Home / اداریہ / کراچی تقسیم در تقسیم ‘ مسائل کا انبار

کراچی تقسیم در تقسیم ‘ مسائل کا انبار

تقسیم در تقسیم کے عمل نے کراچی شہر کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔ سیاسی مفادات کی جنگ نے اس شہر کو شہر غریباں بنا دیا ہے حالانکہ کراچی کسی ایک قوم یا ایک جماعت کا شہر نہیں ہے۔ یہاں ہر قوم اور پورے پاکستان کے تمام علاقوں کے لوگ آباد ہیں ‘ کراچی پورے پاکستان کا نمائندہ شہر ہے۔ مگر کراچی کو سب سے پہلے لسانی بنیادوں پر تقسیم کیا گیا جب ایک محضوص قوم نے کراچی پر حق ملکیت کا دعویٰ کیا تو دیگر قومتوں کے لوگوں نے یہ دعویٰ مسترد کردیاپھر یہاں تک ہوا کہ لسانیت کی بنیاد پر خونسریز تصادم ہوئے۔ پھر سیاسی بنیادوں پراس شہر کی تقسیم ہوئی۔ لسانی جماعتیں وجود میں آگئیں اور یوں شہر کے وسائل پر قبضے کی جنگ شروع ہوگئی۔ شہری اپنے اپنے علاقوں میں یرغمال بنالئے گئے اکثریت کی بنیاد پر شہر کے تمام وسائل پر ایک جماعت کی بالا دستی قائم ہوگئی ہر ادارے اور محکمے میں اپنے لوگوں کو زیادہ سے زیادہ تعداد میں کھپانے کی کوشش میں مختلف قومیتوں کے لوگ عدم تحفظ کا شکار ہوگئے۔ لسانی شناخت کی بنیاد پر بستیاں آباد ہونے لگیں اور پورا شہر عدم توازن کا شکار ہوگیا کسی علاقے میں بہت زیادہ ترقی ہوئی تو کوئی علاقہ بری طرح نظر اندازکردیا گیا۔ کراچی کچرے کا ڈھیر بنتا چلا گیا‘ یہاں صفائی ‘ پانی کی فراہمی ٹریفک جام ‘ سڑکوں پر تجاوزات کے نام پر لاکھوں افراد کہ بے روزگار کیا جانے لگا۔ اسٹریٹ کرائم بڑھ گئے۔ گندے پانی کی نکاسی سے کراچی گندگی ‘ بدبو اور بیماریوں کا مرکز بن گیا۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ تمام مسائل یک دم کیوں سامنے آرہے ہیں۔ کراچی اب اندھیروں کا شہر بنتا جا رہا ہے ؟ شہری آبادی کی لسانی تقسیم کے بعد شہری ادارے بھی تقسیم ہوتے چلے گئے کراچی جو کبھی ایک شہر ہوا کرتا تھا ‘ آج وہ چھ شہروں کا ایک شہر ہے۔ ضلع شرقی ‘ غربی ‘ جنوبی ‘ وسطی ‘ کورنگی اور مرکزی شہر‘ اب اس تقسیم کانتیجہ آج ہمارے سامنے ہے بلدیہ عظمیٰ کراچی شہر کا مرکز ہے۔ اضلاح کی بنیاد پر پانچ ضلعی بلدیاتی کے ادارے کام کررہے ہیں۔ بلدیہ عظمیٰ کے اپنے اختیارات ہیں۔ ضلعی بلدیات کی اپنی اپنی حدود اور اختیارات ہیں ‘ دراصل کراچی کے شہری مسائل میں روز بروز اضافے کی بنیادی وجہ بھی یہی اداروں کی تقسیم ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھاکہ پوری دنیا کے ترقی یافتہ شہروں کی طرح بلدیہ کراچی کو مرکزی حیثیت حاصل ہوتی اور میئر کراچی کا انتخاب غیر سیاسی بنیاد دوں پر کیا جاتا تاکہ میئر پورے شہر کو اپنا شہر سمجھ کر یہاں بلدتخصیص ترقیاتی کام کرواتا مگر میئر کی وابستگی واضع طور پر سیاسی جماعت کے ساتھ ہونے کی وجہ سے ہمارے میئر بروقت سیاسی دباؤں میں نظر آتے ہیں۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ کراچی کے مسائل حل کرنے کے بجائے فنڈز کے حصول پر زیادہ اختلافات نظر آتے ہیں۔ فنڈز کے تقسیم ہونے کی وجہ سے کسی ایک مسئلے کو بھی حل نہیں کیا جا رہا ہے مثال کے طور پر کراچی میں ہر روز جمع ہونے والا کچرا اتنا زیادہ اس لئے بھی ہے کہ یہ ایک نہیں پانچ شہروں کا کچرا ہوتا ہے جسے یک دم اٹھانا اور ٹھکانے لگا نا ناممکن ہے۔ اگر کراچی کے مسائل حل کرنے ہیں تو اس کےلئے ضرری ہے کہ کراچی کے بلدیاتی نظام کو خود مختار بنادیا جائے ‘ شہر کے تمام ادارے میئر کراچی کے ماتحت کردیئے جائیں جبکہ میئر کراچی کوبھی چاہیے کہ وہ کسی ایک سیاسی جماعت یا قوم کا میئر بننے کی بجائے پورے شہر کا میئر بن کر بتائیں کراچی پورے پاکستان کا نمائندہ شہر ہے ایسے شہر کی میئرشپ کے تقاضے تو یہ ہیں کہ ملک کا ہر شہر کراچی کو اپناشہر سمجھے اور میئرکراچی کو عوام کا نجات دھندہ سمجھا جانے لگے۔ بظاہر یہ بات مشکل نظر آتی ہے مگر دنیا میںایسی بے شمار مثالیں موجود ہیں۔ لندن کے میئر کی مثال ہمارے سامنے ہے جو ہیں تو لندن کے میئر مگر وہ پورے برطانیہ کی نمائندگی کرتے ہیں اور ان کی شناخت محض لندن نہیں بلکہ برطانیہ ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے