Home / پاکستان / حکومت کو ایک دن کی بھی مہلت نہیں دے سکتے،مولانا فضل الرحمن

حکومت کو ایک دن کی بھی مہلت نہیں دے سکتے،مولانا فضل الرحمن

اسلام آباد (بیورورپورٹ) جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے آزادی مارچ کے اجتماع کو 12ربیع الاول کو سیرت طیبہ کانفرنس میں تبدیل کرنے کااعلان کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ایک سال میں تین بجٹ پیش کرکے بھی محصولات کا ہدف حاصل کرنے میں ناکام حکومت کو اب ایک دن کی بھی مہلت نہیں دے سکتے،ہم اسی طرح ڈٹے رہے تو یقینا اپنے مقاصد میں کامیاب ہوں گے، آزادی مارچ میں وکلا کی شرکت نے ثابت کر دیا مارچ قانونی لحاظ سے بھی جائز ہے، یہاں یکطرفہ احتساب نہیں چلے گا، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس بد نیتی پر مبنی ہے ،یہاں عدل وانصاف نہیں، حکمرانوں کے احتساب کیلئے نیب بے بس ہے،ایسی آئینی حکومت چاہتے ہیں جو آئین پاکستان کی عکاس ہو۔ بدھ کو آزادی مارچ کے شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ میرے لئے سب سے تکلیف دہ مرحلہ یہ تھا جب رات کو بارش برس رہی تھی اور آپ کھلے آسمان تلے استقامت کا پہاڑ بنے ہوئے تھے ،آپ نے جس استقامت کےساتھ ساری رات اور دن بھر ٹھنڈی ہواؤں اور ٹھنڈے موسم کو برداشت کیا یہ اللہ کی طرف سے ایک امتحان تھا لیکن دنیا کےلئے پیغام تھااور پاکستان کے حکمرانوں کےلئے پیغام تھا کہ یہ اجتماع تما ش بینوں کا نہیں ،یہ اجتماع کوئی پکنک کا اجتماع نہیں ، یہ اجتماع کسی عیاشی کااجتماع نہیں ، یہ اپنے نظرئیے اور موقف کے ساتھ استقامت کے ساتھ کھڑے ہونے والوں کااجتماع ہے اور اس استقامت میں آج اس امتحان سے کامیابی سے گزرے ہیں اور انشاءاللہ آنے والے امتحانات کو بھی اسی کامیابی کے ساتھ عبور کریں گے اور منزل پر دم لینگے ۔انہوںنے کہاکہ اس ملک میں ہم ایسے دور سے گزر رہے ہیں جہاں پوری قوم حکمرانوں کے اقتدار میں زندگی کو شرمندگی تصور کررہے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے اپنے خیالات کا ذکر کیا ہے اور آج بھی اپنے خیالات کا ذکر کررہے ہیں ، یہ ربیع الاول کا مہینہ ہے اور انشاءاللہ 12ربیع الاول کو آزادی مارچ کوسیرت طیبہ کانفرنس میں تبدیل کر دینگے ۔انہوںنے کہاکہ نبی کریم نے قوم کو یہی بتایا کہ خوف اور ایمان دونوں اکٹھے نہیں رہ سکتے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے