Home / پاکستان / لاک ڈاٗون میں لوڈ شیڈنگ سمجھ سے بالا تر ہے ، چیف جسٹس

لاک ڈاٗون میں لوڈ شیڈنگ سمجھ سے بالا تر ہے ، چیف جسٹس

اسلام آباد (بیورو رپورٹ) سپریم کورٹ آف پاکستان کے ججز نے ریمارکس دیئے ہیں کہ کورونا وائرس نے لوگوں کو راتوں رات ارب پتی بنا دیا، کوئی ادارہ بظاہر کام نہیں کر رہا، ہر ادارے میں این ڈی ایم اے جیسا حال ہے،نہیں معلوم این ڈی ایم اے کیسے کام کررہا ہے، این ڈی ایم اے اربوں روپے اِدھر اْدھر خرچ کررہا ہے،جو ادویات باہر سے آرہی ہیں ، اس کی ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی سے منظوری سے ہونی چاہیے، چاہتے ہیں ہر چیز میں شفافیت ہو ،بیروزگاری کی وجہ حکومتی اداروں سے سہولت نہ ملنا ہے،کوئی ادارہ بظاہر کام نہیں کر رہا، ہ میں یاد ہے کہ ڈالر کبھی تین روپے کا ہوتا تھا،حکومت کا مستقبل کا ویژن کیا ہے وہ بھی بتائیں ، حکومت عوام کے مسائل کیسے حل کرے گی،

وزیراعظم کہتے ہیں کہ ایک صوبے کا وزیراعلیٰ آمر ہے، اس کی وضاحت کیا ہوگی;238;،وزیراعظم اور وفاقی حکومت کی اس صوبے میں کوئی رٹ نہیں ،پیٹرول، گندم، چینی کے بحران ہیں ، کوئی بندہ نہیں جو اس بحران کو دیکھے،آکسیجن سلنڈر کی قیمت 5 ہزار سے کئی گنا بڑھ گئی ہے، صوبائی حکومت شہریوں کے تحفظ میں ناکام ہو چکی ہے، حکومت کہاں ہے،قانون کی عمل داری کدھر ہے، 16 ملین ٹن گندم سندھ سے چوری ہوئی، اس کا کیا بنا،ٹڈی دل بھی ہے ،لگتا ہے نیب کے متوازی این ڈی ایم اے کا ادارہ بن جائےگا، یہ ساری چیزیں عوام اور پاکستان کے لیے تباہ کن ہیں ،لاک ڈاوَن کے دوران لوڈ شیڈنگ کس بات کی ہو رہی ہے،دکانیں اور ادارے بند ہیں پھر لوڈ شیڈنگ کیسی;238;جس ملک کے لوگوں کو 18 گھنٹے بجلی نہیں دیں گے تو وہ بات کیوں سنیں گے،

ہر شہری کو بنیادی سہولیات ملنی چاہیے، اس پرحکومت اپنا پلان دے،سندھ حکومت 4 ارب روپے لگڑری گاڑیوں کیلئے کیسے خرچ کرسکتی ہے،فیصل آباد کے علاقے رضا آباد سے گٹر سے نکلنے والا پانی پورے شہر میں پھیلا ہوا ہے، کیا پنجاب میں کوئی حکومت ہے،بارش سے لاہور میں کتنی بستیاں ڈوب گئیں ، کتنوں کو کرنٹ لگا ۔ جمعرات کو عدالت عظمیٰ میں چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ نے کورونا ازخود نوٹس کی سماعت کی، اس دوران اٹارنی جنرل برائے پاکستان خالد جاوید خان و دیگر حکام پیش ہوئے ۔ سماعت کے دوران نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کا معاملہ آیا تو چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ نہیں معلوم این ڈی ایم اے کیسے کام کررہا ہے، این ڈی ایم اے اربوں روپے اِدھر اْدھر خرچ کررہا ہے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ نہیں معلوم این ڈی ایم اے کے اخراجات پر کوئی نگرانی ہے یا نہیں ، اس کی جانب سے باہر سے ادویات منگوائی جارہی ہے تاہم یہ نہیں پتہ کہ یہ ادویات کس مقصد کے لیے منگوائی جارہی ہیں ۔ اپنے ریمارکس میں چیف جسٹس نے کہا کہ کورونا وائرس نے لوگوں کو راتوں رات ارب پتی بنا دیا، اس میں کافی سارے لوگ شامل ہیں ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ نہیں معلوم اس کمپنی کے پارٹنرز کون ہیں ، ایسی مہربانی سرکار نے کسی کمپنی کے ساتھ نہیں کی، اس کے مالک کا گھر بیٹھے کام ہوگیا، این ڈی ایم اے نے نجی کمپنی کی این 95 ماسک کی فیکٹریاں لگوا دیں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ باقی شعبوں کو بھی اگر ایسی سہولت فراہم کریں تو ملک کی تقدیر بدل جائے، بیروزگاری اسی وجہ سے ہے کہ حکومتی اداروں سے سہولت نہیں ملتی ۔ سماعت کے دوران ہی چیف جسٹس نے یہ بھی پوچھا کہ تعلیمی اداروں سے لوگ فارغ التحصیل ہو رہے ہیں ان کو کھپانے کا کیا طریقہ ہے;238; ہماری صحت اور تعلیم بیٹھی ہوئی ہے، کوئی ادارہ بظاہر کام نہیں کر رہا، ہر ادارے میں این ڈی ایم اے جیسا حال ہے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ حکومت کی معاشی پالیسی کیا ہے وہ نہیں معلوم، اگر حکومت کی کوئی معاشی پالسی ہے تو بتائیں ;238;، حکومت کا مستقبل کا ویژن کیا ہے وہ بھی بتائیں ، حکومت عوام کے مسائل کیسے حل کرے گی ۔ انہوں نے پوچھا کہ کیا عوامی مسائل پر پارلیمنٹ میں اتفاق رائے ہے، ٹی وی پر بیان بازی سے عوام کا پیٹ نہیں بھرے گا، عوام کو روٹی، پیٹرول، تعلیم، صحت اور روزگار کی ضروررت ہے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ وزیراعظم کہتے ہیں کہ ایک صوبے کا وزیراعلیٰ آمر ہے، اس کی وضاحت کیا ہوگی;238;،وزیراعظم اور وفاقی حکومت کی اس صوبے میں کوئی رٹ نہیں ہے ۔ دوران سماعت انہوں نے کہا کہ پیٹرول، گندم، چینی کے بحران ہیں ، کوئی بندہ نہیں جو اس بحران کو دیکھے ۔ حکومت کی اگر کوئی خواہش ہو توحکومت کو کوئی روک نہیں سکتا،حکومت ہر کام میں قانون کے مطابق ایکشن لے، اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ حکومت ایسے طاقتوں کے خلاف سرنڈر نہیں کررہی ۔ عدالت عظمیٰ میں سماعت کے دوران لوڈ شیڈنگ کا معاملہ بھی آیا جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ لاک ڈاوَن

کے دوران لوڈ شیڈنگ کس بات کی ہو رہی ہے، دکانیں اور ادارے بند ہیں پھر لوڈ شیڈنگ کیسی;238;چیف جسٹس نے کہا کہ جس ملک کے لوگوں کو 18 گھنٹے بجلی نہیں دیں گے تو وہ بات کیوں سنیں گے، جن کو روزگار، صحت اور دیگرسہولیات نہیں دیں گے تو وہ حکومت کی بات کیوں سنیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے عوام کے ساتھ اپنا معاہدہ توڑ دیا، آئین کا معاہدہ ٹوٹے بڑا عرصہ ہوچکا ہے، لوگ انتظار میں ہیں کہ انہیں کب پھل ملے گا، یہ پھل چند لوگوں کو مل گیا ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ پتہ نہیں اس پھل سے ہم اور آپ فائدہ اٹھا رہے ہیں یا نہیں ،جس پارلیمنٹ کو اس چیز کا احساس ہونا چاہیے، حکومت سے ہدایات لے کر بتائے کیا کرنا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہر شہری کو بنیادی سہولیات ملنی چاہیے، اس پرحکومت اپنا پلان دے ۔ اسماعت کے دوران سندھ حکومت کے معاملے پر چیف جسٹس نے کہا کہ سندھ حکومت 4 ارب روپے 400 لگژری گاڑیوں کے لیے کیسے خرچ کر سکتی ہے، یہ گاڑیاں صوبے کے حکمرانوں کے لیے منگوائی گئی ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ ایک گاڑی کی قیمت ایک کروڑ سولہ لاکھ ہے، اس طرح کی لگڑری گاڑیاں منگوانے کی اجازت نہیں دینگے، ساتھ ہی چیف جسٹس نے کہا کہ 4 ارب کی رقم سپریم کورٹ کے پاس جمع کرائیں ۔ چیف جسٹس نے یہ ریمارکس دیے کہ کراچی کے نالے صاف کرنے کے لیے پیسے نہیں ہیں ، کیا پنجاب، خیبرپختونخوا، بلوچستان ایسی گاڑیاں منگوا رہے ہیں ، جس پر ایڈووکیٹ جنرلز نے جواب دیے کہ کے پی اور پنجاب ایسی گاڑیاں نہیں منگوا رہے ۔ سندھ حکومت سے متعلق چیف جسٹس نے کہا کہ سندھ حکومت ٹڈی دل کے خاتمے کے لیے گاڑیاں منگوا رہی ہے، سندھ حکومت نے کتنی ڈبل کیبن گاڑیاں منگوائی ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ حکومت سندھ نے لاک ڈاوَن کرنا ہے تو کرے لیکن لوگوں کو کھانا، پانی اور بجلی فراہم کرے، صوبے میں 18 گھنٹے لوڈ شیڈنگ ہورہی ہے، اس پر جواب دیتے ہوئے ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ 18 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ پر رپورٹ دیں گے ۔ اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ سے بڑھ کر کوئی با اختیار نہیں ،

سندھ حکومت اپنے صوبے کو کہاں سے کہاں لے جاسکتی ہے، اگر وہ ایسا کرنا چاہے تو ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کراچی کا گجر نالہ بھرا پڑا ہے، اس کو صاف کرنے کا کسی کو خیال نہیں ۔ عدالت عظمیٰ میں سماعت کے دوران پائلٹس کے لائسنس کا معاملہ بھی زیر بحث آیا جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ سول ایوی ایشن پیسے لے کر پائلٹ کو لائسنس جاری کرتی ہے، ایسے لگتا ہے جیسے پائلٹ چلتا ہوا میزائل اڑا رہے ہوں ، وہ میزائل جو کہیں بھی جاکر مرضی سے پھٹ جائے ۔ کراچی میں پائلٹ حادثے کی رپورٹ پر ریمارکس دیتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ بتایا گیا کہ 15 سال پرانے طیارے میں کوئی نقص نہیں تھا، ساراملبہ پائلٹ اور سول ایوی ایشن پر ڈالا گیا، لگتا ہے ڈی جی سول ایوی ایشن کو بلانا پڑے گا ۔ بعد ازاں عدالت نے 2 ہفتے میں تمام معاملات کی تفصیلات طلب کرلیں ، ساتھ ہی کورونا ازخود نوٹس کی سماعت 3 ہفتوں کے لیے ملتوی کردی گئی ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے