Home / اداریہ / کیا شیخ رشید استعفے دیں گے

کیا شیخ رشید استعفے دیں گے

وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد اپنے دور میں جمعرات کی صبح (31 اکتوبر 2019) ہونے والے (19ویں) ٹرین کے حادثے کے بعد بڑا ہی مضحکہ خیز دعویٰ کیا ہے کہ وہ پاکستان کے واحد وزیر ریلوے ہیں جس کے دور میں ٹرین کے سب سے کم حادثات ہوئے ہیں۔ ٹرین حادثات ایک ہو یا 19 ذمہ دار متعلقہ وزیر ہی ہوتا ہے۔ دنیا میں جس ملک میں بھی ٹرین حادثات ہوئے ہیں ان کی تاریخ گواہ ہے کہ متعلقہ وزیر نے یا تو استعفیٰ دیا یا اُس سے استعفیٰ لے لیا گیا۔ موجودہ وزیراعظم پاکستان عمران خان ٹرین حادثے کو وزیر ریلوے کو ذمہ دار قرار دیتے رہے ہیں۔ جب نواز شریف وزیراعظم تھے اور ریلوے کی وزارت خواجہ سعد رفیق کے پاس تھی اور اس دور میں نصف درجن کے قریب ریلوے حادثات ہوئے جس پر عمران خان کے بیانات آج بھی ریکارڈ پر موجود ہیں جس میں انہوں نے ٹرین حادثات کا براہ راست ذمہ دار وزیر ریلوے کو قرار دیا تھا اور ان کا ہمیشہ یہ مطالبہ رہا ہے کہ حادثات کے ذمہ دار وزیر کو یا تو خود مستعفیٰ ہوجانا چاہیے یا اسے برطف کردینا چاہےے۔ لیکن ہمارا تو ’باوا آدم‘ ہی نرالا ہے رحیم یار خان کے قریب لیاقت پور میں کراچی سے راولپنڈی جانے والی تیز گام ٹرین کے المناک حادثے پر شیخ رشید کا اب تک سامنے آنے والا موقف زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔ وہ اس حادثے کا ذمہ دار خود مسافروں کو قرار دے رہے ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ ٹرین میں تبلیغی جماعت کے کارکن سفر کررہے تھے جن کے پاس گیس سلینڈر اور چولہے موجود تھے۔ سلنڈر پھٹنے کی وجہ سے ٹرین کی بوگی میں آگ بھڑک گئی۔ زیادہ اموات بھگڈر کے دوران مسافروں کی چلتی ٹرین سے چھلانگ لگانے کی وجہ سے ہوئیں ہماری غلطی یہ ہے کہ ہم نے گیس سلنڈر کیوں لے جانے دیئے۔ اس المناک حادثے کے عینی شاہدین نے شیخ رشید کے اس موقف کو یکسر مسترد کردیا ہے کہ ٹرین میں گیس سلنڈر پھٹنے سے آگ لگی۔ ان شاہدین نے شیخ رشید سے پوچھا ہے کہ اگر سلنڈر پھٹے تھے تو دھماکوں کی آوازیں آنی چاہیں تھیں۔ اگر مسافروں کے پاس گیس سلنڈر تھے تو انہیں روکا کیوں نہیں گیا۔ ایک اور عینی شاہد نے بتایا ہے کہ آگ کی لپیٹ میں آنے والی بوگی میں شارٹ سرکٹ کی وجہ سے آگ لگی۔ رات بھر اس بوگی میں ایئرکنڈیشنڈ سے جلنے کی بو آتی رہی۔ جب آگ لگی تو ٹرین روکنے کی زنجیر پہلے سے خراب تھی کراچی کینٹ ریلوے اسٹیشن پر مسافروں کا سامان چیک کرنے کا کوئی انتظام سرے سے موجود ہی نہیں تھا۔ بتایا گیا ہے کہ کینٹ ریلوے اسٹیشن کا سامان چیک کرنے والا اسکینر گزشتہ ایک ماہ سے خراب پڑا ہے اور اس حوالے سے متعدد بار ریلوے حکام کی توجہ مبذول کرائی گئی مگر کسی نے توجہ ہی نہیں دی۔یہ اسکینر اس وقت بھی بدستور خراب پڑا ہے۔ ان سب کوتاہیوں کے باوجود ریلوے کے وزیر ٹرین حادثے کا ذمہ دار مسافروں کو قرار دے رہے ہیں جب اُن سے یہ پوچھا گیا کہ آپ کے دور میں یہ 19 واں ٹرین حادثہ ہے تو کیا آپ اس حادثے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اپنی وزارت سے استعفیٰ دے دیں گے۔ اس سوال کا جواب یہ تھا کہ ” استعفیٰ دینا میرے لیے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ حادثے میں جاں بہق ہونے والوں کے لواحقین کو میں بطور وزیر 15 لاکھ روپے فی کس اور زخمیوں کو 5 لاکھ روپے فی کس دینے کا اعلان کرتا ہوں تاہم استعفیٰ کے بارے میں جواب میں اتوار کے روز دوں گا۔ شیخ رشید استعفیٰ دیتے ہیں یا نہیں اس کا فیصلہ وزیر اعظم کی مرضی سے مشروط ہے جن کا ماضی کا موقف اس بات کا متقاضی ہے کہ وہ موجودہ دور میں تسلسل سے ہونے والے ٹرین حادثات کے ذمہ داروں کا تعین کریں اور اپنے وزیر سے مستعفی ہونے کا کہیں اور اگر شیخ رشید انکار کرتے ہیں تو انہیں فوری طور پر وزارت سے برطرف کردینا چاہیے۔ عمران خان کے لئے یہ کوئی نئی بات نہیں ہوگی۔ حالیہ دنوں میں انہوں نے اپنے معاون خصوصی سے استعفیٰ طلب کیا ہے۔ ماضی قریب میں انہوں نے وزیر خزانہ اسد عمر کو کابینہ سے فارغ کیا۔ اس سے قبل وہ اپنے وزیر صحت کو برطرف کرچکے ہیں۔ شیخ رشید میں آخر ایسی کون سی خوبی ہے کہ اُن کی تمام کوتاہیوں سے صرف نظر کیا جاتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے