Home / اداریہ / باتیں نہیں کام اور صرف کام

باتیں نہیں کام اور صرف کام

حکومت سندھ نے بالا آخر یہ بات تسلیم کرلی ہے کہ مفاد عام کے لیے ناگزیر منصوبے ناقص منصوبہ بندی یا تاخیر کے باعث اپنی افادیت کھو بیٹھے ہیں جس کی وجہ سے شدید نقصان ہوتا ہے‘سکریٹری بلدیات کے مطابق کراچی کےلئے 2047 تک کاماسٹر پلان دوبارہ بنایا جا رہا ہے۔ اور اس لیے حکومت سندھ نے ماسٹر پلان اتھارٹی بھی قائم کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے کراچی میں فراہمی آب کا منصوبہ ” کے فور “ تاخیر کا شکار ہونے سے قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان ہوچکا ہے‘ سندھ حکومت نے اب یہ منصوبہ ”نیسپاک “ کے حوالے کردیا جس نے کے فور منصوبے کا ووٹ تبدیل کردیا ہے۔ یہ بات درست ہے کہ بہتر مستقبل کے لیے ہمیں اپنی سوچ کو بدلنا ہوگا۔ ورنہ ملک کے وجود کو خطرات لاحق ہوجائیں گے۔ حکومت سندھ نے بیورو کریسی کو یہ ہدایت کردی ہے کہ ترقیاتی اور تعمیراتی منصوبوں میںآسانیاں پیدا کرے ‘ سکریٹری بلدیات روشن علی شیخ نے ان زریں خیالات کا اظہار پاکستان ایکسی لینس کلب کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا تھا جس میں سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والی نمایاں شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت ‘ ان شخصیات میں سے اکثریت ایسے افراد کی تھی جنہیں شہری اداروں سے بے شمار شکایات رہی ہیں اور وہ ہر فورم پر ذمہ دارافسران اور انکے ماتحت اداروں کی ناقص حکمت عملی کی شکایت کرتے نظر آتے ہیں ‘ دو روز قبل ہی ایوان صنعت وتجارت کراچی نے محکمہ بلدیات کے اعلیٰ افسران کو شکایات سے بھرپور ایک خط روانہ کیا تھا جس میں انکی توجہ کراچی کی سڑکوں کی ٹوٹ پھوٹ اور صنعتی علاقوں میں بالخصوص سڑکوںکی حالت زار کی جانب لائی تھی اور یہ موقف اختیار کیا تھاکہ ان علاقوں کی سڑکوں پرسامان سے لدی بھاری گاڑیوں کی آمد ورفت ناممکن ہوچکی ہے جس کے باعث قومی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ رہا ہے اور کار خانوں کو اپنے درآمد وبرآمد کے آرڈر بروقت مکمل کرنے میں دشواری ہورہی ہے ‘ سڑکوں پر ایک با رپھر کچرے کے ڈھیر لگ چکے ہیں ‘ کہا گیا تھاکہ کچرا اٹھانے کے لیے جدید گاربیج اسٹیشن بنائے جارہے ہیں جہاںشہر کاکچرا جمع ہوگا لیکن شہرکا یہ کچرا شہر میں ہی جمع ہو رہاہے اور تاحال لینڈ فل سائٹس پر منتقل نہیں کیا جاسکا ‘ کراچی میں 13ہزار افغانی شہری روزانہ کچرا جمع کرتے ہیں اور چھانٹی کے بعد یہ افغانی کچرا سڑکوں پربکھیر دیتے ہیں ‘ کچرا چننے والے یہ افغانی پہلے ہی کراچی کے لیے سیکورٹی رسک بن چکے ہیں ‘ کچرے سے روزگار حاصل کرنے والے افغانی 36ارب روپے کمارہے ہیں ‘کراچی میں فراہمی ونکاسی آب کی تمام لائنیںبوسیدہ ہوچکی ہیں ‘ وزیراعلیٰ سندھ نے قبل ازیں بھی یہ اعلان کیا تھاکہ بوسیدہ لائینوں کو فوری تبدیل کیا جائے گالیکن وزیراعلیٰ کے احکامات بھی غیر موثر ثابت ہورہے ہیں جس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ شہر کا وی آئی پی کلب روڈ گزشتہ تین روز سے ناقابل استعمال حالت میں پڑا ہوا ہے جہاں 66انچ قطر کی سیوریج لائن دھنس گئی تھی جس کی وجہ سے صدر کے علاقے کے تمام گٹرزبند ہوگئے سیوریج کا پانی سڑکوں پربہنے لگا ‘ وزیراعلیٰ نے دھنسنے والی لائین کو 24گھنٹے میں بحال کرنے کا حکم دیا تھا مگر تادم تحریر کلب روڈ پر سیوریج کا پانی بہہ رہاہے اور ٹریفک کی روانی اب ناممکن ہوچکی ہے‘ہمارے حکام افسران اور متعلقہ اداروں کا یہ وطیرہ رہا ہے کہ وہ سماجی تقریبات میںخوبصورت باتیں کرتے ہیں‘ لوگوں کو سنہرے خواب دکھائے جاتے ہیںمگر نتائج کیا نکلتے ہیں وہی ڈھاک کے تین پات ‘ کراچی والوں کو اب ”لچھے دار گفتگو سے زیادہ عملی اقدامات کی ضرورت ہے جس کا سرے سے فقدان نظر آتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے