Home / اداریہ / کراچی میں صفائی مہم بند‘ کچرے کے نئے ڈھیر بن گئے

کراچی میں صفائی مہم بند‘ کچرے کے نئے ڈھیر بن گئے

کراچی میں ایک بار پھر ہر طرف کمرے کے انبار نظر آنے لگے۔ شہر کے علاقے میں رکھے گئے ڈسٹ بن کوڑے کرکٹ سے ابل رہے ہیں۔ سڑکوں اور گلیوں سے ابھی صفائی مہم کے دوران پوری طرح کچرا نہیں اٹھایا گیا تھا کہ صفائی مہم کو بریک طلگ گئے۔ عوام کے 30 کروڑ روپے خرچ ہوگئے مگر کچرے کے انچار ہیں کہ بڑھتے ہی چلے جارہے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ کچرا اٹھانے والی چینی کمپنی نے گزشتہ تین روز سے کچرا اٹھانا بند کردیا ہے کیونکہ حکومت سندھ نے کمپنی کے واجبات ادا نہیں کئے ہیں۔سب سے زیادہ ڈسٹرکٹ ایسٹ متاثر ہوا ہے جہاں ہر علاقے میں جگہ جگہ کچرے کے ڈھیر لگ چکے ہیں۔ گندگی اور غلاظت سے تعفن اٹھ رہا ہے۔ گلشن اقبال ‘ طارق روڈ‘ بہادر آباد‘ جمشید روڈ‘ گلستان جوہر‘ یاسین آباد اور محمود آباد سمیت تمام علاقوں کی صورت حال ایک بار پھر بدترین ہوچکی ہے اور سندھ حکومت کا کوئی ذمہ دار ادارہ یا عہدے دار کچھ بتانے کو تیار نہیں ہے بلکہ سب نے پُِرا سرار خاموشی اختیار کررکھی ہے۔ حکومت سندھ نے ایک ماہ تک صفائی مہم چلائی تھی۔ ہر ڈپٹی کمشنر کو 3 کروڑ روپے صفائی مہم کے لئے دئیے گئے تھے اتنی خطیر رقم کہاں خرچ ہوئی کوئی کچھ بتانے کو تیار نہیں ہے۔ کراچی کے چار اضلاع میں کچرا اٹھانے کی ذمہ داری سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کی ہے مگر اس ادارے نے صفائی کے امور دو چینی کمپنیوں کے حوالے کردیئے تھے۔ ایک چینی کمپنی ضلع شرقی اور جنوبی میں کچرا اٹھانے کا کام کرتی ہے تو دوسری کمپنی ضلع ملیر اور ضلع غربی کا کچرا اٹھانے کی ذمہ دار ہے مگر چاروں اضلاع میں گزشتہ تین دنوں سے کچرا اٹھانے کا کام بند پڑا ہے کیونکہ چینی کمپنیوں کو گزشتہ 3 ماہ سے واجبات کی ادائیگی نہیں ہوئی ہے۔ واجبات کی یہ رقم 30 کروڑ روپے سے زیادہ ہے۔ دوسری جانب محکمہ سالڈ ویسٹ لینڈ فل سائٹس کے ٹھیکیداروں کو بھی گزشتہ چار ماہ سے واجبات ادا نہیں کئے گئے جس کی وجہ سے لینڈ فل سائٹس پر کچرا ٹھکانے لگانے کا کام بھی متاثر ہورہا ہے ۔ وزیراعلیٰ سندھ نے شہریوں سے یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ ایک ماہ میں کراچی کو کچرے سے پاک کردیں گے۔ اس حوالے سے حکومت سندھ نے دعویٰ کیا ہے کہ کراچی سے دس لاکھ ٹن کچرا اٹھایا گیا مگر گزشتہ دس میں جمع ہونے والے کچرے کی مقدار دو ملین ٹن سے بھی زیادہ ہے۔ یہ اعداد و شمار حکومت سندھ کے ماتحت اداروں نے مرتب کئے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حکومت سندھ اس حقیقت کو تسلیم کررہی ہے کہ اس کی صفائی مہم کے دوران کراچی سے صرف پچاس فیصد کچرا اٹھایا جاسکا یہی وجہ ہے کہ آج کراچی میں کسی بھی علاقے میں صفائی مہم کے اثرات نظر نہیں آرہے ہیں اور اس پر مزید ظلم یہ کیا گیا کہ چینی کمپنی کے واجبات ادا نہ کرنے کی وجہ سے صفائی کا جو تھوڑا بہت کام ہورہا تھا وہ بھی بند ہوگیا ہے۔ کراچی میں روزانہ کی بنیاد پر پیدا ہونے والا کچرا ایک بار پھر جمع ہورہا ہے۔ کراچی جو پہلے ہی ڈینگی وائرس کا شکار ہے۔ ڈینگی کے مریضوں کی تعداد 5 ہزار کے قریب پہنچ چکی ہے۔ اب تک ڈینگی بخار کے نتیجے میں 22افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ ڈینگی مچھروں کی پہلے ہی بہتات تھی اب کچرا اٹھانے کا کام بند ہونے کی وجہ سے مچھروں کی افزائش مزید بڑھے گی ان حالات میں حکومت سندھ کے کراچی میں انسداد ڈینگی مہم چلانے کا اعلان کیا ہے۔صفائی مہم کے جس طرح خاطر خواہ نتائج نہیں نکلے اسی طرح انسداد ڈینگی مہم کی کامیابی کے امکانات بھی کم ہی نظر آتے ہیں کیونکہ ڈینگی مچھروں کی افزائش کے نئے مراکز کچرے کے نئے ڈھیروں کی وجہ سے معرض وجود میں آرہے ہیں۔ ان حالات میں کلین کراچی مہم کا جو حشر ہوا ہے ایسا ہی کچھ انسداد ڈینگی مہم کا بھی نظر آرہا ہے اور یہ صورت حال انتہائی مایوس کن ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے