Home / کالم مضامین / طلبا یونینز کے بغیر بانجھ معاشرہ‘ ہمارا مقدر کب تک؟

طلبا یونینز کے بغیر بانجھ معاشرہ‘ ہمارا مقدر کب تک؟

ہمارے طلباءفرقہ بندی کا شکار ہوگئے‘ ملک میں قیادت کا فقدان ہوگیا
نوجوان نسل کو شخصیت پرستی کا شکار بنادیا گیا‘ سیاسی جماعتوں پر وڈیرے مسلط
جماعت اسلامی واحد جماعت ہے جسے قیادت اسلامی جمعیت طلبہ دیتی ہے
طلباءیونینز پر پابندی کے فیصلے کے نتیجے میں ہماری نوجوان نسل کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ یہ خوش آئند امر ہے کہ سندھ اسمبلی میں طلباءیونینز کی بحالی کی قرار داد متفقہ طور پر منظور کرلی گئی ہے۔ طلبا یونین پر پابندی کا سب سے زیادہ نقصان جو قوم کو بھگتنا پڑرہا ہے وہ یہ ہے کہ سیاست قیادت کے بحران کا شکار ہوچکی ہے ۔ طلبا یونین کا یہ طرہ¿ امتیاز تھا کہ اس پلیٹ فارم سے قوم کو تربیت یافتہ سیاسی قائدین میسر آتے تھے مگر اب ہمارے طلبا فرقہ بندی کا شکار ہوجاتے ہیں ‘ کیونکہ اب ملک اور فرقے کی بنیاد پر طلبا اپنی اپنی تنظیمیں بنالیتے ہیں۔ جس کی وجہ سے طلبا میں تربیت کا عمل یکسر ختم ہوچکا ہے۔ طلبا یونین پر پابندی کا دوسرا بڑا نقصان یہ ہوا ہے کہ روایتی سیاستدانوں اور اُن کی نسلوں کو پھولنے پھلنے کا موقع مل گیا آج اگر ملک کی موجودہ سیاسی قیادت کا جائزہ لیا جائے تو سوائے جماعت اسلامی کے کوئی ایسی جماعت نظر نہیں آی جس کی قیادت تربیت یافتہ ہو کوئی ’پرچی‘ پر پارٹی کا لیڈر ہے تو کوئی اس لئے لیڈر ہے کہ اس کا باپ لیڈر تھا یا وزارت عظمیٰ پر فائز رہا ہے۔ وڈیرے اور جاگیرداروں کی نسل در نسل پیدائشی لیڈر ہوتی ہے۔ ملک کے تمام وسائل کو ’شیر مادر‘ سمجھ کر لوٹنا ایسی سیاسی قیادت اپنا حق سمجھنے لگتی ہے۔ آج کی تمام موجود سیاسی جماعتوں پر نظر ڈالیئے کسی سیاسی جماعت کا آج کا قائد اپنی صلاحیت اور میرٹ کی بنیاد پر جماعتی سربراہ نہیں بنا۔ جب کوئی سیاستدان منظر عام سے ہٹ جاتا ہے تو اسی کے خاندان کا فرد پارٹی سنبھالتا ہے اور کارکن بے چارے مزارعوں کی طرح اس قسم کی نامزدگی پر لبیک کہنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ طلبا یونین نے ماضی میں باکردار ‘ باعمل ‘ ایماندار سیاسی قیادتیں قوم کو دیں۔ جنہوں نے اپنی شاندار پیشہ وارانہ خدمات کے ذریعے نام کمایا۔ ڈاکٹر ادیب رضوی ‘ معراج محمد خان‘ نفیس صدیقی اور ان جیسے نام نامی طلبا لیڈرز نے اپنے اپنے شعبوں میں شاندار خدمات سر انجام دیں۔ پاکستان کی سیاست میں اسلامی جمعیت طلبا کے قوم پر بڑے احسانات ہیں جس نے جماعت اسلامی کو منور حسن‘ قاضی حسین احمد‘ سراج الحق‘ حافظ نعیم الرحمان‘ ڈاکٹر معراج الہدی صدیقی جیسے منجھے ہوئے سیاسی لیڈر فراہم کئے۔ دیگر جماعتوں کی نسبت جماعت اسلامی واحد جماعت ہے جس میں کبھی قیادت کا بحران پیدا نہیں ہوا۔ مولانا سید ابواعلیٰ مودودی اور میاں طفیل محمد کے بعد آج تک جماعت اسلامی کے جتنے بھی امیر منتخب ہوئے وہ اسی اسلامی جمعیت طلبہ نے فراہم کئے۔ آج اگر جماعت اسلامی کی موجودہ مجلس شوریٰ پر نظر ڈالی جائے تو یہ خوشگوار حقیقت سامنے آتی ہے کہ اسلامی جمعیت طلبہ محض اپنے مستقبل کے امیر ہی تیار نہیں کرتی بلکہ یہ تنظیم کارکنوں کی ایسی کردار سازی کا ادارہ ہے معاشرے کو باکردار اور باعمل افراد بھی فراہم کرتی ہے‘ طلبا یونینز کے بغیر آج کا معاشرہ بانجھ نظر آتا ہے جہاں ہر طرف نفسہ نفسی کا عالم دکھائی دیتا ہے۔ طلبا یونینز کی عدم موجودگی کا ہی یہ نتیجہ ہے کہ ہمارا پورا معاشرہ شخصیت پرستی کا شاکر ہے اور شخصیات جو ہمیشہ مفاد پرستی کا شکار ہوتی ہیں نا جانے کب تک ہم ایسے معاشرے میں جئیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے