Home / پاکستان / ملک دوبار لاک ڈاؤن کا متحمل نہیں ہوسکتا،وزیراعظم

ملک دوبار لاک ڈاؤن کا متحمل نہیں ہوسکتا،وزیراعظم

اسلام آباد (بیورو رپورٹ)وزیراعظم عمران خان نے ملک میں کورونا وائرس سے پیدا ہونے والے بحران کے لیے تشکیل دی گئی خصوصی کووِڈ 19 ریلیف ٹائیگر فورس کو ٹڈی دل اور ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث شجرکاری مہم میں شامل ہونے کی ذمہ داری دےتے ہوئے کہا ہے کہ کورونا کے باعث پیدا ہونے والے بحران سے نمٹنے کےلئے ہمیں رضاکاروں کی ضرورت ہے، ٹائیگر فورس کو خصوصی کارڈز دیے جائیں گے،مستقبل میں مزید ذمہ داریاں دی جائیں گی،رمضان المبارک کے دور ان مساجد کھلی رکھنے پر مخالفین نے بہت شور مچایا ،ہم نے ایس او پیز پر عملدر آمد کروایا اور مساجد سے کورونا نہیں پھیلا ،ہم عوام کو احتیاط کروائیں تو مشکل وقت سے نہیں گزریں گے ، امریکہ اور برازیل کے مقابلے میں پاکستان میں حالت خاصی بہتر ہے ، پھر بھی ہلاکتوں پر افسوس ہے ،ٹائیگر فورس کے ذریعے عوام میں شعور پیدا کر نے میں کامیاب ہوگئے تو کیسز میں کمی آسکتی ہے ،

بھارت میں شدید غربت کے باجود سخت لاک ڈاو¿ن لگایا گیا جس سے تباہی مچ گئی اور وہاں لوگ مرر ہے ہیں، پاکستان دوبارہ لاک ڈاو¿ن کا متحمل نہیں ہوسکتا تاہم زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں کو بند بھی کیا جاسکتا ہے،ماحولیاتی تبدیلیوں سے پاکستان کو بہت بڑا خطرہ ہے،آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ہمیں بڑے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا اور اخراجات کم کرتے ہوئے آمدن بڑھانے کے طریقوں پر توجہ دینی ہوگی،10 ارب درخت لگانے کے منصوبے میں برسات کے دوران شجر کاری کا نیا سلسلہ شروع ہوگا۔

جمعہ کو ٹائیگر فورس کے حوالے سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ دنیا میں صرف 2 ملک تھے جنہوں نے اس بات کا ادراک کیا کہ کورونا کے باعث پیدا ہونے والے بحران سے نمٹنے کےلئے ہمیں رضاکاروں کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں ایسے رضاکاروں کی ضرورت تھی جو عوام میں جا کر کورونا وائرس سے بچاو¿ کے طریقوں کے حوالے سے آگاہی دیں۔وزیراعظم نے کہا کہ ہم واحد مسلمان ملک تھے جس نے یہ فیصلہ کیا گیا کہ رمضان المبارک کے دوران مساجد کھلی رکھی جائیں گی اور اس سلسلے میں ایس او پیز پر عملدرآمد کروایا جائے گا۔انہوں نے بتایا کہ مخالفین نے بہت شور مچایا کہ مساجد بند کی جائیں پوری دنیا میں پھیل گئی ہے تاہم ہمارے مشاہدے میں یہ بات آئی کہ مساجد سے کورونا کا پھیلاو¿ نہیں ہوا اور آج دنیا کے دیگر ممالک بھی ایس او پیز پر عمل کر کے مساجد کھول رہے ہیں۔

انہوںنے کہاکہ اگر ہم اب بھی عوام کو احتیاط کروائیں تو ہم اس مشکل وقت سے نہیں گزریں گے جس سے دنیا کے دیگر ممالک گزرے۔وزیراعظم نے کہا کہ برازیل اور امریکا میں شرح اموات بہت بلند ہے تاہم اس کے مقابلے پاکستان میں حالت خاصی بہتر ہے لیکن پھر بھی افسوس کی بات ہے کہ اتنی اموات ہوئیں۔دریں اثناءوزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت بجٹ برائے مالی سال 21-2020 کے حوالے سے اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا جس میں مشیر خزانہ کی قیادت میں حکومتی معاشی ٹیم نے وزیرِ اعظم کو آئندہ مالی سال کے بجٹ کے محصولات، اخراجات اور اس حوالے سے زمینی حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے حکومت کی ترجیحات کو عملی جامہ پہنانے کے حوالے سے حکمت عملی پر بریفنگ دی۔

وزیرِ اعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کورونا وباکی وجہ سے ہر طبقہ متاثر ہوا ہے اور معیشت کو استحکام دینے اور ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کی کوششیں متاثر ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت کی اولین ترجیح ہے کہ ان شعبوں کو خصوصی طور پر فروغ دیا جائے جن سے نوجوانوں کے لئے نوکریوں کے مواقع پیدا ہوتے ہیں اور معاشی عمل کو فروغ ملتا ہے۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ غیر ترقیاتی اخراجات میں کمی لانا خصوصاً غیر ضروری حکومتی اخراجات میں کٹوتی موجودہ حکومت کی روز اول سے ترجیح رہی ہے۔وزیرِ اعظم نے کہا کہ موجودہ صورتحال کے تناظر میں اس مقصد کو آگے بڑھانے پر خصوصی توجہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔

مختلف شعبوں میں سبسڈیز اور حکومت کی جانب سے مالی معاونت کی فراہمی کے معاملات پر غور کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ حکومت کی جانب سے دی جانے والی سبسڈی درحقیقت عوام کے ٹیکسوں کا پیسہ ہے لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ اس پیسے کے بہترین اور موثر استعمال کو یقینی بنایا جائے تاکہ جہاں مطلوبہ مقاصد کا حصول ممکن بنایا جا سکے وہاں حقداروں تک ان کے حق کو پہنچانے کے عمل کو بھی یقینی بنایا جا سکے۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ موجودہ معاشی حالات اس امر کے متقاضی ہیں کہ اصلاحات کے عمل کی رفتار کو تیز کیا جائے تاکہ عوام پر پڑنے والے غیرضروری بوجھ کو کم سے کم کیا جا سکے اور ان کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے