Home / پاکستان / کے ڈی اے افسران نے رشو ت کے ریٹ بڑھا دیئے

کے ڈی اے افسران نے رشو ت کے ریٹ بڑھا دیئے

کراچی ( رپورٹ : عمران علی شاہ ) ادارہ ترقیات کراچی میں کرپٹ ترین افسران کی ڈیمانڈ میں اضافہ ہو گیا ۔ حکومت سندھ کی آشیر باد سے کے ڈی اے محکمہ لینڈ میں ڈھونڈ کر کرپٹ افسر لگائے جانے لگے، ماضی میں بد ترین کرپشن کے الزام میں ہٹائے گئے مبینہ جعلی بھرتی ہونے والے افسر عطا عباس کی لاٹری نکل آئی ، دوبارہ ڈائریکٹر لینڈ کے ڈی اے تعینات کروانے میں سندھ حکومت کی اہم سیاسی شخصیات اور افسرانملوث ہیں جن کی ایما پر عطا عباس کے ڈی اے کے اربوں روپے کے پلاٹ کوڑیوں کے مول ٹھکانے لگانے اور گلستان جوہر میں رفاعی پلاٹوں پرچائینہ کٹنگ کے موجب ہونے کا بھی اعزاز حاصل ہے،عطا عباس سمیت دیگر جعلی بھرتی ہونے والے افسران و ملازمین کی بھرتی اور ترقیقں کا ریکارڈ عدلیہ نے طلب کر رکھا ہے مگرعدالت کو دھوکہ دیتے ہوئے ہر بار کوئی نہ کوئی بہانہ بنا کر ٹال دیا جاتا ہے ۔ ذرائع کے مطابق ان کی جعلی بھرتی کے حوالے سے نیب نے نوٹس لیتے ہوئے اس کی انکوائری چیف سیکریٹری کو کروانے کی ہدایت کی تھی تاہم کئی ماہ گزر جانے کے باوجود اس انکوائری کو سرد خانے کی نذر کر دیا گیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ گلستان جوہر کے ایک شہری نے سندھ ہائی کورٹ میں ایک مقدمہ دائر کر رکھا ہے جس میں عطا عباس اور دیگر افسران سمیت لینڈمافیا ، علاقہ پولیس اور ضلعی انتظامیہ کی ملی بھگت سے گلستان جوہر بلاک نمبر 06 میں 404 پلاٹوں کو ٹھکانے لگانے کا الزام ہے۔عطا عباس اپنی نوکری پکی کرنے کے لیے جس طرح سندھ حکومت کی اہم سیاسی شخصیات اور بیرو کریسی کے ہاتھوں استعمال ہوتے رہے ہیں اس سے یہ محسوس ہو رہا ہے کہ عطا عباس کو نیب یا دیگر تحقیقاتی اداروں کے لیے وعدہ معاف گواہ بنائے جانے کا امکان بھی ہے، جبکہ آئندہ چند روز میں نیب اپنی ابتدائی تحقیقات کی روشنی میںنیب ریفرنس سمیت گرفتاریاں بھی کر سکتی ہے۔عطا عباس سے تحقیقات کے دوران سرپرستی کرنے والوں کی بھی انکوائری ہو سکتی ہے اور کے ڈی اے کے دیگر ملوث افسران کے خلاف بھی انکوائری کا امکان ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے