Home / اداریہ / ایک بار پھر صفائی مہم کا آغاز

ایک بار پھر صفائی مہم کا آغاز

حکومت سندھ نے ضلعی بلدیاتی اداروں کے ذریعے ایک با رپھر صفائی مہم شروع کرنےکافیصلہ کرلیا ہے۔ 21اکتوبر تک جاری رہنے والی سندھ حکومت کی صفائی مہم کے کوئی خاطر خواہ نتائج برآمد نہیں ہوئے تھے۔ اسکی دو وجوہات بتائی جارہی تھیں۔ پہلی وجہ تو یہ بنی کہ حکومت سندھ کے ماتحت ادارے سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈاتھارٹی نے چار اضلاع میں کچرا اٹھانے والی چینی کمپنی کوواجبات ادا نہیں کیئے تھے جس کی وجہ سے اس کمپنی نے کچرا اٹھانا بند کردیا تھا۔ دوسری بڑی وجہ یہ بنی کہ ضلعی بلدیات کے پا س مشینری یا تو دستیاب نہیں تھی یا پھر اکثر بھاری مشینری خراب بڑی تھی ‘ اب سندھ حکومت کی جانب سے مشینری کو ٹھیک کرانے کے لیے ضلعی بلدیات کو حکومت سندھ کی جانب سے8کروڑ 80لاکھ روپے فراہم کردیئے گئے ہیں جس کے بعد ایک بار پھر کراچی میں نئے جوش و جذبے کے ساتھ صفائی مہم شروع کردی جائے گی اس ضمن میں وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ نے متعلقہ اداروں کو سخت احکامات جاری کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ صفائی ستھرائی پر مامور ٹھیکیدار اگر صفائی کاکام بروقت نہ کریں تو ان کےخلاف سخت کارروائی کی جائے ۔ وزیراعلیٰ کا کہناتھا کہ ٹھیکیدار مفت کام نہیں کررہے حکومت سندھ انہیں ادائیگیاں کرتی ہے اس لیے صفائی کا کام شہریوں کے اطمینان کے مطابق ہوناچاہیے۔ اس حوالے سے متعلقہ اداروںکو وزیراعلیٰ نے ایک جامع پالیسی دے دی ہے جس سے بجا طور پر یہ امید ہوگئی ہے کہ اس بار صفائی ستھرائی کے حوالے سے محض زبانی جمع خرچ اور دعوے نہیں کیئے جائیں گے۔ ضلعی بلدیات کو یہ ہدایت کی گئی ہے کہ ضلعی بلدیات کچرا کنڈی سے لے کر یونین کونسل کی سطح تک صفائی کاکام اور کچرا جمع کرنے کی ذمہ دار ہوں گی اور انہیں اس کام کو مانیٹرکرنا ہوگا۔ اس حوالے سے وزیر اعلیٰ نے نگرانی کا کام ضلعی بلدیات کے چیئرمینوں کے حوالے کرنے کا بھی اعلان کیا۔ علاوہ ازیں وزیراعلیٰ نے ڈپٹی کمشنر وں کے درمیان صفائی کے حوالے سے مقابلے کی فضابنانے کے لیے ہدایت کی کہ ڈپٹی کمشنر صاحبان اپنے علاقوں میں ماڈل ایریا ڈکلیئر کریں۔ ان احکامات کا ایک قابل تعریف پہلو یہ ہے کہ وزیراعلیٰ نے یہ بات تسلیم کی ہے کہ کراچی میں کچرا پھیلانے کے ذمہ دار ہوٹل ‘ ریسٹورنٹ ‘ مانکان اور دکاندار ہیں جو اپناکچرا سڑکوں اور فٹ پاتھوں پر پھینک رہے ہیں ۔ ”اخبار نو “ کی ان سطور میں متعدد بار حکومت سندھ اور متعلقہ اداروں کی توجہ اس جانب مبذول کرائی جاچکی ہے کہ جب تک ریسٹورنٹ مافیا کو اپنا کچرا خود ٹھکانے لگانے کا ذمہ دار قرار نہیںدیا جاتا اس وقت تک کراچی صاف ستھرا شہرنہیںبن سکتاہے نہ شہر سے کتوں کی بہتات کا خاتمہ ہوسکتا ہے۔ اس ضمن میں اگر ڈپٹی کمشنر ز صاحبان اپنے دفاتر سے نکل کر شہر کاجائزہ لیں تو انہیں معلوم ہوجائے گا کہ شہر میںجگہ جگہ کچرے کے ڈھیر ‘ ندی نالوں میں گندگی کے ڈھیر ‘ مچھروں کی افزائش ‘ وبائی امراض کا پھیلاؤ سمیت کراچی کا حلیہ بگاڑنے کے سب سے زیادہ ذمہ دار یہی ہوٹل مافیا کے لوگ ہیں ‘نئی صفائی مہم کے دوران متعلقہ عملے اور افسران کو کچرا چننے والے لڑکوں پر بھی نظر رکھنی ہوگی جو سڑکوںپر ڈسٹ بن الٹ دیتے ہیں جو کچرے کے پھیلاؤ کاسبب بنتا ہے ‘ صفائی کی چوتھی مہم کو اگر کامیاب بنانا ہے تو شہرمیں صفائی کے حوالے سے ایمرجنسی نافذ کرناہوگی اور مذکورہ سطور پر میں جن امور کی جانب توجہ مبذول کرائی گئی ان پر عمل کرنا ہوگا ورنہ اس صفائی مہم کا انجام بھی پہلے والی مہمات سے مختلف نہیں ہو گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے