Home / کالم مضامین / کراچی کا فخر ‘ اخبار فروش کا بیٹا انس حبیب

کراچی کا فخر ‘ اخبار فروش کا بیٹا انس حبیب

انٹرمیڈیٹ کامرس گروپ میں اول آنے والے طالب علم نے ہر شہری کا سر فخر سے بلند کردیا
شعبہ تعلیم کے بدترین حالات میں غریب محنت کش کے بیٹے کی کامیابی مشعل راہ ہے
آج کی بات……..سید شاہد حسن کے قلم سے
اعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی کے تحت کامرس گروپ ریگولر کے سالانہ امتحانات کی نتائج جہاں ایک جانب شرمندگی کا باعث ہیں تو دوسری جانب ایک نتیجہ ایسا بھی آیا جس نے کراچی کے ہر شہری کا سر فخر سے بلند کردیا۔ کامرس گروپ کے امتحانات میں کل 41985 طلبہ و طالبات نے امتحانات میں شرکت کی اور ان میں سے 29 ہزار امیدوار فیل ہوگئے۔ 23 سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں کا نتجہ صفر رہا جبکہ بھٹو خاندان کے مختلف افراد کے ناموں پر قائم کئے گئے پانچ کالجز کے نتائج بھی شرمناک رہے۔ اس قسم کے نتائج کا اعلان کراچی انٹر بورڈ کا گزشتہ تین سال سے معمول بن گیا ہے۔ پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں بھٹو خاندان کی قابل فخر شخصیات کے نام پر قائم کالجز پر حکومت سندھ کی خاص توجہ ہونی چاہیے تھی مگر کیا کیا جائے حکومت سندھ نے تعلیمی شعبے کو کبھی اہمیت ہی نہیں دی جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ سندھ میں آج کوئی وزیر تعلیم سرے سے موجود ہی نہیں جو تعلیمی پالیسی بنائے اور تعلیم کے شعبے کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرے۔ امتحانی نتائج کی اس بدترین صورت حال کے باوجود کراچی کے ایک بیٹے نے اپنے شہر کا سرفخر سے بلند کردیا ہے۔ اس طالب علم کا نام ہے انس حبیب جو ایک اخبار فروش کا صاحبزادہ ہے۔ جس نے 1100 میں 969 نمبر لے کر اول پوزیشن لی ہے۔ اخباری دنیا کے لوگ انس حبیب کے والد محترم حبیب احمدکو اچھی طرح جانتے ہیں۔ یہ بزرگ اخبار فروش گزشتہ 45 سال سے صدر کے علاقے ریگل ایمپریس مارکیٹ میں حبیب نیوز پیپرز اینڈ بک اسٹال پر اخبارات اور جرائد فروخت کرتے ہیں۔ ان کے صاحبزادے انس حبیب کا کہنا ہے کہ میرے والد کی یہ خواہش تھی کہ میں اعلیٰ تعلیم حاصل کروں۔ وہ مجھے ڈاکٹر بنانا چاہتے تھے مگر میرا رجحان کامرس کی جانب تھا۔ میں نے اپنے محنت کش باپ کی خواہش کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے خوب محنت کی۔ میری منزل صرف تعلیم تھی اور آئندہ بھی رہے گی مجھے پڑھانے کے لئے میری بہن نے بہت محنت کی اور یوں میں نے اپنے والد کی خواہش کو حقیقت کا روپ دے دیا۔ انس حبیب کراچی کے ہر طالب علم کے لئے مشعل راہ ہے‘ وہ بڑے فخر سے بتاتا ہے کہ میرے والد اخبار فروش ہیں ۔ اس کا موقف ہے کہ محنت میں عظمت ہے۔ محنت کرنے والے کو کبھی مایوسی کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ انس حبیب کے ساتھ دوسری اور تیسری پوزیشن حاصل کرنے والے طالب علم مزمل احمد خان اور طالبہ عروبہ ریاض بھی قابل فخر ہیں کیونکہ ان کا تعلق بھی تابانیز کالج نارتھ ناظم آباد ہی سے ہے۔ تینوں پوزیشنز ایک ہی کالج کے طلبہ و طالبہ کا حاصل کرنا بھی ایک منفرد اعزاز ہے اور یقینا اس کالج کے اساتذہ کی محنت شاقہ کا ثمر ہے لیکن انس حبیب نے خود کو ایک محنت کش کا محنتی بیٹا ثابت کرکے تمام صاحب اولاد والدین کا سر فخر سے بلند کردیا ہے۔ واقعی محنت میں عظمت ہے اور محنت بھی ایسے حالات میں جب حکومتی سطح پر تعلیم کے شعبے کو مکمل طور پر نظر انداز کردیا گیا ہو۔ اس شعبے میں اقربا پروری کا دور دورہ ہو۔ جہاں تعلیمی بورڈ میں نمبرز بڑھا دیئے جائیں۔ جہاں نقل کرانے والے افراد امتحانی امور کے سربراہ بنا دیئے گئے ہوں‘ جہاں ثابت شدہ الزامات کے باوجود حکومت کی جانب سے کوئی ایکشن نہ لیا جائے ۔ جہاں نقل اور پرچے قبل از وقت آؤٹ ہونے کے واقعات کی روک تھام کے لئے وزیراعلیٰ کو خود امتحانی مراکز پر چھاپے مارنے پڑیں ایسے ماحول میں انس حبیب جیسے طالب علم کا اپنی شبانہ روز محنت کے نتیجے میں اول پوزیشن حاصل کرنا بدعنوان عناصر کے منہ پر زور دار تھپڑ نہیں تو اور کیا ہے؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے