Home / اداریہ / مدت پوری، صفائی مہم ادھوری

مدت پوری، صفائی مہم ادھوری

وزیراعلیٰ سندھ کی صفائی مہم کی مقررہ مدت اختتام پذیر ہوگئی ۔ اس مہم پر 30کروڑ روپے خرچ کئے گئے لیکن شہر میں اب بھی کچرے کے انبار نظر آرہے ہیں ۔بیشتر علاقوں میں سیوریج کے مسائل برقرار ہیں۔ حکومت سندھ کا دعویٰ ہے کہ شہر سے 9لاکھ 79ہزار 941ٹن کچرا اٹھایا گیا ہے۔ چھوٹے بڑے نالوں کی صفائی کی گئی ۔ بیشتر نالوں کی صفائی کے بعد وہاں شجر کاری بھی کی گئی ۔ کسی حد تک تجاوزات کا خاتمہ بھی کیا گیا ہے۔ کراچی واٹر بورڈ نے بڑے پیمانے پر گڑ کی صفائی بھی کی ہے۔ یہ بات ریکارڈ پر موجود ہے کہ صفائی مہم کے لیے کراچی کے چھ اضلاع کے ڈپٹی کمشنر وں کو5کروڑ روپے فی کس دیئے گئے ‘ تھے اور یوں حکومت نے خودہی12لاکھ ٹن کچرا ٹھکانے لگانے کا ہدف مقر ر کیا تھا اور یہ ہدف پورا نہیں کیا جاسکا۔ ضلعی انتظامیہ کے کچرا اٹھانے کے اعداد وشمار اور سندھ گورنمنٹ کے اعداد وشمار میں زمین آسمان کا فرق سامنے آیا ہے۔ 30روزہ صفائی مہم میں محض تین لاکھ35ہزار 831 ٹن کچرا اٹھایا جا سکا ہے۔ وعدے کے مطابق اس وقت بھی شہر میں کچرا کنڈیاں مطلوبہ تعداد سے بہت کم ہیں۔جہاں تک تجاوزات کا تعلق ہے تو اب بھی فٹ پاتھوں اور گرین بیلٹ قبضہ مافیا کے زیر استعمال ہیں یہاں تک کہ فت پاتھوں پر ہوٹل مافیا نے تخت لگا کر قبضہ کرلیاہے اور قریبی سڑکوں پر پارکنگ قائم کرلی گئی ہے۔ بیشتر ہوٹل مالکان کے کچن اب بھی سڑکوں پر قائم و دائم ہیں۔ یہاں تک کہ سڑکیں اور فٹ پاتھ تک تجاوزات مافیا نے فروخت کردیئے ہیں۔ مین یونیورسٹی روڈ اور گلبرک کے علاقے تجاوزات کی بھرمار کی وجہ سے شہریوں کے لیے وبال جان بن چکے ہیں۔ میڈیا جب حکام کی توجہ اس جانب مبذول کراتا ہے تو دکھاوے کے لیے بلدیہ کراچی کا محکمہ انکروچمنٹ کارروائی کرتا ہے اور وہ بھی غریب ٹھیلے والوں کے خلاف جبکہ بڑے ہوٹلوں اور دکانوں کا سامان بدستور سڑکوں پر سجایا جاتا ہے ‘ یا پھر بلدیہ کے کارندے تجاوزات کے خلاف آپریشن سے قبل دکانداروں کو ہائی الرٹ کردیتے ہیں ‘ مثال کے طور پر مین یونیورسٹی روڈ پر بلدیہ کے عملے کے آنے سے قبل ہی ہوٹل مافیا نے فٹ پاتھوں پر سجائے گئے تخت آناً فاناً ہٹادیئے ۔ غریب ٹھیلوں اور پتھاروں کے خلاف کارروائی ہوئی ‘ سامان ضبط کرلیا گیا۔ عملے کے جاتے ہی ہوٹل مافیا نے دوبارہ فٹ پاتھوں پرتخت سجائے۔ کراچی میں اب تک شہر کی خوبصورتی بحال کرنے کے حوالے سے جتنی بھی مہات شروع کی گئیں انہیں ناکام بنانے میں یہی ہوٹل مافیا اور تجاوزات مافیا کا کردار ہے۔ صفائی مہم کے دوران وزیراعلیٰ سندھ نے شہر کے چھ چھ گھنٹے طویل دورے کیے ۔ بظاہر بڑی سڑکوں کو صاف بھی کیا گیا ‘ مگر تجاوزات مافیا بدستور اپنی جگہ قائم ہے۔ ہوٹل مافیا روزانہ سڑکوں پر کچرا ڈال کر شہر کو آلودہ کرتابلکہ بچا کچھا کھانا بھی کچرے میں پھینک دیا جاتا ہے جو کتوں کے بہتات کی اصل وجہ ہے اب تک کتے کے کاٹنے کے جتنے بھی واقعات ہوئے ہیں اگر سندھ حکومت اس حوالے سے سروے کرائے تو یہ بات عیاں ہوجائے گی۔ کہ جس علاقے میں بھی ہوٹلوں کی بہتات ہے وہاں آوارہ کتوں کی اماجگاہ بن چکی اور جو رات گئے اپنا کچرا سڑکوں پر پھکتے ہیں ‘ ان حالات میں صفائی مہم بھلا کیسے خاطرہ خواہ نتائج دے سکتی ہے۔ ایک ماہ کی صفائی مہم کے اختتام پر حکومت سندھ نے یہ بھی نہیں بتایا کہ جو کچرا رہ گیا ہے جو گٹر صاف نہیں ہوسکے‘ جن علاقوں میں اب بھی سیوریج کا پانی کھڑا ہے ان کی صفائی اب کون کرے گا۔ بلدیہ کراچی کے پاس تو نہ پیسے ہیں نہ اختیارات ہیں۔ ضلعی بلدیات بھی سیاست زدہ ہیں۔ سندھ حکومت سے ایک امیدپیدا ہوئی تھی کہ شاید اب ہمارا شہر صاف ستھرا ہوجائے گا مگر صفائی نہ ہوسکی۔ 30کروڑ روپے بھی خرچ ہوگئے اور کچرا اورکتے دونوں اب بھی موجود ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے