Home / اداریہ / ٹریفک جام ‘ زندگی عذاب

ٹریفک جام ‘ زندگی عذاب

کراچی اس وقت بدترین تجاوزات کی زد میں ہے سپریم کورٹ کے احکامات بھی کراچی کوتجاوزات سے نجات نہ دلاسکے محکمہ بلدیات نے بھی تجاوزات کے خاتمے کے لیے ہزار جتن کرلئے لیکن اسے بھی ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا ‘ بلدیہ عظمی کراچی کا محکمہ انسداد تجاوزات بھی وقفے وقفے سے تجاوزات کے خلاف مہم چلاتا رہا ہے طاقت ورتجاوزات مافیا کے سامنے وہ مکمل طورپر بے بس دکھائی دیتا ہے ۔ انسداد تجاوزات کے لیے اب ڈی آئی جی ٹریفک پولیس میدان میں آگئے ہیں ‘ تجاوزات کا خاتمہ کراناگوکہ ٹریفک پولیس کا کام نہیں ہے لیکن بدترین ٹریفک جام کی وجہ سے ٹریفک پولیس کو اس نیک کام کے لیے میدان عمل میں آنا پڑا ‘ کراچی پولیس چیف ایڈیشنل آئی جی غلام نبی میمن اور ڈی آئی جی ٹریفک کو تجاوزات کی وجہ سے عوامی رد عمل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جس علاقے میں بھی ٹریفک جام ہوجائے وہاں شہری اپنا تمام غصہ پولیس پر نکالتے ہیں مگر تجاوزات مافیا کو کچھ نہیں کہا جاتا بلکہ تجاوزات قائم کرنے والوں کی حمایت کی جاتی ہے ۔ اگر کراچی کے شہری تجاوزات کاخاتمہ چاہتے ہیں تو انہیں تجاوزات مافیا کے خلاف اداروں سے تعاون کرنا ہوگا۔ اگر کراچی کے شہری یہ فیصلہ کرلیں کہ انہوں نے سڑکوں اور فٹ پاتھوں پر قائم ہوٹل مافیا کے تخت پر بیٹھ کرکھانا نہیں کھانا’ سڑکوں پر قائم پتھاروں اور ٹھیلوں سے خرید وفروخت نہیں کرنی ۔ اگرشہری ازخود قانون کااحترام کرتے ہوئے یہ فیصلے کرلیں کہ انہوں نے غیر قانونی پارکنگ سے گریز کرنا ہے تو نہ صرف تجاوزات مافیا کی کمر ٹوٹ جائے گی بلکہ شہر کو ٹریفک جام کے عذاب سے بھی نجات مل جائے گی۔ مثال کے طور پر حسن اسکوائر سے نیشنل اسٹیڈیم تک کی سڑک کو سگنل فری بنایا گیا تھامگر اس سڑک پر صبح سے رات گئے تک ٹریفک جام رہتا ہے حالانکہ یہ چارلائنوں کی کشادہ سڑک ہے اسی طرح یونیورسٹی روڈ پر تجاوزات کی وجہ سے سورج ڈھلنے کے ساتھ ہی ٹریفک جام ہونا شروع ہوجاتا ہے جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اس روڈ پر سر شام ہی ہوٹلوں کے تخت سجادیئے جاتے ہیں ‘ یہاں آنے والے شہری اپنی گاڑیاں پارک کرکے ٹریفک کی روانی میں خلل ڈالتے ہیں ‘ یہی صورتحال راشد مہناس روڈ پر ڈرگ روڈ سے سہراب گوٹھ تک دیکھی جاسکتی ہے جہاں جہاں بڑے بڑے شاپنگ مالز بن گئے ہیں مگر پارکنگ کا کوئی مناسب انتظام نہیں کیا گیا نارتھ کراچی میں ناگن چورنگی سے سرجانی ٹاون تک کاسفر زیادہ سے زیادہ آدھے گھنٹے کا ہے مگر یہ سفر تجاوزات کی وجہ سے دو گھنٹے سے بھی زیادہ طویل ہوجاتا ہے۔ گلستان جوہرکا پورا علاقہ ہوٹل مافیا کے ترف میں ہے۔ یہاں شادی ہالز کی بھر مار نے ٹریفک کا پورا نظام درہم برہم کرکے رکھ دیاہے ‘ تجاوزات کے خلاف کوئی بھی کارروائی موثر ثابت نہ ہونے کی وجہ یہ بھی ہے کہ بلدیاتی اداروں ‘ صوبائی اور وفاقی حکومتوں کے درمیان ہروقت چپقلش کا ایک ماحول موجود رہتا ہے جس کے نتیجے میں اگر ایک ادارہ تجاوزات کاخاتمہ کرتا ہے تواگلے ہی روز کسی اور ادارے یارشوت کے زورپر دوبارہ تجاوزات قائم کرلی جاتی ہیں۔تجاوزات کاخاتمہ اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک اس کے لیے موثر قانون سازی نہیں کی جاتی ‘ تجاوزات مافیا پر بھاری جرمانے نہیں کیئے جاتے یا پھر ان کے کاروبار پرپابندی نہیں لگائی جاتی سپریم کورٹ کے احکامات کے بعد پورے شہر میں جہاں بھی تجاوزات کاخاتمہ کیا گیا تھا آج وہاں ایک بار پھر بڑی تیزی سے تعمیرات ہورہی ہیں اور افسوسناک امر یہ ہے کہ چند ماہ قبل جنہوں نے تجاوزات کے خاتمہ کے لیے بڑے پیمانے پر توڑ پھوڑ کی تھی انہی کی نگرانی میں دوبارہ غیر قانونی تعمیرات جاری ہیں۔ ڈی آئی جی ٹریفک کی جانب سے تجاوزات کے خلاف مہم صرف ٹریفک کی روانی کوبرقرار رکھنے کے لیے ہے کیونکہ ٹریفک جام کے دوران سب سے زیادہ نشانہ یہی ٹریفک پولیس اہلکار ہوتے ہیں ‘ شہر کو تجاوزات مافیا سے پاک کرنا ہے تو ہوٹل مافیا کا خاتمہ ضروری ہے اور اسکے لیے ا داروں میں موجود ایجنٹ مافیا کو ختم کرنا ہوگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے