Home / اداریہ / کتوں اور مچھروں کے آگے ادارے بے بس

کتوں اور مچھروں کے آگے ادارے بے بس

سب تدبیریں الٹی ہوگئیں۔سب منصوبے بیکار ثابت ہوئے۔ کراچی میں کتوں نے وزیروں،مشیروں کو شکست دے دی۔مچھروں نے پوری قوت سے اداروں پر حملہ کر دیا۔سب دعوے دھرے رہ گئے ۔ کراچی میں 9ہزار افراد کو کتوں نے کاٹ کھایا۔جناح اسپتال کی ایگزیکٹیوڈائیریکٹر ڈاکٹر سیمی جمالی کے مطابق سگ گزیدگی کے باعث ایک ہزار خواتین بھی متاثر ہوئی ہیں، اگر پورے صوبہ سندھ کی بات کی جائے تو گذشتہ دس ماہ کے دوران ایک لاکھ 87ہزار افراد کتوں کا شکار ہو چکے ہیں ۔کراچی میں اب تک 20افراد موت کے منہ میں جا چکے ہیں۔درجنوں افراد تشویک ناک حلت میں بے بسی کی موت کے منتظر ہیں۔کتوں کو پکڑنے، مارنے ، کتوں کی نس بندی اور کتا مارمہم چلانے کی سب باتیںجھوٹ اور فراڈ ثابت ہوئیں۔کتے شہریوں کو کاٹ رہے ہیں اور روزانہ مریض اسپتالوں میں لائے جا رہے ہیں۔یہ سب محکمہ صحت اور مقامی انتظامیہ کی نا اہلی کا منہ بولتاثبوت ہے، کتے اب بھی شہریوں کے تعاقب میں ہیں۔کتوں کے غول آزادانہ طور پرشہر کے ہر گلی ہر محلے میں مٹر گشت کرتے نظر آتے ہیں ۔ڈینگی مچھر بھی ہمارے اداروں اور حکام سے زیادہ طاقتور ثابت ہو رہے ہیں ۔ رواں سال کراچی اور سندھ کے دیگر شہروں میں ڈینگی کا شکار ہونے والے شہریوں کی تعداد 10ہزار360ہو چکی ہے گذشتہ 24گھنٹوں میں ڈینگی کے 218کیس رپورٹ ہوئے جس میں 205کا تعلق کراچی سے ہے۔ڈینگی بخار سے جانبحق ہونیوالوں کی تعداد 30ہو چکی ہے۔کراچی میں ڈینگی سے بڑھی ہوئی اموات پر محکمہ صحت ڈینگی پروگرام اور ہیلتھ کئیر کمیشن کے ماہرین پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی تھی مگر یہ کمیٹی بھی تا حال کوئی خاطر خواہ کارکردگی نہ دکھا سکی۔روزنامہ اخبار نو کی جا نب سے ان سطور میں باربار توجہ دلانے کے سبب وزیر صحت ڈاکٹر عذرا پیچوہوحرکت میںآئیں اور انھوں نے ہیلتھ کمیشن کو ڈینگی سے بڑھتی ہوئی اموا ت کا جائزہ لینے کی ھدایت کی۔تا دم تحریربدھ کے روز رات دیر تک یہ اجلاس جاری تھا ۔کتوں کے کاٹنے کے واقعات پہ سندھ ہائی کورٹ ،حکومت سندھ کےے لئے احکامات جاری کرتی رہی ہے اس کے باوجود تا حال عدالتی احکامات پر عمل نہیں کیا گیا۔وطن عزیز میں صحت اور تعلیم کے شعبوں کا برا حال ہے بالخصوص صحت کے شعبہ میں حکمرانوں کی عدم دلچسپی اور نا کافی سہولتوںپر اب عالمی ادارے بھی تنقید کرتے نظرآتے ۔ عا لمی ادارہ صحت کی حالیہ رپورٹ پاکستانیوں کے لئے کسی تازیانے سے کم نہیں ہے جس میں یہ بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں آبادی کے تناسب سے نہ ڈاکٹر موجود ہیں نہ اسپتا لوں کا معیار عالمی قوانین کے مطابق ہے سماجی شعبوں کی جانب سے قائم کردہ صحت کے مراکز بھی شہریوں کو مفت سہولیات کی فراہمی کے بجائے پیشہ ورانہ بنیادوں پر علاج و معا لجہ کی سہولیات فراہم کرتے ہیں لوگوں کو ادویات میسر نہیں ہیں۔پاکستان کا شمار اس وقت ان ممالک کی فہرست میں شامل ہے جہاں امراض بڑھنے کی شرح سب سے زیادہ ہے۔ ان حالات میںڈینگی بخارہو یا پھر کتے کے کاٹنے کے مریض ان تک کیلئے زندگی بچانے والی ادویات ناپید ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے