وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے بڑے پتے کی بات بتائی ہے ‘ اتوار کے روز وزیراعلیٰ چھٹی کے باوجود شہر کے طوفانی دورے پر نکلے تھے۔ یہ دورہ اتنا طویل تھا کہ وزیراعلیٰ چار گھنٹے سے زیادہ وقت تک سڑکوں پر موجود رہے اکثر مقامات پر لوگوں نے وزیراعلیٰ سے کراچی میں بڑھتے ہوئے اسٹریٹ کرائم کی شکایت کی جس کے جواب میں انہوں نے لوگوں سے اتفاق کیا کہ اسٹریٹ کرائم یقینا بڑھ گئے ہیں ۔ اسٹریٹ کرائم بڑھنے کی وجہ مجھے پہلے ہی آئی جی سندھ بتاچکے ہیں اور وجہ یہ ہے کہ لوگ معاشی بدحالی کا شکار ہیں اور نوجوانوں کی اکثریت بے روز گار ہیں جو اسٹریٹ کرائم میں ملوث ہورہے ہیں۔ وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ نے بھی اسٹریٹ کرائم بڑھنے کی وجہ معاشی بدحالی بتائی ‘ انہوں نے کہاکہ جب لوگوں کے پاس کھانے کے لیے کچھ نہیں ہوگا تو وہ کیا کریں گے ‘ یقینا بد حالی اور بھوک جرائم کو جنم دیتی ہے ۔ جس ملک میں لوگ بے روزگاری ‘ معاشی بدحالی اور بھوک کا شکار ہوتے ہیں تو اس کی ذمہ دار ریاست ہوتی ہے اور جب مذکورہ ٹھوس وجوبات کی بنا پر لوگ جرائم میں ملوث ہوتے ہیں حاکم وقت کو جواب دینا پڑتا ہے کیونکہ جب جرائم عروج پر پہنچ جائیںتو معاشرہ انارکی کاشکار ہوجاتا ہے۔ سندھ میں گزشتہ گیارہ سال سے حکومت پیپلزپارٹی کی ہے اور ان گیارہ سالوںمیں اگر نوجوانوں کو روزگارنہیں ملا تو اس کا ذمہ دار کسی اور کو کیسے قرار دیا جاسکتا ہے۔ سندھ میں طویل عرصہ تک سرکاری ملازمتوں پر پابندی رہی ہے اور اس دوران تعلیمی اداروں سے ہزاروں کی تعداد میں نوجوان فارغ التحصل ہوتے رہے اور ملازمتوں کے حصول کے لیے وہ مارے مارے پھرتے رہے یہاں تک کہ ان نوجوان کی عمر کی حد اتنی بڑھ گئی کہ وہ سرکاری ملازمت کے قابل ہی نہیں رہے۔ یہ تو اچھا ہوا کہ سندھ حکومت نے جب ملازمتوں سے پابندی اٹھائی تو سرکاری ملازمت کے لیے عمر کی حد میں دس سال کی رعایت دی گئی جس کے نتیجے میںبڑی قلیل تعداد میں نوجوانوں کو سرکاری ملازمتوں میں کھپایا گیا۔ اس میں بھی وہ نوجوان کامیاب ہوئے جن کی سفارش مضبوط تھی یا پھر وہ مٹھی گرم کرنے کی استطاعت رکھتے ہیں۔ کون نہیں جانتا کہ گزشتہ ادوار میں سندھ میں ملازمتیں فروخت کی جاتی تھی۔ شعبہ تعلیم میں اساتذہ کی بھرتیوں کا معاملہ ہمارے سامنے ہے ‘ 2012 میں پرائمری جماعت کےلئے بڑے پیمانے پر اساتذہ کی بھرتیاں کی گئیں اور ایسے لوگوں کو بھی ٹیچر بھرتی کرلیا گیا جو ٹیچر تو کیا چو کیدار بھرتی ہونے کے قابل بھی نہیں تھے۔ سابق وزیرتعلیم اور موجودہ وزیر ثقافت سید سردار علی شاہ کا یہ بیان سندھ اسمبلی کے ریکارڈ پر موجودہ ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ سندھ میں ان لوگوں کو ٹیچر بھرتی کیا گیا جو لفظ ٹیچر کی بھی توہین ہے۔ ایک شعبہ تعلیم ہی کیا سندھ کاکوئی محکمہ ایسا نہیں ہے جہاں نااہل لوگوں کو بھرتی نہ کیا گیا ہو ‘ وزیربلدیات خود یہ فرماچکے ہیں کہ کراچی کے بلدیاتی اداروں میں بھرتیاں اس دور میں ہوئیں جب بھرتی کرانے والے خود حکومتی اتحاد کا حصہ تھے۔ معاشی بدحالی محض 13ماہ میں نہیں آئی بلکہ یہ 13سالہ حکومتی کارکردگی کانتیجہ ہے ‘ کرائم میں ملوث ہونے والے افراد میں صرف کراچی یا سندھ کے نوجوان ملوث نہیں ہیں بلکہ اس کی بڑی تعداد ملک کے دیگر علاقوں سے کراچی آنے والے لوگ ہیں جن میں سب سے بڑی تعداد افغانیوں کی ہے۔ حکومت اسٹریٹ کرائم روکنے کی خواہاں ہے تو اسے کراچی کی جانب دیگر علاقوں سے ہونے والی نقل مکانی کے لیے ٹھوس اور قابل عمل پالیسی بنانی چاہیے۔
Akhbar e nau The News Portal