اسلام آباد (بیورو رپورٹ) پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے 71 کھرب 37ارب روپے کا وفاقی بجٹ پیش کر دیا ہے جس میں کوئی نیا ٹیکس نہ لگانے کا اعلان کیا گیا ہے ،آئندہ مالی سال کے بجٹ کا کل حجم 71 کھرب 37 ارب روپے ہے جس میں حکومتی آمدنی کا تخمینہ فیڈرل بورڈ آف ریوینیو (ایف بی آر) کی جانب سے محصولات کی صورت میں 4963 ارب روپے اور نان ٹیکس آمدنی کی مد میں 1610 ارب روپے رکھا گیا ہے،قومی مالیاتی کمیشن کے تحت وفاق صوبوں کو 2874 ارب روپے کی ادائیگی کرے گا جبکہ آئندہ مالی سال کیلئے وفاق کی مجموعی آمدنی کا تخمینہ 3700 ارب روپے لگایا گیا ہے اور کل وفاقی اخراجات کا تخمینہ 7137 ارب روپے لگایا گیا ہے،

آئندہ مالی سال کے بجٹ میں 3437 ارب روپے کا خسارہ ہے جو کہ مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) کا 7 فیصد بنتا ہے،بیرونی وسائل سے 810 ارب روپے آمدنی کا تخمینہ لگایا گیا ہے،آئندہ مالی سال کے دوران براہ راست ٹیکسوں سے 2 ہزار 43 ارب روپے آمدن کا تخمینہ ہے، آئندہ مالی سال کے دوران بلواسطہ ٹیکسوں سے 2 ہزار 920 ارب روپے آمدن کا تخمینہ ہے،آئندہ مالی سال میں پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی کی مد میں 450 ارب روپے کی آمدن کا تخمینہ لگایا گیا ہے، قابل تقسیم محصولات سے آمدن کا تخمینہ 2 ہزار 817 ارب روپے لگایا گیا ہے،آئندہ مالی سال 2020-21میں مہنگائی 9.1 فیصد سے کم کر کے ساڑھے چھ فیصد تک لانے کی تجویز، جبکہ موٹر سائیکل اور رکشہ سستا ڈبل کیبن گاڑیاں ،ای سگریٹ مہنگے، سگار، سگریٹ، انرجی ڈرنکس مہنگے،مہنگے اسکولوں پر ٹیکس دگنا،مقامی موبائل فون سستے اور بغیر شناختی کارڈ ٹرانزیکشن کی حد بڑھادی گئی،، سیمنٹ پر ڈیوٹی 75 اعشاریہ 1 فی کلو کم کرنے کی تجویز ہے، ٹیکس ادا کرنے کے لیے تنخواہ دار طبقے کے لیے ایپ متعارف کرائی گئی ہے، ٹیکس ناہندگان کے لیے اسکول فیس پر ٹیکس کی شرط برقرار ہے،2 لاکھ روپے سے زائد سالانہ فیس لینے والے تعلیمی اداروں کو 100 فیصد زائد ٹیکس دینا پڑے گا،ٹڈی دل کے خاتمے کے لیے 10 ارب روپے، کامیاب نوجوان پروگرام کے لیے 2 ارب روپے ، فنکاروں کی مالی امداد کے لیے 25 کروڑ سے بڑھا کر ایک روپے مختص کئے گئے ،کورونا وائرس کے تدارک کے لیے 12 سو ارب روپے سے زائد کے پیکیج کی منظوری دی گئی ہے، طبی آلات کی خریداری کے لیے 71 ارب روپے اور غریب خاندانوں کے لیے 150 ارب مختص کیے گئے ہیں،ہوٹل کی صنعت پر 6 ماہ کےلئے ٹیکس کی شرح ڈیڑھ فیصد سے کم کرکے 0.5 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے، ایمرجنسی فنڈ کے لیے 100 ارب روپے رکھے گئے ہیں،آزاد جموں کشمیر کے لیے 55 ارب، گلگت بلتستان کے لیے 32 ارب، خیبر پختون خوا میں ضم اضلاع کے لیے 56 ارب، سندھ کے لیے 19 ارب، بلوچستان کے لیے 10 ارب کی خصوصی گرانٹ رکھی گئی ہے

۔جمعہ کو اسپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزیر صنعت و پیداوار حماد اظہر نے بجٹ پیش کیا۔قومی اسمبلی میں مالی سال 21-2020 کی بجٹ تجاویز پیش کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے صنعت حماد اظہر نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کا دوسرا سالانہ بجٹ پیش کرنا میرے لیے اعزاز اور مسرت کی بات ہے۔انہوں نے کہا کہ وفاقی بجٹ میں دفاعی بجٹ 1290 ارب روپے ، ایف بی آر کی ٹیکس وصولیوں کا ہدف 4 ہزار 963 ارب روپے ، نان ٹیکس ریونیو کا ہدف 1610 ارب روپے ، این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں کے لیے 2 ہزار 874 ارب روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ،وفاقی حکومت کا خالص ریونیو کا تخمینہ 3 ہزار 700 ارب روپے ہے، اخراجات کا تخمینہ 7 ہزار 137 ارب روپے لگایا گیا ہے، مجموعی بجٹ خسارہ 3 ہزار 195 ارب روپے تجویز ، وفاقی بجٹ خسارہ 3 ہزار 437 ارب روپے مقرر کرنے کی تجویز، سبسڈیز کی مد میں 210 ارب روپے رکھنے کی تجویز، پنشن کی مد میں 470 ارب روپے رکھنے کی تجویز، صوبوں کو گرانٹ کی مد میں 85 ارب روپے فراہم کرنے کی تجویز، دیگر گرانٹس کی مد میں 890 ارب روپے رکھنے کی تجویز، آئندہ مالی سال کا وفاقی ترقیاتی بجٹ 650 ارب روپے رکھنے کی تجویز، نیا پاکستان ہاو¿سنگ کے لیے 30 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز، احساس پروگرام کے لیے 208 ارب روپے مختص کرنے کی تجویزاور سول اخراجات کی مد میں 476 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ اس کے علاوہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر 18 ارب ڈالر سے کم ہوکر 10 ارب ڈالر رہ گئے تھے جس کی وجہ سے ملک دیوالیہ ہونے کے قریب آگیا تھا۔انہوں نے کہا کہ طویل لاک ڈاو¿ن، ملک بھر میں کاروبار کی بندش، سفری پابندیوں اور سماجی فاصلہ برقرار رکھنے کے نتیجے میں معاشی سرگرمیاں ماند پڑ گئی ہیں جس کی وجہ سے مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو اور سرمایہ کاری پر منفی اثرات متب ہوئے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ بے روزگاری بڑھنے سے ترقی پذیر ممالک میں مشکلات میں مزید اضافہ ہوا جس سے پاکستان بھی نہ بچ سکا، مالی 20-2019 کے دوران پاکستان پر کورونا کے جو فوری اثرات ظاہر ہوئے ان کی تفصیل یہ ہے۔ تقریباً تمام صنعتیں، کاروبار بری طرح متاثر ہوئے، جی ڈی پی میں اندازاً 3300 ارب روپے کی کمی ہوئی جس سے اس کی شرح نمو 3.3 فیصد سے کم ہو کر منفی 0.4 فیصد تک رہ گئی، مجموعی بجٹ خسارہ جو ڈی پی کا 7.1 فیصد تھا وہ 9.1 فیصد تک بڑھ گیا، ایف بی آر محصولات میں کمی کا اندازہ 900 ارب روپے ہے، وفاقی حکومت نان ٹیکس ریونیو 102 ارب روپے کم ہوا، ترسیلات زر اور برآمدات بری طرح متاثر ہوئیں اور بے روزگاری اور غربت میں اضافہ ہوا۔حماد اظہر نے کہا کہ حکومت اللہ کے کرم سے اس سماجی اور معاشی چیلنج کا ڈٹ کر مقابلہ کر رہی ہے، اس مقصد کے لیے معاشرے کے کمزور طبقے اور شدید متاثر کاروباری طبقے کی طرف حکومت نے مدد کا ہاتھ بڑھایا ہے تاکہ کاروبار کی بندش و بے روزگاری کے منفی اثرات کا ازالہ کیا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ اس ضمن میں حکومت نے 1200 ارب روپے سے زائد کے ریلیف پیکج کی منظوری دی ہے، مجموعی طور پر 875 ارب روپے کی رقم وفاقی بجٹ سے فراہم کی گئی ہے جو درج ذیل کاموں کے لیے مختص ہے، طبی آلات کی خریداری، حفاظتی لباس اور طبی شعبے کے لیے 75 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں،

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے