Home / پاکستان / مارچ کے اختتام کا معاہدہ تشکیل دئےے جانیکا امکان

مارچ کے اختتام کا معاہدہ تشکیل دئےے جانیکا امکان

اسلام آباد( بیورو رپورٹ )اسپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الٰہی کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات میں اہم پیش رفت ہوئی ہے جس کے بعد حکومت اور رہبر کمیٹی کی تجاویز کی روشنی میں ایک معاہدہ تشکیل دیے جانے کا امکان ہے۔بدھ کی شام اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہی نے مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ پر ان سے ملاقات کی۔ ذرائع کے مطابق چوہدری برادران کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقاتوں میں حکومت اور رہبر کمیٹی کی تجاویز کی روشنی میں ایک معاہدہ تشکیل دیے جانے پر گفتگو ہوئی۔حکومت کی جانب سے معاہدے میں مولانا فضل الرحمان کو اعلی سطح کی ٹھوس ضمانت دینے کی پیشکش کی گئی ہے جس کا مولانا فضل الرحمان کی جانب سے مثبت جواب دیا گیا ہے۔جمعیت علمائے اسلام (ف)کے ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومتی مذاکراتی ٹیم کے ساتھ مذاکرات میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی لیکن امید ہے کہ چوہدری برادران مولانا فضل الرحمان کو قائل کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ ملاقات کے بعد چوہدری پرویز الٰہی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مثبت پیش رفت ہورہی ہے، کئی چیزیں ساتھ ساتھ چل رہی ہیںابھی تھوڑا صبر اور محنت کی ضرورت ہے انھوں نے کہا کہ محنت اس لیے ہو رہی ہے مثبت طریقے سے معاملے منطقی انجام کو پہنچے ہمارے مقصد کو کامیابی ملے گی لیکن ٹائم لگے گا، سب لوگ نیک نیتی سے کوشش کر رہے ہیں اور مثبت پیشرفت ہو رہی ہے صبر اور محنت کی ضرورت ہے، کئی چیزیں ساتھ ساتھ چل رہی ہیں محنت اسی لئے ہو رہی ہے تاکہ مثبت انداز اور بہتر طریقے سے کامیابی ہو ہمارا مقصد ایک ہے تو انشااللہ کامیابی ملے گی پرویز الٰہی سے ویراعظم کے استعفے پر ڈیڈ لاک کا سوال سمیت جمعے تک دھرنا ختم ہونے کے سوال کا جواب دینے سے بھی گریز کیا۔دریں اثناءجمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ ہم مذاکرات سے انکاری نہیں ، ہمارے مطالبات کو سنجیدگی سے لینا چاہیے ، ملک ہم سب کا ہے، جب کشتی ڈوبتی ہے تو ہم سب ڈوبتے ہیں،میرا الیکشن کمیشن پر اعتماد نہیں، عمران خان بھٹو سے بڑے لیڈر نہیں، وہ اتنے بڑے آدمی نہیں کہ ہمارے مطالبات پر توجہ نہ دیں، معاملات سنجیدگی سے طے ہونے چاہئیں۔ رات گئے مولانا فضل الرحمان چوہدری شجاعت حسین سے ملاقات کے لیے ان کی رہائش گاہ گئے جہاں ان کی چوہدری برادران سے تفصیلی گفتگو ہوئی۔ملاقات کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ چوہدری صاحبان لاہور سے یہاں تشریف لائے، ہم ملک کو اس بحران سے نکالیں گے جو ملک کو درپیش ہے۔ایک سوال کے جواب میں مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ کچھ خیر کی باتیں چوہدری برادران نے کیں اور کچھ گلے ہم نے کئے ہیں۔سربراہ جے یو آئی ف نے کہا کہ ہم مذاکرات سے انکار نہیں کرتے لیکن مذاکرات با معنی ہونے چاہئیں اور ہمارے مطالبات کو سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہم نے نپا تلا مؤقف تمام پارٹیوں کے ساتھ طے کیا ہے، اس میں تبدیلی ممکن نہیں، اگر وہ چاہتے ہیں کہ اس میں تبدیلی لائیں تو پھر وہ کوئی تجویز لائیں، درمیانی راستے والی تجویز پر ہم غور کریں گے کہ قابل قبول ہو سکتی ہے یا نہیں، ضروری نہیں کہ ہم کسی کو فالو کرکے بات کریں۔نہوں نے کہاکہ چوہدری صاحبان کو پی ٹی آئی کے لوگ نہ سمجھا جائے، ان کی اپنی ایک حیثیت ہے، کوشش ہے کہ کسی طرح قوم کو بحران سے نکال سکیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے