Home / کالم مضامین / مقبوضہ کشمیر ہمارے ہاتھ سے نکل گیا؟

مقبوضہ کشمیر ہمارے ہاتھ سے نکل گیا؟

وادی کشمیر باضابطہ طور پر دو ریاستوں میں تقسیم ‘ دو گورنروں کی نامزدگی
جموں و کشمیر الگ اور لداخ الگ ریاستیں قرار‘ ہندوؤ کو حق ملکیت مل گیا
ہم کشمیریوں سے یکجہتی کے دن مناتے رہے‘ دھواں دھار تقریریں کرتے رہ گئے
ہم نے70 سال تک کشمیر کا مقدمہ لڑا‘ ہماری تمام ترجیحات میں کشمیر کو ہمیشہ اولین حیثیت حاصل رہی۔ ہم نے اپنی قومی سلامتی کو اسی کشمیر کی خاطر داؤپر لگائے رکھا۔ ہم اپنا آدھا ملک گنوا بیٹھے۔ ہم نے اسی کشمیر کی خاطر بھارت سے جنگیں لڑیں۔ ہم نے اپنے عوام کا پیٹ کاٹ کر اپنی دفاعی حکمت عملی مضبوط بنانے کے لئے اپنے تمام وسائل مسئلہ کشمیر کے حل پر خرچ کردیئے مگر ایک وقت ایسا بھی آیا جب پاکستانی قوم کو مسئلہ کشمیر کے حل کی امید دلائی گئی۔ پاکستان میں آنے والی تبدیلی کے دوران اس بات کا برملا اظہار کیا گیا کہ بھارتی انتخابات میں نریندر مودی کے انتخابات جیتنے کے بعد مسئلہ کشمیر حل ہوجائے گا۔ مودی ہی وہ شخصیت ہے جو مسئلہ کشمیر حل کردے گا۔ مودی انتخابات جیت گیا۔ہماری طرف سے بھی مبارکباد کے پیغامات بھیجے گئے۔ دوسری مدت کے لئے مودی کی جانب سے اقتدار سنبھالتے ہی مسئلہ کشیر کے حل کی جانب پیش رفت ہونے لگی۔ مودی سرکار نے 5 اگست 2019ءکو خصوصی حیثیت دینے والی بھارتی آئینی آرٹیکل 370 کے خاتمے کا اعلان کردیا۔ مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کی سلامتی کی ذمہ دار قرار دی جانے والی آرٹیکل کو آئین سے خارچ کردیا گیا۔ مقبوضئہ وادی میں کرفیو نافذ کردیا۔ گزشتہ 88 روز میں کشمیریوں کے تمام آئینی قانونی اور انسانی حقوق سلب کرلئے گئے۔ اسکول کالج ‘ یونیورسٹیاں بند‘ ابلاغ عامہ کے وسائل پر پابندی‘ کشمیریوں سے جینے کا حق چھین لیا گیا اور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ کشمیر کو دو حصوں میں تقسیم کردیا گیا۔ اب ایک مقبوضہ کشمیر نہیں بلکہ دو مقبوضہ کشمیر معرض وجود میں آچکے ہیں۔ جموں و کشمیر الگ اور لداخ الگ ریاست بن گئیں دونوں ریاستوں کے ہندو گورنروں نے اپنی ذمہ داریاں بھی سنبھال لیں۔ آج سے ہندوؤں کو تقسیم وادی کشمیر میں املاک اور جائیدادوں کے خریدنے کا حق دے دیا گیا۔ اب ہندو کشمیر میں آباد بھی ہوسکیں گے۔ اب پورے ہندوستان سے ہندوؤں کو لاکر کشمیر میں بسایا جائے گا۔ نریندرمودی نے 5 اگست کے مذکورہ بالا اقدامات پر فخریہ انداز میں کہا تھا کہ جو کام بھارت کی سیاسی قیادت 70 سال میں نہ کرسکی میں نے وہ 70 دنوں میں کردیا ہے 5 اگست کے بعد ہم نے ہر محاذ پر کشمیر کا مقدمہ لڑا۔ ہم نے کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لئے ہاتھوں کی زنجیریں بنائیں۔ آزادی کشمیر مارچ کئے‘ بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھیں۔ ہر جمعہ کے روز کشمیری مسلمانوں سے اظہار یکجہتی کے لئے آدھے گھنٹے کے لئے اپنے کاروبار بند کئے۔ ہمارے وزیراعظم نے اقوام متحدہ میں ماثرکن تقریر کی‘ عالمی برادری کی توجہ دلانے کے لئے دوست ممالک کے دورے کئے۔ اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی کو جھنجھوڑا ‘ برادر اسلامی ممالک سے توقعات وابستہ کئے رکھیں مگر سب کوششیں رائیگاں سب دوستوں کی جانب سے پاکستان کو ہری جھنڈی دکھا دی گئی اس دوران برادر اسلامی ممالک کی جانب سے مودی پر نوازشات کی بارش کی گئی۔ اپنے ممالک کے اعلیٰ ترین اعزازات سے نوازا گیا۔ اربوں ڈالرز کے معاہدے کئے گئے ہم اپنی سفارتی فتح کا جشن مناتے رہ گئے اور بھارت ہماری سفارتی تنہائیوں میں اضافہ کرتا چلا گیا۔ آج سے کشمیر دو ریاستوں میں تقسیم ہوچکا ہے۔ 5 اگست کی قانون سازی منقسم کشمیر میں نافذ ہوچکی ہے۔ بھارتی فوج کی کشمیر میں تعداد بڑھا دی گئی۔یوم عملی طور پر کشمیر ہمارے ہاتھوں سے نکل گیا مگر ہمارا اب بھی یہ دعویٰ ہے کہ ہم آخری سانس اور خون کے آخری قطرے تک کشمیر اور کشمیریوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ کیا یہی تھا مودی کی انتخابی فتح کے بعد مسئلہ کشمیر کا مستقبل حل….؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے