Home / کالم مضامین / ایف بی آر کو کیوں نہ بند کردیا جائے؟

ایف بی آر کو کیوں نہ بند کردیا جائے؟

سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس گلزار احمد کے ریمارکس لمحہ فکریہ
تاجر برادری بھی ایف بی آر سے غیر مطمئن‘ سڑکوں پر آنے پر مجبور
آج کی بات……..سید شاہد حسن کے قلم سے
آخر ایسی کیا بات ہے کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی کارکردگی سے کاروباری برادری مطمئن ہے نہ ملک کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ آف پاکستان مطمئن ہے۔ سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس گلزار احمد جو آئندہ دسمبر میں چیف جسٹس کا عہدہ سنبھالیں گے۔ انہوں نے ایف بی آر کو ملک پر بوجھ قرار دیا ہے۔ ایف بی آر کے ایک ملازم کی درخواست کی سماعت کے دوران فاضل جج صاحب کا کہنا تھا کہ ایف بی آر صرف 20 فیصد ٹیکس جمع کرتا ہے اور اتنا کم ٹیکس وصول کرنے کے لئے 22 ہزار افرادکی فوج رکھی ہوئی ہے۔ 80 فیصد ٹیکس تو اِن ڈائریکٹ جمع ہوجاتا ہے جبکہ کھربوں روپے ہر سال خرچ کردیئے جاتے ہیں۔ ایسے ادارے کو تو بند کردینا چاہیے۔ اگر جج صاحب کے ان ریمارکس کو دیکھا جائے تو یہ بات حقیقت پر مبنی ہے ۔ پاکستان میں رائج الوقت ٹیکس کا نظام ایسا ہے کہ ملک کے 22 کروڑ عوام ہر چیز کی خرید و فروخت پر ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر گیس‘ بجلی‘ پیٹرولیم مصنوعات پر صارفین سے بھاری ٹیکس وصول کیا جاتا ہے۔ موبائل ٹیلی فون صارفین اس وقت 16 ارب 70 کروڑ روپے سالانہ ٹیکس ادا کررہے ہیں۔ روز مرہ کے استعمال کی اشیاءپر عوام سے سیلز ٹیکس وصول کیا جارہا ہے ۔ یہ تمام ٹیکسز ایف بی آر کی جانب سے جمع کردہ ٹیکسوں کی شرح سے کہیں زیادہ ہےں۔ اگر بڑے ٹیکس نادہندگان کی بات کی جائے تو پورے ملک میں اُن کی تعداد اتنی نہیں ہے جن سے ٹیکس وصولی کے لئے 22 ہزار افراد کی ایک فوج رکھی جائے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ کاروباری طبقہ ایف بی آر سے مطمئن نہیں ہے۔ اس ادارے کی کارکردگی اور طریقہ کار کی وجہ سے ملک میں ترقی کی شرح تیزی سے نیچے آرہی ہے۔ سب سے زیادہ ٹیکسٹائل کی صنعت متاثر ہوئی ہے۔ فیصل آباد کے سینکڑوں کارخانے بند ہوچکے ہیں۔ کراچی میں چھوٹے تاجر تک سڑکوں پر آنے پر مجبور ہیں۔ کراچی ٹریڈرز الائنس چھوٹے تاجروں کی تنظیم ہے جو اب سڑکوں پر احتجاج کرتے نظر آتے ہیں۔ گزشتہ روز ان تاجروں نے ایف بی آر کے نامناسب روئیے‘ غلط بیانی پر بھوک ہڑتال کی اور احتجاجی مظاہرہ کیا۔ ان کا مطالبہ یہ تھا کہ حکومت فوری طور پر ایف بی آر کے چیئرمین کو برطرف کرے جن کی پالیسیوں کی وجہ سے معیشت کا پہیہ نہیں چل رہا ہے اگر ہمارا کاروبار تباہ ہوا تو ہم بھی سول نافرمانی کی تحریک چلانے پر مجبور ہوجائیں گے۔ کراچی ٹریڈرز الائنس کے عہدے داروں کا کہنا تھا کہ ایف بی آر کے افسران سے ہماری 14ملاقاتیں ہوچکی ہیں جو سب کی سب بے سود ثابت ہوئیں۔ یہ لوگ صرف دلاسے دیتے ہیں۔ ٹیکسوں کی وجہ سے ہمارا کاروبار کرنا مشکل ہوگیا ہے۔ 50 ہزار روپے کی خریداری پر شناختی کارڈ کی شرط نے کاروبار تباہ کردیا ہے۔ چیئرمین ایف بی آر کس کے سیاسی ایجنڈے پر کام کررہے ہیں؟ بڑے تاجر اور صنعتکاروں نے پہلے ہی سرمایہ کاری کا عمل روک دیا ہے اور اکثر صنعتکار اپنا کاروبار بند کرکے بیرون ملک جاچکے ہیں۔ سپریم کورٹ کے جج جسٹس گلزار احمد کی یہ بات قابل غور ہے کہ ملک بھر سے 20 فیصد ٹیکس جمع کرنے کے لئے 22 ہزار افسران کی فوج ظفر موج رکھنے سے تو بہتر ہے کہ اس ادارے کو بند کردیا جائے اورٹیکس جمع کرنے کے لئے بالواسطہ ٹیکس وصولی کا نظام متعارف کرایا جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے