Home / تعلیم / ڈاکٹر الطاف پر تشدد کے الزام میں 30 طلبہ گرفتار

ڈاکٹر الطاف پر تشدد کے الزام میں 30 طلبہ گرفتار

کراچی ( اسٹاف رپورٹر ) وفاقی جامعہ اردو میں شیخ الجامعہ اور ملازمین کو زدو کوب کرنے کے الزام میں 30طلبہ گرفتار ، شیخ الجامعہ اور ملازمین کو زدو کوب کرنے والے طلبہ کے خلاف ایف آئی آر( FIR)واپس نہیں ہوگی۔ جامعہ کی تادیبی کمیٹی اِن طلبہ کے مستقبل کا فیصلہ کرے گی۔ تفصیلات کے مطابق وفاقی جامعہ اردو میں شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹرایس الطاف حسین کے ساتھ پیش آنے والے انتہائی ناخوشگوار واقعہ کے خلاف جامعہ اردو کے تمام ملازمین کا گلشن اقبال و عبدالحق اور اسلام آباد کیمپسزمیں احتجاجی مظاہرہ ہوا۔ جس میں جامعہ اردوکے تمام ملازمین نے شیخ الجامعہ و دیگر ملازمین کے ساتھ یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ ایسے تمام غنڈہ عناصرکا جامعہ سے فوری طور پر داخلے منسوخ کیاجائے اور ان کے خلاف فوری طور پر تادیبی کارروائی کی جائے۔ جامعہ اردو کے ملازمین نے پیر تک تمام تدریسی عمل کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے اورآئندہ کا لائحہ عمل طے کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ جامعہ کے ملازمین نے ڈی جی رینجرز اور آئی جی سندھ سے مطالبہ کیا کہ تمام ملازمین کو فوری طور پر سیکورٹی فراہم کی جائے۔مظاہرین کا کہنا تھا کہ گزشتہ روز پیش آنے والے واقعہ کے دوران پولیس اور رینجرز خاموش تماشائی بنی رہی۔ اگر وہ قانونی کارروائی کرتے ہوئے ان تمام طلبہ کو اس وقت منتشر کردیتے تو یہ واقعہ پیش نہ آتا۔اردو یونیورسٹی کے جملہ ملازمین نے اجلاس کے دوران یہ طے کیا کہ اسلام آباد کیمپس میں (بروز جمعرات)یوم ِ سیدنا حضرت امام حسینؓ کے انعقاد کی اجازت دے دی جائے اور وہ طلبہ جو شیخ الجامعہ اور ملازمین کو زدو کوب کرنے میں شامل تھے ان کے خلاف ایف آئی آر FIR) (واپس نہیں ہوگی۔ایسے تمام طلبہ جو جامعہ کے قوانین کو توڑنے اور پُرتشدد کارروائی میں شریک تھے ان کے خلاف جامعہ کی تادیبی کمیٹی فیصلہ کرے گی۔علاوہ ازیں وفاقی اردو یونیورسٹی کے شیخ الجامعہ پر حملہ کا مقدمہ عزیز تھانے میں درج کرلیا گیا ہے ۔ پولیس کے مطابق مقدمہ کیمپس آفیسر محمد آصف کی مدعیت میں درج کیا گیا۔ مقدمے میں شیخ الجامعہ کو دھمکیاں دینا آفس میں محصور رکھنے اور ہنگامہ آرائی اور توڑ پھوڑ کی دفعات کے تحت درج کیا گیا ہے۔پولیس نے کارروائی کر کے 30 سے زائد طلبہ کو گرفتار کر لیاہے اور گرفتار طلبا کو عزیز بھٹی تھانے منتقل کردیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے