۔ قاتل پہلے کچرا چنتا تھا پھر اُس نے چوریاں شروع کیں اور آخر کار وہ قاتل بن گیا۔ جس شہر یا صوبے کی پولیس اسٹریٹ کرائمز کو چھوٹا جرم سمجھتی ہو اور انہیں کیفر کردار تک پہنچانے میں ناکام ہوجائے تو اس کا صاف مطلب یہی ہے کہ آپ نے بڑے جرائم کی آبیاری کی ہے۔ مقدمات میں ملوث یا جیلوں میں قید ملزمان یا مجرموں کی تفصیلات جمع کی جائیں تو ان میں زیادہ تر ملزمان وہ ہیں جنہوں نے اپنی مجرمانہ زندگی کا آغاز اسٹریٹ کرائم سے کیا تھا۔ جہاں تک عوام اور پولیس کے درمیان اعتماد کے رشتے قائم نہ ہونے کا تعلق ہے تو اس کی بے شمار وجوہات ہیں ان میں ایک وجہ پولیس اہلکاروں میں اخلاقیات کی کمی ہے۔ آئی جی صاحب یقینا اس بات سے اتفاق کریں گے کہ پولیس اہلکاروں کا شہریوں کے ساتھ رویہ انتہائی توہین آمیز ہوتا ہے۔ پولیس فورس میں بدقسمتی سے ایسے اہلکاروں اور افسران بہت ہی کم ہیں جو شہریوں کو عزت و احترام دیتے ہیں ورنہ شہری تھانے جانے سے اس قدر گھبراتا ہے کہ وہ رشوت دے کر جان چھڑواتا ہے اور اکثر یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ اگر پولیس کسی چھوٹی موٹی غلطی پر شہری کو روک لے تو یا تو شہری فرار ہونے کی کوشش کرتا ہے اور اگر پولیس اہلکاروں کے پاس چلا جائے تو فوراً رشوت کی پیشکش کردیتا ہے اس صورت حال میں صرف پولیس اہلکار ہی ذمہ دار نہیں ہوتے خود شہریوں کا طرزِ عمل بھی قابل گرفت ہوتا ہے۔ یقینا پولیس بہت کام کرتی ہے۔ انہیں ہر وقت جان کا خطرہ لاحق ہوتا ہے۔ پولیس اہلکاروں کو بلاجواز شہید کردیا جاتا ہے۔ اکثر اوقات پولیس افسران اور اہلکاروں کے قاتل پکڑے نہیں جاتے یہ قاتل وہی ہیں جنہوں نے اپنی ابتدا اسٹریٹ کرائم سے کی ہوتی ہے۔ آئی جی صاحب نے درست کہا ہے کہ کمیونٹی پولیسنگ کا مطلب عوام دوست پولیس ہے مگر یہاں ایک سوال یہ ہے کہ جب پولیس اہلکار خود جرائم کی سرپرستی کرنے لگےں تو وہ عوام دوست پولیس کیسے بن سکتے ہیں ۔ شہر میں گٹکے پر پابندی کے باوجود پولیس کی سرپرستی میں گٹکے کی تیاری اور خرید و فروخت کا معاملہ ہی دیکھ لیں ‘ تحقیقات کے بعد پولیس کی ’عوام دوستی‘ کی حقیقت کھل کر سامنے آجائے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے