Home / پاکستان / ڈبلیوایچ او ، عالمی بیک نے پاکستان کے لئے خطرے کی گھنٹی بجادی

ڈبلیوایچ او ، عالمی بیک نے پاکستان کے لئے خطرے کی گھنٹی بجادی

سلام آباد (بیورو رپورٹ)پاکستان میں کورونا وائرس تیزی سے پھیلنے لگا ڈبلیوایچ اونے پاکستان کے لئے خطرے کی گھنٹی بجادی اور کہا ہے کہ لاک ڈاو¿ن میں نرمی کے بعدکیسزمیں اضافہ ہوا ،پاکستان کورونا سے متاثر 10 سرفہرست ممالک میں شامل ہو گیا ہے، یومیہ 50 ہزارٹیسٹ کی اہلیت بے حدضروری ہے ،پاکستان 2 ہفتے لاک ڈاو¿ن، 2 ہفتے نرمی کی پالیسی اختیارکرے۔ڈبلیو ایچ او کی جانب سے وزیر صحت پنجاب یاسمین راشد کو لکھے گئے خط میں کہا گیا کہ پاکستان میں کوروناکاپہلامریض 26 فروری کوسامنے آیا اب وباپاکستان کے تمام اضلاع میں پھیل چکی ہے ،

بڑے شہروں میں کوروناکیسزبڑی تعدادمیں ہیں،کورونا سے متاثر 10 سرفہرست ممالک میں شامل ہو گیا ہے۔ خط میں کہا گیا کہ پاکستان میں کورونا لاک ڈاﺅن میں نرمی کے بعدکیسزمیں اضافہ ہوا پاکستان لاک ڈاو¿ن خاتمے کے کسی معیارپرپورانہیں اترتا۔ لاک ڈاو¿ن ختم کرنے سے پہلے 6 شرائط کاپوراکرناضروری ہے لاک ڈان کے خاتمے سے پہلے یقینی بنایاجائے وبامکمل کنٹرول میں ہے اور ہیلتھ سسٹم ہرکیس کی تشخیص،ٹیسٹ اورعلاج کااہل ہو۔ پاکستان 2 ہفتے لاک ڈاو¿ن، 2 ہفتے نرمی کی پالیسی اختیارکرے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ یومیہ 50 ہزارٹیسٹ کی اہلیت بےحدضروری ہے پاکستان قرنطینہ،سماجی فاصلے اورکانٹیکٹ ٹریسنگ کے اقدامات اٹھائے اور تمام احتیاطی تدابیراختیار کرے۔

دوسری جانب عالمی بینک نے کورونا وائرس کی صورتحال کے باعث سامنے آئے نتائج کا حوالہ دیتے ہوئے پیش گوئی کی ہے کہ پاکستان کی معیشت گزشتی اندازے سے بھی بری کارکردگی کا مظاہرہ کرے گی جس کے بارے میں خبردار کیا گیا تھا۔میڈیا رپورٹ کے مطابق عالمی اقتصادی امکانات‘ نامی اپنی نئی رپورٹ میں امریکا سے تعلق رکھنے والے قرض دہندہ ادارے نے اندازہ لگایا ہے کہ رواں مالی سال ملک کی معیشت خطرات کا شکار ہونے کا امکان ہے جس سے آئندہ مالی سال تک بحالی ممکن نہیں۔رپورٹ میں مالی سال 20-2019 کے دوران مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) کی منفی شرح نمو -2.6 فیصد جبکہ سال 21-20 میں -0.2 فیصد رہنے کی پیش گوئی کی ہے۔بینک کا اپنی رپورٹ میں کہنا تھا کہ پاکستان (مالی سال 20-2019 میں -2.6 فیصد) اور افغانستان (2020 میں -5.5 فیصد) دونوں کو (معیشتوں کے) سکڑنے کا سامنا ہوسکتا ہے کیوں کہ کمی کے اقدامات سے نجی کھپت پر بھاری بوجھ پڑنے کی توقع ہے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ اہم برآمدی شعبہ جات کے تیزی سے سکڑنے کی توقع ہے جس کی بحالی سست ہوگی،یہ کارکردگی عالمی بینک کی 12 اپریل کو جاری کردہ رپورٹ سے بھی خراب ہے جس میں شرح نمو 2.2- فیصد اور 1.3- فیصد رہنے اور 0.9 فیصد بحالی کی پیش گوئی کی گئی تھی۔

خیال رہے کہ گزشتہ رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ مالی سال 20 کے چوتھے حصے میں آو¿ٹ پٹ کے تیزی سے سکڑنے کا امکان ہے جس سے مجموعی شرح نمو 1.3- فیصد ہوجائےگی۔یہ اندازہ حکام کے حالیہ تخمینے کے برعکس ہے کیونکہ اس میں رواں مالی سال کے دوران جی ڈی پی کے 0.4- تک کم ہوجانے اور آئندہ مالی سال تک 2.3 فیصد کی بحالی کا تخمینہ ظاہر کیا گیا تاہم دوسری جانب خطے کی دیگر معیشتیں بھارت، بنگلہ دیش، نیپال اور بھوٹان مالی سال 20-2019 میں بھی ترقی کرتی رہیں گی حالانکہ یہ سب بھی عالمی وبا کے اثرات سے متاثر ہوئی ہیں۔عالمی بینک نے خطے میں جی ڈی پی کے سال 2020 میں 2.7 فیصد سکڑنے کا تخمینہ لگایا ہے کیوں کہ وبا کے خلاف اقدامات نے کھپت اور خدمات میں رکاوٹ پیدا کردی ہے اور وبا کی صورتحال کے باعث نجی سرمایہ کار بھی ٹھنڈے پڑ گئے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے