Home / کالم مضامین / سانحہ تیز گام پس منظر میں ‘ شیخ رشید بچ نکلے

سانحہ تیز گام پس منظر میں ‘ شیخ رشید بچ نکلے

آج کی بات……..سید شاہد حسن کے قلم سے
وفاقی وزیر ریلوے سیاسی میدان میں پھر سرگرم ‘ پیش گوئیاں کرنے لگے
تیز گام ٹرین حادثے کا سارا ملبہ نچلے درجے کے ملازمین پر ڈالنے کی کوشش
خود کو انتہائی متحرک ‘ بااثر ‘ رابطہ کار اور اپنے آپ کو منجھا ہوا سیاست دان باور کرانے والے وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے سانحہ تیز گام کے بعد کچھ روز کے لیے خاموشی اختیار کرلی تھی جبکہ اس افسوسناک حادثے کے حوالے سے استعفیٰ دینے یا نہ دینے کے بارے میں کہا تھاکہ وہ اس بارے میں اعلان 3نومبر (گزشتہ اتوار ) کو کریں گے‘ اس دوران شیخ رشید منظر عام سے بھی غائب رہے اور انہوں نے سیاسی پیش گوئیوں کا سلسلہ بھی بند کردیا تھا لیکن اب شیخ رشید صاحب نے پیش گوئیوں کا سلسلہ ایک بار پھر شروع کردیا ہے ‘ ان کی تازہ پیش گوئی یہ ہے کہ مولانا فضل الرحمان آئندہ دو روز میں دھرنا ختم کرکے گھر چلے جائیں گئے ساتھ ہی محترم شیخ رشید نے قوم کو بتادیا ہے کہ عمران خان اپنی وزارت عظمیٰ کے پانچ سال پورے کریں گے ‘ مگر سانحہ تیز گام کا ذمہ دار کون ہے ‘ اب تک کی تحقیقات کا دائرہ محض نچلے درجے کے ملازمین کو ہی کیوں ٹھہرایا جارہا ہے ‘ اس بارے میں شیخ رشید کے پاس کہنے کے لیے کچھ نہیں ہے‘جو نیئر افسران کی معطلی کا مطلب تو یہ ہے کہ یہ افسران تحقیقات پر اثر انداز نہ ہوں ‘ قانون کی حکمرانی والا کوئی اور ملک ہوتا تو وہاں ایک شخص کی ہلاکت پر وزیر سے استعفیٰ اور افسران کو برطرف کردیا جاتا‘ یہاں وزیر صاحب تو حادثے میں جاں بحق 75افراد کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرنا تو دور کی بات ہے ‘ وہ اسکاذمہ دارمسافروں کو قرار دے کر صاف بچ نکلے ‘ چھ جونیئر افسران کی معطلی اور چند پولیس اہلکار کو ذمہ دار قرار دینے سے یہ بات تقریباً طے ہوچکی ہے کہ سانحہ تیز گام کو بھی ماضی کے ریلوے حادثات کی طرح قصہ پارینہ بنانے کا منصوبہ تیار کیا جاچکا ہے ‘ شیخ رشید کو یقین ہوچکا ہے یا پھر انہیں یقین دلادیا گیا ہے‘بے فکر رہو کچھ نہیں ہوگا اور آپ کی وزارت برقرار رہے گی ‘ شاید یہی وجہ ہے کہ شیخ رشید صاحب کی چہک مہک اور مستقبل کے لیے پیش گوئیاں پھر شروع ہوگئی ہیں ‘ ہمارے ملک میں ہر سانحہ کی ذمہ داری نچلے درجے کے ملازمین پر ڈالنے کی روایت بہت پرانی ہے ‘ریلوے اور دیگر بڑے اداروں میں ہونے والے سانحات کی اگر غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں تو ہر سانحہ کی بنیادی وجہ ناقص منصوبہ بندی ہوتی ہے اور منصوبہ بندی کرنا ملازمین کا کام نہیں ہوتا بلکہ وزیر ‘مشیر اور اعلیٰ افسران کی ذمہ داری ہوتی ہے ‘سانحہ تیز گام کے حوالے سے اب تک جوحقائق سامنے آئے ہیں انکے مطابق یہ خوفناک حادثے (بقول شیخ رشید صاحب) اس ایک غلطی کا نتیجہ تھا جس کے تحت مسافروں کو چولہے اور گیس سلنڈر یا اس قسم کی دیگر آتش گیر اشیاءکو چیک کرنے کے لیے ا سکینرکی مرمت کرانا بھی کیا مسافروں کا کام تھا ‘ کراچی کینٹ ریلوے اسٹیشن کے ذمہ داران کا یہ دعویٰ ہے کہ ا سکینر کی خرابی کے بارے میں شیخ رشید صاحب کو حادثے سے ایک ماہ قبل ہی مطلع کردیا گیا تھا ‘ دوسروں کو ذمہ دار ٹھہرانے سے بہتر ہے کہ شیخ صاحب اپنی وزارت سے الگ ہوکر شفاف تحقیقات کے نتیجے کا انتظار کریں ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے