Home / کالم مضامین / تعلیمی بورڈز میں ”جس کی لاٹھی اسکی بھینس کااصول “

تعلیمی بورڈز میں ”جس کی لاٹھی اسکی بھینس کااصول “

آج کی بات……..سید شاہد حسن کے قلم سے
سیکریٹریز تعلیمی بورڈکی تقرریاں ذمہ داران کے گلے پڑ گئیں
وزیر اعلیٰ کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر ‘5نومبر کو جواب طلب
سندھ کی جامعات اور یونیورسٹیز میں جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا قانون رائج ہے۔ ان اداروں میں جو لوگ قانون بناتے ہیں وہی اپنے قانون کو پیروں تلے روند دیتے ہیں ۔ ایک روز قبل ہی سندھ کے تعلیمی بورڈز میں وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ کی منظوری سے سیکرٹیریز کی تعیناتیاں کی گئیں تھیں حالانکہ عدالت نے اس قسم کی تعیناتیوں پر حکم امتناع جاری کیا ہوا تھا اسکے باوجود وزیراعلیٰ نے ازخود یا پھر انہیں اندھیرے میں رکھ کر سمری پر دستخط کرالیے گئے کیونکہ سیکرٹیری بورڈز اور جامعات اس بات پر بضد تھے کہ تعلیمی بورڈز کے سیکرٹیری کے عہدوں پر تعیناتی کے لیے عدالت نے کوئی حکم جاری کیا اور نہ کسی قسم کا حکم امتناع دیا گیا تھا۔ سیکرٹیریز کی تعیناتی کا معاملہ ایک بار پھر سندھ ہائیکورٹ پہنچ گیا ہے ‘ اس ضمن میں میر پور خاص کے پروفیسر سید عمیر اور پروفیسر مظہر جمیل نے سندھ ہائی کورٹ میں ایک درخواست دائر کی ہے جس میں یہ موقف اپنایا گیا ہے کہ وزیراعلیٰ سندھ نے صوبے کی یونیورسٹیز اور تعلیمی بورڈز میں وائس چانسلرز ‘ پر وائس چانسلرز ‘ کنٹرولز امتحانات ‘ چیئرمین تعلیمی بورڈز ‘ سیکریٹری بورڈز ‘ ڈائر یکٹر فنانس اور کنٹرولر کی تقرریوں کے لیے ریٹائرڈ افسران پر مشتمل ایک سرچ کمیٹی بنائی گئی ہے جو مذکورہ آسامیوں پر اہلیت کی بنیاد پر تقرریوں کی سفارشات دے گی مگر وزیراعلیٰ اور سیکرٹیری بورڈز و جامعات نے سرچ کمیٹی کی سفارشات موصول ہونے سے قبل ہی تقریوں کا عمل کرکے عدالت کی توہین کی ہے۔ اس درخواست کی پہلی سماعت گزشتہ روز سندھ ہائیکورٹ کے ججوں جناب جسٹس شفع صدیقی اور جناب جسٹس عدنان الکریم پر مشتمل بنچ نے کی اور پہلی سماعت پر ہی وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ اورسیکرٹیری بورڈز اینڈ یونیورسٹیز محمد ریاض الدین اور دیگر ذمہ داران افسران کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے 5نومبر کو جواب طلب کرلیا ہے ‘ سندھ کے7تعلیمی بورڈزمیں سیکرٹیریز کے عہدوں پر تین سال کے لیے تعیناتیاں کی گئی ہیں لیکن جب ان تقرریوں کاسیکرٹیری بورڈز اورجامعات کی جانب سے نوٹیفکیشن جاری کیاگیا تو اس میں تقرری کی مدت 4 سال درج ہے‘ ایسے ہی اقدامات پر ہی ” جسکی لاٹھی اس کی بھینس “ کی مثال دی جاتی ہے ‘ تعلیمی حلقوں کو پورا یقین ہے کہ وزیر اعلیٰ کو اندھیرے میں رکھ کر سمری پر دستخط کرائے گئے ہیں ورنہ وزیراعلیٰ بذات خود جامعات اور تعلیمی بورڈز میں میرٹ کی بنیاد پر تقرریوں کے حامی رہے ہیں۔ ان تقرریوں کے پیچھے کون سے راز پنہاں اس بارے میں وزیراعلیٰ کی جانب سے عدالت میں 5نومبر کی جمع کرانے جانے والے جواب سے عیاں ہوجائے گا اوریقینا اس ”چھپے رستم “ کا کردار بھی بے نقاب ہوجائے گا جس نے بغیر سرچ کمیٹی کی سفارشات کے اپنی من مرضی کے لوگوں کو تعلیمی بورڈز پر مسلط کردیا ہے۔ قبل ازیں تعلیمی بورڈز میں شاہکار فیصلے بھی کیئے جاتے رہے ہیں سیکرٹیری تعلیمی بورڈز اور جامعات نے تعلیمی بورڈزکے چیئرمین کے لیے عمر کی حد51سال سے 60سال تک مقرر کی تھی ۔ اس حوالے سے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کیا گیا جس کے تحت اعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ کے چیئرمین انعام احمد خود بخود عہدے سے فارغ ہوگئے مگر ایک اور نوٹیفکیشن جاری ہوا جس میں انعام احمد کی مدت ملازمت میں تاحکم ثانی اضافہ کردیا گیا کیونکہ انعام احمد کی عمر اس وقت 63سال ہوچکی ہے اس لئے سب سے پہلے اپنی کوعہدے سے فارغ کیا جانا چاہیے تھامگر جہاں ” جس کی لاٹھی اس کی بھینس کااصول کار فرما ہووہاں کا شیر چاہے انڈے دے یا بچے دے کس کی جرات ہے کہ اس سے یا اس کو کسی سے پوچھنے کی جرات ہو۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے