Home / اداریہ / کراچی کے شہریوں کیلئے نئے خواب

کراچی کے شہریوں کیلئے نئے خواب

یوں تو کراچی کے شہریوں کو عرصہ دراز سے سہانے خواب دکھائے جاتے رہے ہیں مگر بدقسمتی سے حکمرانوں نے کبھی اپنے وعدے وفا نہیں کئے ۔ اب سندھ حکومت نے کراچی کے شہریوں کو ایک اور خواب دکھایا ہے خدا کرے کہ یہ خواب حقیقت کا روپ دھارے ‘ صوبائی وزیر بلدیاتی سید ناصر حسین شاہ نے خوشخبری سنائی ہے کہ ورلڈبینک کے تعاون سے کراچی کے شہریوں کے معیار زندگی کو بہتر بنایا جائے گا۔ اس منصوبے پر 33ارب روپے خرچ ہوں گے۔ منصوبہ چھ سال میں مرحلہ وار مکمل ہوگا۔ اس منصوبے کی تکمیل کے بعد کراچی والوں کی زندگی میں خوشگوار تبدیلی کا آغاز ہوگا۔ عالمی بینک کے اس منصوب کے تحت بلدیہ کراچی ‘ شہر کی ضلعی بلدیات ‘ڈسٹرکٹ کونسل اور لوکل کونسلز کی کارکردگی کو بہتر بنایا جائےگا ۔ افسران اور ملازمین کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کےلئے ان کی تربیت کی جائے گی اور بلدیاتی اداروں کو عوام کی خدمت کے بہترین ادارے بنا دیا جائے گا۔ سندھ حکومت اور بلدیہ کرچی سمیت دیگر بلدیاتی اداروں کے درمیان کبھی تعلقات خوشگوار نہیں رہے۔ سیاسی اختلاف کی وجہ سے ان اداروں پر پارٹی مفادات جاری رہے ہیں اور کراچی کی تباہی میں سب سے بڑا فیکٹر یہی سیاسی رسہ کشی رہی ہے ۔ صوبائی حکومت نے اب جبکہ ایک اچھا قدم اٹھانے کا فیصلہ کرلیا ہے تواس کے لیے سب سے پہلے بلدیاتی اداروں کوسیاست سے پاک کرنا ہوگا ‘ اور اُسے سرکاری اداروں میں سیاست پر پابندی کے قانون کولاگو کرنا ہوگا اور ایسے عناصر جو سرکاری ملازم بھی ہیں اور کسی سیاسی پارٹی کے عہدے دار بھی ہیں اور جن کی وجہ سے شہری خدمات کے ادارے گذشتہ کئی دہایوں سے غیر موثر ہوچکے ہیں اور جنہوں نے ان اداروں میں بقول سید ناصر حسین شاہ کے دس ہزار گھوسٹ ملازمین کو بھرتی کیاایسے عناصر سے بلدیاتی اداروں کو پاک کیئے بغیر کوئی منصوبہ کامیا ب نہیں ہوسکتا۔ کراچی میں آج شہریوں کو جتنے بھی مسائل کا سامنا کرناپڑرہا ہے اس کے ذمہ د ار یہی گھوسٹ ملازمین ہیں جو گھر بیٹھے پرکشش تنخواہیں وصول کررہے ہیں اور اپنے محکموں پر بوجھ بنے ہوئے ہیں اور ان کے اپنے منتخب کردہ میئر اور چیئرمین مالی وسائل کی کمی کو رونا رونے پر مجبور ہیں۔ وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے بھی شہریوں کو ایک خوشخبری سنائی ہے جس کے تحت صوبے میں غربت کا خاتمہ کیا جائے گا اور اس ضمن میں اقوام متحدہ کا ذہلی اداروہ ” پاپولیشن فنڈز “ سندھ حکومت سے تعاون کرےگا جس کے تحت خواتین کو روزگار اور اچھی صحت کی سہولیات دی جائیں گی اور خاندانی منصوبہ بندی میں ماں کی صحت بچوں کی پیدائش میں وقفے کیلئے پروگرام شروع کیئے جائیں۔ افادیت کے لحاظ سے یہ شاندار پروگرام ہے اگر اس پر وگرام پر افسر شاہی کومسلط نہ کیا جائے۔ اقوام متحدہ کے وفد نے بھی وزیراعلیٰ سے ملاقات میں اپنی خدشات کا اظہار کیا ہے۔ اس پروگرام کی نگرانی اگر وزیراعلیٰ خود کریں تو یہ سندھ کے عوام کے لیے بڑا کارگر ثابت ہوسکتا ہے۔ ایک خوشخبری کراچی والوں کووفاقی حکومت نے بھی سنائی تھی مگر اس پر سندھ حکومت کے اعتراضات کی وجہ سے عمل درآمد سے پہلے ہی متنازعہ بنادیا گیا۔ وفاقی حکومت نے سندھ کے ساحل پر ایک نیا شہر آباد کرنے کا منصوبہ بنایا تھا مگر اس منصو بے کی راہ میں 18ویں ترمیم رکاوٹ بن گئے ہے۔ وفاق صوبے کے وسائل پر کوئی مداخلت نہیں کرسکتا ۔ سندھ حکومت نے وفاقی حکومت کویہاں تک کہہ دیا ہے کہ وفاق کو سندھ کی ایک انچ زمین پر بھی قبضہ نہیں کرنے دیا جائے گا۔ سندھ میں نئے شہر کی ضرورت سے بھلاکون انکار کرسکتا ہے۔ کراچی کا موجودہ انفراسٹکچر بھی اب اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ یہاں مزید آبادیوں کوکھپایا جائے۔ بہر حال اگر وفاقی حکومت ‘سندھ حکومت کے باہم ‘ تعاون اور رضا مندی سے ساحلی شہر بسانا چاہتی ہے تو اس میں رکاوٹ نہیں بنا چاہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے