Home / پاکستان / کراچی سول اسپتال سرکاری دواؤں قیمتی اشیاءکی چوری کا مرکز بن گیا

کراچی سول اسپتال سرکاری دواؤں قیمتی اشیاءکی چوری کا مرکز بن گیا

کراچی(اسٹاف رپورٹر) سول ہسپتال کراچی تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا، سیکریٹری صحت کے حکم کے باوجود ہسپتال کی انتظامیہ خلاف قانون سرگرمیوں میں ملوث سرکاری ملازمین کے خلاف سروس رولز کے مطابق کارروائی کرنے کے بجائے انہیں منانے میں مصروف،غریب مریضوں کی دواؤں سمیت ایکسرے فلمیں اور سرجری میں استعمال ہونے ولے ڈسپوزیبل قیمتی سامان کی یومیہ چوری معمول بن گئی،ہسپتال انتظامیہ کے ذمہ داروں کے مطابق چوری کی وارداتوں کا سرغنہ لیاقت مستوئی ہے جو اس سے قبل بھی دسمبر 2016ءمیں سول ہسپتال کی سرکاری دوائیں بلدیہ ٹاؤن میں فروخت کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑے جانے کے بعد طویل عرصہ جیل میں بھی رہا لیاقت مستوئی وارڈ بوائے ہے لیکن سپریم کورٹ کے حکم کے برعکس یہ گزشتہ دس سال سے زائد عرصہ سے سول ہسپتال کے اسٹور میں ٹیبلیٹ سیکشن کا غیر قانونی انچارج بنا ہوا ہے اور سول ہسپتال میں چوری کا منظم گروہ قائم کررکھا ہے جس میں سپریم کورٹ کے حکم کے برعکس نرسنگ اردلی عبدالکریم خان کو سیکورٹی انچارج لگواکر شاہ زیب سپروائزر کی نگرانی میں یومیہ بنیاد پر خالی پلاسٹک کے بوروں اور گتے کے ڈبوں میں صفائی کمپنی کے عارضی جمعداروں کے ساتھ مل کر چوری کی دوائیں پہلے کچرا کنڈی میں پھینکوائی جاتی ہیں پھر وہاں سے شاہ زیب کی نگرانی میں چوری کی دوائیں لیاقت مستوئی کے بھینسوں کے باڑے مچھر کالونی ماڑی پورروڈ سے فروخت کے لئے آگے جاتی ہیں۔ جبکہ گزشتہ روز ایک جمعدار کو خود ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر خادم حسین قریشی نے بوری بھری چوری کی دوائیں کچراکنڈی لے جاتے ہوئے پکڑیں تو چوروں کا یہ منظم گروہ قیوم مروت لشکر کی صورت میں ایم ایس آفس پہنچا اور تمام افسروں کو یرغمال بناکرہسپتال کی انتظامیہ کو نہ صرف مذکورہ چوری کی تھانے میں جاکر ایف آئی آر درج کرانے سے روکا بلکہ اپنی لاقانونیت کی پردہ پوشی کے لئے مقامی ہوٹل میں ہسپتال انتظامیہ کی جانب سے دعوت بھی رکھوائی۔ذرائع کے مطابق قیوم مروت سابق وزیر عرفان اللہ مروت کے دورمیں وارڈ بوائے کی حیثیت سے بھرتی ہواتھا اس نے خلاف قانون کیڈر تبدیل کروایا اور آج کل گریڈ 15میں اسٹور کے انجکشن برانچ کا انچارج ہے۔ایک روز بھی ڈیوٹی کئے بغیر حنان نامی اسٹور کیپر کو ذاتی طورپر ماہانہ دس ہزار روپے دے کراپنی ڈیوٹی اس سے لیتا ہے اور لاکھوں کا کمیشن خود وصول کرتاہے جبکہ کئی نرسنگ اسکولوں کے مالک ہونے کے علاوہ کلفٹن، باتھ آئی لینڈ اور مولوی تمیز الدین خان روڈ پر لگژری فلیٹوں کا مالک بھی ہے۔ہسپتال کے ایمان دارافسروں نے بتایا کہ ان ملازمین کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے ہسپتال کے ایم ایس اس مافیا کے سیاسی اثر ورسوخ کی بنا پر ان سے اپنی نشست بچانے کے لئے ان کے پریشر میں ہیں جبکہ یہ گروہ اصل میں حکومتی جماعت کے نام کو استعمال کرکے آج بھی عرفان اللہ مروت کے لئے کام کرتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے