کراچی( اسٹاف رپور ٹر)چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ موجودہ سلیکٹڈ حکومت میں اداروں کو متنازع بنادیا گیا اب وقت آگیا ہے کہ سلیکٹڈ حکومت کو گھر بھیجنے کے لیے فیصلہ کن اقدام اٹھایا جائے۔کراچی مزار قائد کے سامنے سانحہ کارساز کے بارہ سال مکمل ہونے پر جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ جس طرف نظر دوڑایں آپ کو بے انصافی نظر آئے گی، ملک کو آئی ایم ایف کے پاس گروی رکھ دیا گیا ہے، سی پیک پر کام رک گیا ہے، ملک کے اداروں کو متنازع بنادیا گیا ہے، یہ پاکستان کے ادارے ہیں ان کا تحفظ ہم ہی کریں گے ہم چاہتے ہیں ہمارے ادارے غیر متنازع رہیں۔چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ حکومت کو مزید وقت دینا ملک کی سالمیت سے کھیلنے کے برابر ہوگا، خان کی دھاندلی زدہ حکومت کو گھر بھیجیں گے اور ملک کو سیاسی بحران سے بچانے کے لیے سلیکٹر کو اپنا لاڈلہ چھوڑنا ہوگا، اب وقت آگیا ہے کہ سلیکٹڈ حکومت کو گھر بھیجنے کے لیے فیصلہ کن اقدام اٹھایا جائے۔بلاول بھٹو نے کہا کہ 2007 ملک اور اس کے قوم کے لیے بھاری سال تھا، بے نظیر نے اپنی جان دے دی لیکن کسی دہشت گرد یا آمر کے سامنے نہیں جھکیں، سانحہ کارساز کو 12 سال گزر چکے، ہم اپنے شہدا کو بھولے اورنہ ہی بھولیں گے۔بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ اس جماعت کا سفر ذوالفقار علی بھٹو سے شروع ہوا۔ پیپلز پارٹی نے خوشیاں بھی دیکھیں ہیں اور غم بھی دیکھے ہیں۔ سانحہ کارساز کی تلخ یادیں آج بھی زندہ ہیں۔ ہم اپنے شہدا کو کبھی نہیں بھول سکتے۔ 2007 کا سال ہمارے ملک اور عوام کے لئے تاریک سال تھا۔ ایک طرف ایک ڈکٹیٹر تھا اور دوسری طرف دہشت گردی کا راج تھا۔ بینظیر بھٹو نے اپنی جان تو دے دی لیکن کسی آمر اور دہشت گرد کے آگے سر نہیں جھکایا، وہ مر کر بھی ہمیں جینا سکھا گئیں۔بلاول بھٹو نے کہا کہ 2018 کے الیکشن میں جو کچھ ہوا وہ سب کے سامنے ہے۔ ملک کی تاریخ میں پہلی بار 3 دن تک الیکشن کے رزلٹ نہیں دیے گئے۔ سیاسی لوگوں کو نااہل کروایا گیا، جیل میں بھیجا گیا۔ اس ملک کی تاریخ میں پہلی بار فوج کو پولنگ کے اندر کھڑا کیا گیا۔ جب دہشتگردی عروج پر تھی تب بھی ایسا نہیں کیا گیا۔چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ کوئی بتائے گا کس نے اس ملک کو آئی ایم ایف کے سامنے گروی رکھا؟ سی پیک پر کام بند کر دیا گیا جبکہ معیشت ڈوب رہی ہے۔ میری نظر میں یہ سنگین جرائم ہیں۔ کیا یہ وہ پاکستان ہے جس کے لئے ہمارے پیاروں نے قربانیاں دیں؟ان کا کہنا تھا کہ ہمیں اس حکومت کو باہر کرنا پڑے گا۔ ہم پورا نظام بے نقاب کریں گے۔ ہم کب تک سلیکشن برداشت کرتے رہیں گے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ اس حکومت کے خلاف فیصلہ کن سیاست کی جائے۔ حکومت کو مزید وقت دینا اس ملک کی سالمیت سے کھیلنے کے مترادف ہوگا۔
Akhbar e nau The News Portal