Home / پاکستان / حکومت کورونا کے پھیلاﺅکو روکنے کے لئے 15 روزہ کرفیو نافذ کرے، طبی ماہرین

حکومت کورونا کے پھیلاﺅکو روکنے کے لئے 15 روزہ کرفیو نافذ کرے، طبی ماہرین

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر جاوید اکرم نے کہا ہے کہ پاکستان میں کورونا کی صورتحال خاصی تشویشناک ہے اور ہر گھنٹے چار قیمتی جانیں ضائع ہو رہی ہیں،لاک ڈاﺅن بیماری نہیں روکتا بلکہ اس کے پھیلاو میں کمی لاتا ہے ،میری ذاتی رائے ہے کہ کورونا کے پھیلاﺅکو روکنے کے لئے 15 روزہ کرفیو نافذ کیا جائے تاکہ اس وبا ءکا پھیلاﺅروکا جائے ،خطے میں آئی آئی جی والا طریقہ علاج شروع کر رہے ہیں،یہ وبا ءہماری زندگی کا کسی نا کسی شکل میں حصہ رہے گی ،

ہماری امیدیں اللہ تعالی سے جڑی ہوئی ہیں ،اگر 100 افراد کو ناک یا گلے سے یہ وائرس متاثر کرے تو 30 کو کوئی علامات ظاہر نہیں ہوتیں لیکن وہ آگے وہی وائرس ٹرانسفر کر رہے ہوتے ہیں باقی میں سے کچھ میں کم اور کچھ میں زیادہ علامات ظاہر ہوتی ہیں ،ہم کورونا کا علاج کمرشل بنیادوں پر نہیں بلکہ اللہ تعالی کی خوشنودی کے لئے کر رہے ہیں ۔ڈاکٹر طاہر شمسی اور دیگر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 100 مریضوں میں سے صرف 5 فیصد مریضوں کی حالت تشویشناک ہوتی ہے ،کوشش کریں کہ آخری آپشن کے طور اپنے مریض کو وینٹی لیٹر پر لے جانے کا کہیں ،وینٹی لیٹر کسی بھی کورونا مریض کے لئے نقصان دہ بھی ہو سکتا ہے ،وینٹی لیٹر پر جانے والے مریضوں میں سے 99 فیصد جان سے چلے جاتے ہیں ،پاکستان میں وینٹی لیٹر کو چلانے والی افرادی قوت کی خاصی کمی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ اگر ایک ڈاکٹر اپنے مریض کی جان بچاتے ہوئے شہید ہو تو وہ سیدھا جنت میں جائے گا،آخری ڈاکٹر بھی اپنے مریضوں کی جان بچانے کے لئے کام کرتا رہے گا جو عین جہاد ہے ۔پہلے کے لاک ڈاون کا کوئی فائدہ نہیں ہوا ، شادی بیاہ اور جنازوں سمیت ہمیں اپنی زندگی کا طریقہ کار تبدیل کرنا ہو گا، عام آدمی کورونا ٹیسٹ نہ کروائے بلکہ ایک گھر میں جس جس کو علامات ہیں، وہ الگ اور باقی الگ رہیں تو 2 ہفتوں میں صورتحال بہتر ہو جائے گی ۔ڈاکٹر طاہر شمسی نے کہا کہ کورونا کی ویکسین کے بغیر جنگ لڑنے کی جو کوششیں ہو رہی ہیں پیسیو ایمونائزیشن گروپ اسی سلسلے کی کڑی ہے ،وینٹی لیٹر پر جانے سے پہلے پہلے اس طریقہ علاج کا فائدہ ہے ،دنیا میں ہم سے زیادہ تربیت یافتہ افراد ہیں لیکن وہ بھی مکمل طور پر اس سے فائدہ نہیں اٹھا پا رہے ،ملک میںشروع کے دنوں میں لاک ڈاﺅن اور کورونا کا مذاق اڑایا گیا جس کا خمیازہ ہم بھگت رہے ہیں۔

ڈاکٹر فرید ون جواد نے کہا کہ پلازمہ تھراپی شروع کرنے میں ہمیں خاصی مشکلات تھیں اب تک ہم 2 درجن مریضوں کی پلازمہ تھراپی کر چکے ہیں اس وقت ہمارے پاس 200 مریضوں کی پلازمہ تھراپی کی گنجائش موجود ہے جسے بتدریج بڑھایا جائے گاہم کورونا مریضوں کے علاج کے لیے مختلف آپشنز پر کام کر رہے ہیں قوت مدافعت کم ہو تو پھیپھڑے کم کام کرتے ہیں کورونا کی ویکسین اتنی جلدی دستیاب ہونا ممکن نہیں کیونکہ آج تک ہیپاٹائٹس سی وغیرہ کی آج تک ویکسین نہیں بن سکی ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے