Home / پاکستان / کے ایم سی کا 43 مارکیٹوں کی دکانوں کا دو ماہ کا کرایہ نہ لینے کا اعلان

کے ایم سی کا 43 مارکیٹوں کی دکانوں کا دو ماہ کا کرایہ نہ لینے کا اعلان

کراچی(اسٹاف رپورٹر)میئر کراچی وسیم اختر نے آل سٹی تاجر اتحاد کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ یومیہ اجرت پر کام کرنے والے افراد پریشان اور کسمپرسی کا شکار ہیں حکومت فوری طور پر ان مزدوروں اور محنت کشوں کےلئے پیکیج کا اعلان کرے، میئر کراچی سے ملنے والے وفد کی قیادت چیئرمین آل سٹی تاجر اتحاد حکیم شاہ کررہے تھے، میئر کراچی نے کہا کہ کے ایم سی کی 43 مارکیٹوں کی 7500 دکانوں کا دو ماہ کا کرایہ رواں مہینے نہ لینے کا اعلان کیا ہے یہ کرایہ اگلے مالی سال کے چار مہینوں میں اقساط کی صورت میں وصول کیا جائے گا، جس کا تاجروں اور اسمال ٹریڈرز کی جانب سے خیر مقدم کیا گیا ہے، انہوں نے کہا کہ کے ایم سی ان دکانوں سے ماہانہ 66لاکھ 66 ہزار روپے اور کم و بےش سالانہ 8 کروڑ روپے کرائے کی مد میں وصول کئے جاتے ہیں اور یہ رقم ان مارکیٹوں کی تز ئین وآرائش اور تعمیر و مرمت پر خرچ کی جاتی ہے،

میئر کراچی نے کہا کہ عالمی ادارہ صحت نے خبر دار کیا ہے کہ مئی کا مہینہ کورونا وائرس کے حوالے سے سخت ثابت ہوسکتا ہے جبکہ عالمی اور مقامی ماہرین بھی اس سے آگاہ کررہے ہیں، یہ بات سب تسلیم کرتے ہیں کہ اس ہولناک بیماری کا مقابلہ صرف احتیاط سے ہی ممکن ہے لیکن دوسری جانب یومیہ اجرت پر کام کرنے والے اسمال ٹریڈرز اور چھوٹے دکاندار وں کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے ہوگئے ہیں، لوگ فاقہ کشی کا شکار ہو رہے ہیں، اگر حکومت نے اس کا تدارک نہ کیا تو کورونا وائرس سے بھی زیادہ خطر ناک نتائج سامنے آسکتے ہیں،

انہوں نے کہا کہ وہ آل سٹی تاجر اتحاد کے مطالبات کو درست سمجھتے ہیں اور حکومت سے ایک بار پھر کہتا ہوں کہ بیان بازی کے بجائے حقیقی اقدامات کئے جائیں، وفاقی حکومت نے کورونا وائرس کے باعث ملک میں جاری لاک ڈا


¶ن میں مزید دو ہفتے کی توسیع کردی ہے لیکن شہریوں کو کسی قسم کا کوئی پیکیج نہیں دیا گیا، انہوں نے کہا کہ ہمارے ہاں تعلیم کا تناسب انتہائی کم ہونے کے باعث آن لائن کاروبار نہیں چل سکتا، کروڑوں افراد آن لائن خریدو فروخت کے عمل سے واقف ہی نہیں ہیں، میئر کراچی نے کہا کہ لاک ڈا


¶ن کی وجہ سے بیروز گاری میں بے انتہا اضافہ ہوا ہے کاروباربند ہوگئے ہیں لہٰذا لوگوں کو سخت مشکلات کا سامنا ہے اگر یہی صورتحال جاری رہی تو مزید 10 فیصد آبادی خطہ غربت سے نیچے چلی جائے گی اور کم و بیش 30 لاکھ افراد ملازمتوں سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے