Home / اداریہ / سرفراز احمد کپتانی کے لیے پھر آئے گا ….!!

سرفراز احمد کپتانی کے لیے پھر آئے گا ….!!

کرکٹ شایقین کی جانب سے یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم کوٹی ٹوئنٹی کی نمبر ون ٹیم بنانے والے کپتان کو ہٹانے کے بعد کیا پاکستان اپنی یہ پوزیشن مستقبل میں بھی برقرار رکھ سکے گا کیونکہ مصباح الحق کے دوعہدے سنبھالنے اور وقار یونس کے باؤلنگ کوچ بننے کے بعد سری لنکا سے سریز میں قومی کرکٹ ٹیم کی بدترین شکست کے بعد یہ تصور بھی کرنا محال ہے کہ ان دونوں کی موجودگی میں پاکستانی کرکٹ ٹیم اپنی یہ پوزیشن دوبارہ حاصل کرلے ۔ہوم گراؤنڈ میں ٹی ٹوئنٹی میچز کے دوران ایک بی ٹیم سے پاکستان تینوں میچز ہار گیا ۔ عمر اکمل اور احمد شہزاد جیسے کھلاڑیوںکو زیر دستی ٹیم میں شامل کردیا گیا۔ سلیکشن میں بھی ذاتی خواہشات غالب رہیں‘اور سارا ملبہ سرفراز احمد پر ڈال دیا گیا۔ لگتا ہے کہ مصباح الحق کو کسی موقع کی تلاش تھی جو انہیں مل گیا۔ سرفراز احمد کو عہدے سے ہٹانے کے بعد شائقین کرکٹ بھڑک اٹھے ہیں ‘ باقاعدہ احتجاج کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ ان کاکہنا ہے کہ اب ٹی ٹوئنٹی کی تباہی کا دور شروع ہوچکا ہے شائقین کرکٹ بینرز اور پلے کارڈ اٹھاکر احتجاجی مظاہرے کررہے ہیں اور کوئی امید نہیں کہ مظاہروں کا یہ سلسلہ ملک بھرمیں پھیل جائے ‘ آسٹریلیا کا مشکل ترین دورہ سرپر ہے اور خدانخواستہ نتائج اچھے نہ رہے تو مصباح الحق اور وقار یونس کے پاس شکست کاکوئی جواز نہیں ہوگا اور وہ شاید ایک بار پھر نئے کپتان کو قربانی کا بکرا بنادیں۔ کرکٹ ورلڈ کپ بھی آنے والا ہے۔ اوسط درجے کے نئے کھلاڑی کیا اس قابل ہونگے کہ وہ بھارت انگلینڈ اور آسٹریلیا جیسی مضبوط ٹیموں کا مقابلہ کرسکیں ‘ کرکٹ کے معاملات مزید بگڑتے نظر آرہے ہیں۔ سابق کرکٹرز بھی بورڈ کے معامالت کی وجہ سے خامے پر یشان ہیں ‘ سرفراز احمد کو ہٹانے پر جاویدمیانداد کا موقف ہے کہ بابر اعظم کو کپتان بنانے میں جلد بازی دکھائی گئی ‘بابر اعظم کو ٹیم کی قیادت کا سرے سے کوئی تجربہ ہی نہیں ہے۔ راشد الطیف نے بابر اعظم کو خودغرض کرکٹ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ایسے قیادت سونپنا غلط فیصلہ ہے۔ کرکٹ بورڈ نے کوئی ہوم ورک نہیں کیا۔ عماد وسیم اور محمد عامربھی کپتانی کے امید وار تھے جو اب بابر اعظم جیسے ناتجربہ کار کپتان کی قیادت میں کوئی بہتر کار کردگی نہیں دکھا پائیں ‘ باسط علی کاموقف ہے کہ سرفرا احمد کو ہٹانے میں کرکٹ بورڈ انتظامیہ کا کراد بھی مشکوک ہوگیاہے۔ ٹیم کی قیادت کوئی آسان کام نہیں ہے۔ بابر اعظم یقینا ورلڈ کلاس بیسٹمین ہیں مگر انہیں کپتان بناکر نوجوان کرکٹر کے ساتھ زیادتی کی گئی ہے کیونکہ وہ کپتانی کے لیے درست انتخاب نہیں ہے۔ سرفراز احمد کو اسکواڈ سے ڈراپ کرتے ہوئے انہیں ڈومیسٹک کرکٹ میں فارم بحال کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ ون ڈے ٹیم کی قیادت اور ٹیم میں جگہ بنانے کے بارے میں کوئی اعلان نہیں کیا گیا اور فارمیٹ سے بھی ان کی چھٹی کا امکان ہے۔ کرکٹ کے معاملات ہاتھ سے نکلتے ہوئے دیکھ کر کرکٹ بورڈ نے سرفراز احمد کے سینٹرل کنٹریکٹ کی اے کیٹنگری کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ دورہ آسٹریلیاں کے لیے کرکٹ بورڈ کو جن مشکلات کا سامنا ہے ان سے نمٹنا مشکل نظر آرہاہے۔ اکثر کھلاڑی فٹنس کے مسائل کا شکار ہیں۔ مشاورت کاعمل جاری ہے اور اس بات کاامکان ہے کہ چیئرمین کرکٹ بورڈ کی منظوری کے بعد آسٹریلیاں کا دورہ کرنے والے اسکواڈ کا آج اعلان کردیا جائے گا کھلاڑیوں کے نام سامنے آنے کے بعد شائقین کرکٹ کو پتہ چل جائے گا کہ سرفراز احمد کے بعد ٹیم کس قدر مضبوط بنی ہے یامحض ٹوٹل پورا کیا گیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے