Home / اداریہ / آوارہ کتوں کی افزائش نسل روکنے کا جامع منصوبہ

آوارہ کتوں کی افزائش نسل روکنے کا جامع منصوبہ

حکومت سندھ نے کتوں کی افزائش نسل روکنے کے لیے منصوبہ تیار کرلیا ہے جس کے تحت حکومت نے عالمی ادارہ صحت کے تعاون سے کتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کو روکنے ‘ کتوں کے کاٹنے کے واقعات سے نمٹنے کے لیے کتوں کو مارنے کے بجائے انہیں انٹی ریبیز لگائی جائے گی اور آوارہ کتوں کی نسل بندی کی جائے گی ۔ مقامی اخبار کی ایک رپورٹ کے مطابق کراچی سمیت سندھ میں اب تک ایک لاکھ 25 ہزار افراد کو کتے کاٹ چکے ہیں اور روزانہ ایک سو سے زائد افراد کو کتے کاٹ لیتے ہیں جس کا اندازہ جناح اسپتال کے ریکارڈ سے لگایا جاسکتا ہے جس سے یہ ہولناک انکشاف ہوا ہے کہ رواں سال اب تک 8ہزار افراد کتوں کے کاٹنے کی وجہ سے اسپتال لائے گئے۔ جناح اسپتال میں روزانہ 40سگ گز ید گی سے متاثرہ افراد لائے جاتے ہیں اسی طرح انڈس اسپتال میں بھی روزانہ 50افراد کو لایا جارہا ہے۔ کراچی میں کتوں کی افزائش نسل کی شرح خطرناک حدوں کو چھورہی ہے اسی لیے سندھ حکومت بھی حرکت میں آگئی ہے۔ ترجمان حکومت سندھ نے بتایا ہے کہ آوارہ کتوں کو پکڑنے اور انہیں انجکشن لگانے کے لیے بلدیاتی اداروں کے عملے کو ٹریننگ دی جائے گی اور اس سلسلے میں عالمی ادارہ صحت کے ماہرین کی خدمات حاصل کی جائیں گی۔ اس ضمن میں بتایا گیا ہے کتوں کو زہر دے کر مارنے کو ممنوع قرار دے دیا جائے گا۔ آوارہ کتوں کے لیے سینٹرز بنائے جائیں گے جہاں آوارہ کتوں کو انجکشن لگاکر ان کی افزائش نسل کو ہمیشہ کے لیے روک دیا جائے گا۔ اس منصوبے پر30کروڑ روپے کا تخمینہ لگایا گیا ہے اور آوارہ کتوں کی نسل کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کا ہدف 7سال میں مکمل کرنے کی حدمت مقرر کی گئی ہے۔ حکومت سندھ اس وقت حرکت میں آئی ہے جب سند ھ ہائیکورٹ نے کتوں کے کاٹنے کے بڑھتے ہوئے واقعات پر سخت احکامات جاری کیے ۔ فاضل عدالت نے قرار دیا کہ آئندہ اگر کراچی یا دیگر شہروں میں کسی کو کتے نے کاٹا تو اس کاذمہ دار ڈپٹی کمشنر ہوگا۔ دوران سماعت سکریٹری بلدیات نے عدالت کو بتایا کہ جب تک کتوں کی افزائش نسل کو نہ روکا گیا تو کتوں کی بہتات کو بھی نہیں روکا جاسکے گا۔ اگر ایک لاکھ کتوں کو مار بھی دیا جائے تو مزید دس لاکھ کتے پیدا ہوجائیں گے۔ کتوں کی نسل کو ختم کرنے کے لیے حکومت سندھ نے ترکی کے ماہرین کے ماڈل کو اپنانے کافیصلہ کیا ہے اور اس منصوبے پر آئندہ دس روز میں ایسے عملی شکل دے دی جائے گی ۔یہاں سوا ل یہ پیدا ہوتا ہے کہ لاکھوں کی تعداد میں کتے موجود ہیں اور یہ تعداد روز بروز مزید بڑھ بھی رہی ہے اس کی بنیاد ی وجہ گنجان آبادیوں میں موجود ہوٹل اور ریسٹوران ہیں جو بچا کچھا کھانا سڑکوں فٹ پاتھوں اور گلیوں میں پھینک دیتے ہیں اوریہی کھانا کتوں کی خوراک بن جاتا ہے۔ سندھ ہائیکورٹ میں زیر سماعت اس درخواست میں ایک مقامی این جی او بھی فریق ہے جس نے عدالت سے استدعا ہے کہ حکومت سندھ جو ڈاگ سینٹر ز بنانے کا ارادہ رکھتی ہے جہاں آوارہ کتوں کو رکھا جائے گا وہاں کتوں کی خوراک کا مسئلہ درپیش ہوگا اس لیے بہتر ہے ایسے سینٹرز میں ہوٹلوں کا بچا ہوا یا زائد المعیاد کھانا پہچانے کا ٹھوس طریقہ بنایا جائے اور اسی دوران کتوں کو نسل بندی کے انجکشن لگائے جائیں۔ پوری ممالک میں آوارہ کتوں کی نسل کو اسی طرح ختم کیا گیا ہے جہاں اب کتے کے کاٹنے کا تصور ہی ختم ہوچکا ہے بلکہ مغربی معاشروں میں کتے کو فیملی کا ایک رکن سمجھا جاتا ہے ‘ ہمارے ملک میں بھی کتے پالنے کا رواج ہے ہمارے موجودہ وزیراعظم کے کتے کااکثر اخبارات میں تذکرہ ہوتا رہتا ہے لیکن کسی پالتو کتے کے حوالے سے کبھی یہ خبر میڈیا کی زینت نہیں بنتی کہ کتے نے اپنے ہی مالک یا گھر کے فرد کو کاٹ لیا ہو ‘ اللہ تعالیٰ نے کتے کو بڑی خوبیوں سے نواز اہے ۔ یہ وفادار جانور ہے اس میں سیکھنے کی خداداد صلاحیت ہے۔ سیکورٹی کے حوالے سے کتے کی صلاحیتوں کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ سیکورٹی کے اداروں میں کتوں کے یونٹس موجود ہیں ‘ منشیات اسمگلنگ کے اکثر واقعات ایسے ہی کتوں نے ناکام بناتے ہیں ‘ پاک فوج میں بھی کتوں کے سینٹر ز موجود ہیں اور ان سے بڑے حساس کام لئے جاتے ہیں ‘ آوارہ کتوں کو بھی تربیت دے کر انہیں کارآمد بنایا جا سکتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے