Home / پاکستان / عہدے کے لئے مقصد نہیں بدل سکتا ، عمران خان

عہدے کے لئے مقصد نہیں بدل سکتا ، عمران خان

اسلام آباد (بیورو رپورٹ)وزیراعظم عمران خان نے حکومتی اور اتحادی جماعتوں کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس (آج) جمعہ کو طلب کرلیا۔ ذرائع کے مطابق حکومتی و اتحادی ارکان کو پارلیمانی پارٹی اجلاس میں شرکت کی ہدایت کی گئی،وزیراعظم نے تمام اراکین قومی اسمبلی کو ہفتہ کے اجلاس میں حاضری یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی،

وزیراعظم نے ملک بھر کے اراکین قومی اسمبلی کو ٹاسک سونپ دینے کا فیصلہ کرلیا،خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والے اراکین قومی اسمبلی کا ہنگامی اجلاس پختونخواہ ہاؤس میں طلب کرلیا گیا،اجلاس میں ہفتہ کو پارلیمنٹ کے خصوصی سیشن سے متعلق مشاورت کی جائے گی۔دوسری جانب اعتماد کے ووٹ کیلئے وزیراعظم عمران خان نے ملک بھرکے ارکان قومی اسمبلی کو ٹاسک سونپ دیے۔ذرائع کے مطابق گورنر سندھ عمران اسماعیل اور وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو بھی اسلام آباد بلالیا۔وزیراعظم عمران خان نے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کوپنجاب کے تمام ایم این ایز سے رابطوں کی ذمہ داری سونپ دی۔عمران خان نے اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی کو فون کیا، چوہدری پرویز الٰہی نے کہا کہ اتحادی ہیں، آئندہ بھی ساتھ چلیں گے۔ وزیراعظم نے وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال کو بھی ٹیلی فون کیا۔

خیال رہے کہ صدر مملکت عارف علوی نے قومی اسمبلی کا اجلاس 6 مارچ کو دن سوا 12بجے طلب کر لیا۔قومی اسمبلی اجلاس میں وزیر اعظم ایوان سے اعتماد کا ووٹ حاصل کریں گے، وزیراعظم آئین کے آرٹیکل 91 سیون کے تحت اعتماد کا ووٹ لیں گے۔قبل ازیں وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ میں بزدل نہیں مقابلہ کرنا جانتا ہوں، اقتدار کی خاطر خاموش ہو کر نہیں بیٹھوں گا، عہدے کے لیے اپنا مقصد نہیں بدل سکتا۔

جمعرات کو وزیر اعظم عمران خان کی زیرصدارت حکومتی رہنماوں کا اجلاس ہوا، جس میں وفاقی کابینہ ارکان اور نومنتخب سینیٹرز بھی شریک ہوئے، چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے اجلاس میں خصوصی شرکت کی۔اجلاس میں چیئرمین سینیٹ کے انتخاب کی حکمت عملی پر غور کیا گیا، اور وزیراعظم عمران خان نے صادق سنجرانی پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ چیئرمین سینٹ کے انتخاب میں ہمارے امیدوار ہوں گے۔عمران خان نے کہا کہ ملک میں نظام کی تبدیلی کا مشن لے کر آیا ہوں موقف سے پیچھے نہیں ہٹوں گا، میں اگر نظریہ پر سمجھوتا کر لوں حکومت کرنا آسان ہو جائے، اداروں کی مضبوطی اور شفافیت یقینی بنانے کیلئے جدوجہد جاری رہے گی


۔دوسری جانب وزیراعظم نے اپنا ایک ویڈیو بیان میں جاری کیا ہے جس میں ان کا کہنا تھا کہ مجھے اگر کوئی حکومت جانے کی خبریں دے کر بلیک میل کرنے کی کوشش کرے تو میں پھر بھی ان چوروں اور ڈاکوؤں کو نہیں چھوڑوں گا چاہے میری جان بھی چلی جائے، یہ میرا اپنی قوم سے وعدہ ہے۔دریں اثناء وزیر اعظم عمران خان نے (کل)ہفتہ کو قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینے کااعلان کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ارکان نے اعتماد کا اظہار نہ کیا تو اپوزیشن میں چلا جاؤں گا،اگر اقتدار میں نہ ہوں مجھے کوئی فکر نہیں،جب تک پیسہ واپس نہیں کرینگے،کسی کونہیں چھوڑونگا، قوم کو باہر نکالونگا،ملک عظیم تب بنے گا جب سارے ڈاکو جیلوں میں ہونگے،الیکشن کمیشن نے جمہوریت کو نقصان پہنچایا، آپ کو سپریم کورٹ نے موقع دیا تو کیا 1500 بیلٹ پیپرز پر بار کوڈ نہیں لگایا جاسکتا تھا؟،سینیٹ انتخابات میں 30، 40 سال سے پیسہ چل رہا ہے، اب سارا ڈرامہ عبدالحفیظ شیخ کی نشست کیلئے کیا گیا؟،نہ بلیک میل ہونگا اور نہ ہی این آراو دونگا۔


جمعرات کو سینٹ کے الیکشن پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہاکہ سینیٹ کے انتخابات جس طرح ہوئے ہیں انہی سے ملک کے مسائل کی وجہ سمجھ آجاتی ہے۔ وزیر اعظم نے کہاکہ چھ سال پہلے تحریک انصاف نے سینٹ انتخابات میں حصہ لیا، خیبر پختون خوا میں میری حکومت تھی،تب اندازہ ہوا سینٹ کے الیکشن میں پیسہ چلتا ہے،یہ تیس چال سال سے پیسہ چلتا آرہا ہے، جو سینیٹر بننا چاہتا ہے وہ پیسہ استعمال کرتا ہے وہ ممبران پارلیمنٹ کو خریدتا ہے۔ وزیر اعظم نے کہاکہ مجھے حیرت ہوئی ہے کہ یہ جمہوریت کے ساتھ کیسا مذاق ہورہا ہے، سینٹ کے اندر ملک کی لیڈر شپ آتی ہے اوران میں سے پاکستان سے لیڈر شپ آتی ہے ان میں سے وزیر، وزیر اعظم بنتے ہیں، مجھے تب سے حیرت ہوئی کہ ایک سینیٹر رشوت دیکر سینیٹر بن رہا ہے۔ وزیر اعظم نے کہاکہ جو ضمیر بیچ رہے ہیں یہ کونسی جمہوریت ہے؟ اس کے بعد میں نے تب سے مہم چلائی اور کہاکہ سینٹ انتخابات اوپن بیلٹ ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہاکہ 2018ء میں بیس ممبران پارلیمنٹ بک گئے تھے اور ہم نے بیس ممبران کو نکالا اور پھر دیکھا یہ دومین پارٹیز نے میثاق جمہوریت میں دستخط کئے کہ اوپن بیلٹ ہونا چاہیے کیونکہ سینٹ کے الیکشن میں پیسہ چلتا ہے اور بعد میں بیانات بھی آئے۔
وزیر اعظم نے کہاکہ ہم نے اوپن بیلٹ کیلئے بل پیش کیا تو یہ تمام

جماعتیں خفیہ بیلٹ پر اکٹھی ہوئیں اور خفیہ بیلٹ کی حمایت کی اور پھر سپریم کورٹ گئے اور اس کے بعد ویڈیو نکل آئی جو 2018ء میں ایم پی ایز پیسہ لے رہے ہیں اور جب عدالت میں بات چیت چل رہی ہے تو الیکشن کمیشن نے اوپل بیلٹ کیخلاف بیان دیا اور سپریم کورٹ کہتا رہا ہے کہ آپ کی ذمہ داری ہے شفاف الیکشن کریں اور پھر پی ڈی ایم میں سب اکٹھے ہوگئے اور ماضی میں خود کہتے رہے اوپن بیلٹ ہو نے چاہئیں اوراب ساروں نے زور لگایاکہ خفیہ بیلٹ ہونی چاہیے،یہ جمہوریت کے خلاف ہے،آئین کے خلاف ہے کیا پہلے آئین کے خلاف نہیں تھی۔ وزیر اعظم نے کہاکہ جب سے ہماری حکومت آئی ہے تب سے پرانی جماعتوں کی کرپٹ قیادت کو خوف آگیا کہ چونکہ میں نے کرپشن کے خلاف ہی مہم چلائی ہے تو کہیں یہ ہم پر ہاتھ نہ ڈال دیں، میں کہہ چکا تھا کہ جب ان پر ہاتھ پڑے گا تو یہ سب اکٹھے ہوجائیں گے اور ایسا ہی ہوا، انہوں نے مجھ پر ہر طرح سے دباؤ ڈالنے کی کوشش کی۔


انہوں نے کہاکہ یہ کیسز ہم نے نہیں بنائے یہ ان کے دور میں بنائے ہوئے،ہمارے دور میں پانچ فیصد کیسز نہیں ہونگے تب سے سب اکٹھے ہوگئے اور میرے اوپر اتنا پریشر ڈالو اور ہاتھ کھڑے کر کے این آر او دے دو۔ انہونے اپوزیشن کے حوالے سے کہاکہ پہلے کہا تھا الیکشن خراب ہے، پھر کرونا کے اوپر پوری کوشش کی اور پھر فیٹف کا بل آیا، ان کے دور میں ایک انٹر نیشنل ادارے میں پاکستان کوگرے لسٹ میں ڈال دیا گیا اور ہمیں کہا اگر آپ وہ نہیں کرتے تو بلیک لسٹ میں ڈال دیں گے،اس کا مطلب ہے ہمارا روپیسہ گر نا شروع ہوجائیگا اور ہمارا روپیسہ کتنا گرتا ہے یہ کوئی نہیں کہہ سکتا ہے جب روپیہ گرتا ہے اور پھر مہنگائی بڑھ جاتی ہے جس میں تیل، بجلی،ڈالر، گھی اور دالیں باہر سے آتی ہے اور گندم بھی باہر منگوانی پڑی ہے اور جو بھی چیز باہر سے آتی ہے تو سب مہنگی ہو جاتی ہے۔ وزیر اعظم نے کہاکہ ہم فیٹف کیلئے قانون بنانا چاہتے تھے ان سب نے ملکر این آر او کا مسودہ دے یا اور کہا نیب کو خترم کر ے پھر فیٹف کی حمایت کرینگے،نیب کا فیٹف سے کیا تعلق ہے ان کا ون پوائنٹ ایجنڈا ہے کہ کسی طرح بلیک میل کر کے این آر او دے دیں۔

وزیر اعظم نے کہاکہ سب کہہ رہے تھے سینٹ کے الیکشن میں پیسہ چلتا ہے اور سب اکٹھے ہو گئے اور سپریم کورٹ میں زور زور سے کہا ہمیں خفیہ بیلٹ چاہیے اس کی وجہ یہ تھی اور انہوں نے پلان کیا، یوسف رضا گیلانی اور شیخ حفیظ کے الیکشن میں پیسہ چلانا تھا اور پوری کوشش کر نا تھی ان کے ممبران توڑیں اور الیکشن جیتیں اور جب حفیظ شیخ نے جیتنا تھا اور کہنا ہے عمران خان کی اکثریت ختم ہو گئی،ان کا مقصد تھا کہ اعتماد کے ووٹ کی تلوار مجھ پر لٹکائیں اور میں این آر او دوں لیکن میں اپوزیشن کے ہاتھوں نہ بلیک میل ہوں گا نہ این آر او دوں گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے