Home / پاکستان / سیاسی سرگرمیوں سے فوج کا کوئی لینا دینا نہیں،ترجمان پاک فوج

سیاسی سرگرمیوں سے فوج کا کوئی لینا دینا نہیں،ترجمان پاک فوج

راولپنڈی (بیورو رپورٹ) پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے کہاہے کہ آرمی چیف چاہتے ہیں ایساالیکشن پراسس تیارکیاجائے جس میں فوج کاکردارنہ ہو،فوج خودکوکسی چیزوں میں ملوث نہیں کرتی کہ الزام تراشی کاجواب دیں،فوج بطورادارہ کسی بھی سرگرمیں میں ملوث نہیں،کشمیرکامقدمہ 70سال سے چل رہاہے،مسئلہ کشمیرپرفوج یاکوئی اورادارہ سمجھوتہ نہیں کرسکتا، درشن کرکے سکھ یاتری اسی دن واپس جائیں گے،پاکستان میں داخلے کی اجازت نہیں ہوگی۔ بدھ کو ایک انٹرویو میں ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہاکہ یہ دھرناہے یامارچ ،یہ سیاسی سرگرمی ہے،فوج غیرجانبدارادارہ ہے۔میجرجنرل آصف غفور نے کہاکہ فوج خودکوکسی چیزوں میں ملوث نہیں کرتی کہ الزام تراشی کاجواب دیں،فوج بطورادارہ کسی بھی سرگرمی میں ملوث نہیں،دھرنے میں فوج کاکوئی کردارنہیں۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہاکہ مولانافضل الرحمان سینئرسیاستدان ہیں،2014کے دھرنے میں بھی فوج نے جمہوری حکومت کاساتھ دیاتھا،فوج حکومت کے احکامات پرعمل کرتی ہے۔ انہوںنے کہاکہ الیکشن میں فوج کاکوئی کردارنہیں،صرف سیکیورٹی کےلئے بلایاجاتاہے،آئین میں رہتے ہوئے ریکوزیشن پراپناکرداراداکرتے ہیں۔انہوںنے کہاکہ فوج کی خواہش نہیں ہوتی کہ الیکشن میں کوئی کرداراداکریں،آرمی چیف بھی چاہتے ہیں کہ الیکشن میں فوج کاعمل دخل کم سے کم ہو۔ انہوںنے کہاکہ آرمی چیف چاہتے ہیں ایساالیکشن پراسس تیارکیاجائے جس میں فوج کاکردارنہ ہو۔ انہوںنے کہاکہ ایل اوسی پرروزانہ فائرنگ ہورہی ہے،پاک فوج کشمیرکامقدمہ70سال سےایل اوسی پرلڑرہی ہے،کشمیرکامقدمہ 70سال سے چل رہاہے،مسئلہ کشمیرپرفوج یاکوئی اورادارہ سمجھوتہ نہیں کرسکتا۔ انہوںنے کہاکہ کرتارپورراہداری کامسئلہ کشمیرسے تعلق نہیں بنتا،بھارت سے آنےوالے یاتری صرف کرتارپورتک محدودرہیں گے۔ انہوںنے کہاکہ درشن کرکے سکھ یاتری اسی دن واپس جائیں گے،پاکستان میں داخلے کی اجازت نہیں ہوگی۔ انہوںنے کہاکہ سکھ یاتریوں کی پاکستان میں انٹری قانون کےمطابق ہوگی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے